’ہجوم میں پھنسے کانسٹیبل نے دفاع میں چلایا اے کے 47‘، سیوان فائرنگ معاملے پر بہار حکومت کا سپریم کورٹ میں جواب
Awaz E Bihar••49 ویوز•4 منٹ پڑھیں
پٹنہ :(اے بی این ) بہار میں طلباء کے احتجاجی مظاہروں کے دوران پولیس کی بربریت کے تعلق سے دائر کی گئی مفاد عامہ کی عرضیوں پر ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کیا ہے۔ حکومت نے پولیس پر غیر متناسب طاقت کے استعمال کے الزامات سے انکار کیا۔ حکومت نے کہا ہے کہ قانونی نظم و نسق بگڑنے پر پولیس نے بھیڑ کو قابو کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے۔ وہیں سیوان میں پولیس اہلکار کے ذریعہ ’اے کے-47‘ سے فائرنگ کے معاملے میں ریاستی حکومت نے کہا ہے کہ ’’ہجوم میں پھنس جانے کے بعد کانسٹیبل نے ہوا میں 4 گولیاں چلائی تھیں۔‘‘ حکومت کے مطابق ’اے کے-47‘ سے مظاہرین کو چوٹ نہیں لگی ہے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت نے یہ بھی قبول کیا ہے کہ ہتھیار کا استعمال قانونی نظم و نسق کی صورتحال میں نہیں کیا جانا چاہئے۔ ’اے کے-47‘ کو پلاٹون سطح کا ہتھیار بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسے خصوصی آپریشنز کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ریاست کے ڈی جی پی نے ’اے کے-47‘ کے استعمال کو لے کر ہدایت بھی جاری کی ہے۔ فائرنگ کرنے والے کانسٹیبل کو معطل کر کے اس کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ حکومت نے بتایا کہ ایک ’اے ایس آئی‘ نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے اپنی 9 ایم ایم پستول سے 2 راؤنڈ فائر کیے، اس دوران 3 مظاہرین زخمی ہوئے۔ حکومت کے مطابق ان مظاہرین کو ’اے کے-47‘ سے گولی نہیں لگی تھی اور وہ اس جگہ پر بھی موجود نہیں تھے، جہاں ’اے کے-47‘ سے فائرنگ ہوئی تھی۔ حکومت نے بتایا کہ واقعے کی بیلسٹک جانچ جاری ہے، جس سے ہتھیار کی قسم، گولی چلنے کا فاصلہ اور فائرنگ کے زاویے کی تفصیل جمع کی جا رہی ہے۔ حکومت نے حلف نامے میں بتایا کہ طلباء اور نوجوان تنظیموں کے مظاہرین سیوان کے گاندھی میدان میں جمع ہوئے تھے۔ اس کے بعد مظاہرین جے پی چوک کی طرف مارچ کرنے لگے۔ دوپہر میں مظاہرین نے پولیس فورس پر پتھراؤ شروع کر دیا۔ اس کے بعد میروہ روڈ اور گوپال گنج روڈ کی جانب سے آئے شرپسند عناصر بھی پتھراؤ میں شامل ہو گئے اور صورتحال پرتشدد ہو گئی۔حلف نامے میں بتایا گیا کہ پتھراؤ کے واقعے میں سیوان کے پولیس سپرنٹنڈنٹ سمیت 20 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ ان میں 2 ایس ڈی پی او، 2 انسپکٹر، 2 سب انسپکٹر اور 13 کانسٹیبل شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی پولیس کی 2 گاڑیوں اور بڑی تعداد میں ٹریفک ٹرالیوں کو بھی نقصان پہنچنے کی بات کہی گئی ہے۔ ریاستی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ پورے احتجاج کے دوران 157 پولیس اہلکار اور 7 سرکاری ملازمین زخمی ہوئے۔ حکومت نے بتایا کہ پر تشدد ہجوم کو قابو میں کرنے کے لیے واٹر کینن اور آنسو گیس کے گولے بھی داغے گئے۔ قانونی نظم و نسق کو سنبھالنے کے لیے مختلف محکموں اور پولیس لائنوں میں تعینات افسران اور جوانوں کو بھی موقع پر بلایا گیا۔ حکومت نے بتایا کہ تشدد سے وابستہ معاملوں میں کل 82 لوگوں کے خلاف 6 ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ ان میں سے 17 لوگوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ پولیس نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ کیس کی تفتیش جاری ہے۔ ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ احتجاج کے دوران مختلف مقامات پر ہونے والے تشدد میں مجموعی طور پر 157 پولیس اہلکار اور 7 سرکاری ملازمین زخمی ہوئے۔حکومت کے مطابق پرتشدد ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے واٹر کینن اور آنسو گیس کے گولے استعمال کیے۔ حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے مختلف محکموں اور پولیس لائنوں میں تعینات اضافی افسران اور جوانوں کو بھی موقع پر طلب کیا گیا۔ حکومت کا مجموعی موقف یہ ہے کہ پولیس نے مظاہرین پر بلاجواز یا غیر متناسب طاقت کا استعمال نہیں کیا، بلکہ احتجاج کے پرتشدد ہونے کے بعد امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کارروائی کی۔ تاہم اے کے-47 کے استعمال کو حکومت نے ضابطے کے مطابق نہ ہونے کی بات تسلیم کی ہے، جس کے بعد متعلقہ کانسٹیبل کی معطلی اور محکمانہ کارروائی کی گئی ہے۔ ریاستی حکومت کے مطابق طلباء اور نوجوان تنظیموں سے وابستہ مظاہرین سیوان کے گاندھی میدان میں جمع ہوئے تھے۔ بعد میں مظاہرین جے پی چوک کی جانب مارچ کرنے لگے۔حکومت کے مطابق دوپہر کے وقت مظاہرین کی جانب سے پولیس فورس پر پتھراؤ شروع کر دیا گیا۔ اسی دوران میروہ روڈ اور گوپال گنج روڈ کی طرف سے آنے والے بعض شرپسند عناصر بھی مبینہ طور پر پتھراؤ میں شامل ہو گئے، جس کے بعد صورتحال پرتشدد ہو گئی۔