جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
جسٹس ورما کے بارے میں انکوائری کمیٹی کی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش، تمام الزامات درست پائے گئے
  1. ہوم
  2. قومی
قومی

جسٹس ورما کے بارے میں انکوائری کمیٹی کی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش، تمام الزامات درست پائے گئے

Awaz E Bihar•12 اگست، 2026 کو 05:22 PM•28 ویوز•3 منٹ پڑھیں

دہلی ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس یشونت ورما کی رہائش گاہ پر آگ لگنے کے واقعے کے وقت نقد رقم ملنے سے متعلق معاملے کی جانچ کے لیے تشکیل دی گئی تین رکنی انکوائری کمیٹی نے ان کے خلاف لگائے گئے تمام الزامات کو درست قرار دیا ہے۔سپریم کورٹ کے جج جسٹس اروند کمار کی صدارت میں ججز (انکوائری) ایکٹ 1968 کے تحت تشکیل دی گئی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ بدھ کے روز پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پیش کی گئی۔ کمیٹی کے دو دیگر ارکان بامبے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس شری چندر شیکھر اور کرناٹک ہائی کورٹ کے سینئر ایڈووکیٹ بی وی آچاریہ ہیں۔ دو جلدوں پر مشتمل یہ رپورٹ دونوں ایوانوں میں بالترتیب لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے سکریٹری جنرلز نے پیش کیں ۔ یہ انکوائری رپورٹ 14 مارچ 2025 کی رات جسٹس ورما کی تغلق کریسنٹ، دہلی میں واقع سرکاری رہائش گاہ میں آگ لگنے کے واقعے کے دوران 500 روپے کے جلے ہوئے، آدھے جلے اور گیلے نوٹوں کی گڈی ملنے سے متعلق ہے۔انکوائری کمیٹی نے رپورٹ میں کہا ہے کہ جسٹس ورما کی سرکاری رہائش گاہ سے بے حساب نقد رقم ملی جس کے ذریعہ کا وہ تسلی بخش جواب نہیں دے سکے۔ کمیٹی نے پایا کہ انہوں نے ثبوتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی اور جانچ کے دوران سوالات کے تسلی بخش جواب نہیں دیے۔ اس واقعے کی جانچ شروع ہونے کے بعد انہیں اپریل میں الہ آباد ہائی کورٹ میں منتقل کر دیا گیا تھا۔ جج کو عہدے سے ہٹانے کے لیے 200 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے گزشتہ سال مانسون سیشن میں لوک سبھا اسپیکر کو تجویز پیش کی تھی۔ اس کے بعد اسپیکر نے معاملے کی جانچ کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔

جسٹس ورما نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے سامنے اپنا موقف رکھتے ہوئے کہا تھا کہ جس اسٹور روم میں آگ لگی اس کا استعمال فرنیچر، بوتلیں، کراکری وغیرہ جیسی بیکار اشیاء کے لیے کیا جا رہا تھا اور یہ مرکزی رہائش گاہ سے منسلک نہیں تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ اور ان کی اہلیہ واقعے کے وقت رہائش گاہ پر موجود نہیں تھے اور آگ بجھنے کے بعد ان کے خاندان یا اسٹاف کے کسی رکن کی طرف سے کوئی نقد رقم یا کرنسی نوٹ نہیں دیکھے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی طرف سے یا ان کے خاندان کے کسی رکن کی طرف سے وہاں کوئی نقد رقم نہیں رکھی گئی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان کو دکھائے گئے مواد سے سازش کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔ بعد میں اس تنازع کے طول پکڑنے پر جسٹس ورما نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

شیئر کریں:

More from قومی

 مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے
قومی

مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے

29 ستمبر، 2026
امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ
قومی

امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ

27 ستمبر، 2026
ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن
قومی

ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن

26 ستمبر، 2026
گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ
قومی

گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ

25 ستمبر، 2026
گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی
قومی

گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی

24 ستمبر، 2026
الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا
قومی

الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا

23 ستمبر، 2026