جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
بابری مسجد کی شہادت یا مسلمانوں کے جاہ وجلال کا قتل
  1. ہوم
  2. مضامین
مضامین

بابری مسجد کی شہادت یا مسلمانوں کے جاہ وجلال کا قتل

Awaz E Bihar•6 دسمبر، 2025 کو 08:41 AM•2 ویوز•5 منٹ پڑھیں

محمد اکرام الحق
آپ کی خدمت میں ایک بار پھر سے حاضر ہوں -6 دسمبر 1992 ء کا دن ہندوستان کی تاریخ میں ایک سیاہ دن تھا - یا مسلمانوں کے جاہ وجلال کے قتل کا دن تھا - اس دن ہندوستان میں جمہوریت کو سرعام ننگا کیا گیا تھا - بابری مسجد کو ہندوستانی فوجوں کے سامنے شہید کیا گیا - اترپردیش کی حکومت نے مرکزی حکومت کے سربرا موجودہ وزیراعظم آنجہانی نر سینھگ راؤ کو یہ یقین دہانی کرایء گی تھی ، کار سیوک صرف پوجا ارچنا کر کے واپس ہو جائے گا ، مسجد کے ڈھانچے پر کوئی آنچ نہیں اے گا - لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا - نشانہ مسجد تھی ، سابق وزیرِ اعلیٰ آنجہانی کلیان سنگھ کے اشارے پر ساڑھے تیںن سو سال کی پرانی مسجد کو لاکھوں کار سیوکوں نے محض ساڑھے تین گھنٹے میں زمین بوس کر دیا - مالک میں جمہوریت کا قتل ہو رہا تھا اور ملک کا وزیراعظم TV دیکھ رہے تھے - جب مسجد پر ہتھوڑے چل رہے تھے تو مرکز میں کانگریس کی حکومت تھی اور اترپردیش میں بھاجپا کی حکومت تھی - بابر قابل سے 1526 ء میں پانی پر کے میدان میں بھارت کے بادشاہ ابراہیم لودھی کو شکست دے کر ہندوستان کا شہنشاہ بنا - اور 1528 میں ایودھیا میں فوج کے سپہ سالار میر باقی کی رہنمائی میں بابری مسجد کا سنگ بنیاد رکھی ، اور اسی سن عیسوی میں مسجد کی تعمیر مکمل ہو گیا - اس مسجد میں بابر کو نماز پڑھنی کی کبھی توفیق نہیں ہوا - سن 1885 ء میں سنت رگھوویر داس نے پہلا مقدمہ کیا اس کے قریب رام مندر بنانے کے لئے - انگریزی حکومتوں نے اسے ہوا دیا - لیکن مسجد میں با ضابطہ با جماعت نماز ہوتی رہی - 22 دسمبر 1949 ء کی رات میں عشاء کی جماعت ہویء ، جو اس مسجد کی آخری نماز ثابت ہوئیں - جب فجر کی نماز کے لئے مسجد داخل ہوےء تو قبل ہی سے مسجد میں مورتی رکھی ہویء تھی -اسی وقت مسجد میں تالا لگا دیا گیا - پھر نماز کے لئے کبھی تالا نہیں کھولیں گی - اب ہندو وشو پرسد کے ذریعہ اس پر رام جنم بھومی کا دعویٰ عدالت میں دائر کر دیا گیا - اسی بابری مسجد اور رام جنم بھومی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو 1980 میں جنم دیا - تب سے بابری مسجد اور رام جنم بھومی سیاست کا مرکز بن گیا ہے ، 24 اکتوبر 1989 بھاگلپور فرقہ وارانہ فسادات اس کا زندہ مثال ہے - اب برقہ پرست جماعتوں کے پاس رام مندر اور بابری مسجد ایک طاقت ور ایشوز ہو گیا ، اس کو جو سیاسی ہوا ملی اسی سیاسی ہواؤں نے بھاجپا کو اقتدار میں لایا اور سکیولر کو اقتدار سے بے دخل کیا - بہت ہی افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے آج مرکزی حکومت میں 20 کڑور مسلمانوں میں ایک بھی کابینہ کارکن نامزد نہیں ہے ، ایک بھی وزیر نہیں ہے - بہار کی حکومت میں نتیش کمار کے رحم وکرم پر ایک وزیر جاماں خان ہے - 1980 سے 2010 ءتک مقدمہ بازی ہوا ، نرموہی اکھاڑہ اور دیگر ہندو تنظیموں نے رام مندر کی تعمیر کے لئے مقدمہ دایر کیا - 2010 میں الہ اباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں تنازعہ زمین کو تین حصوں میں بانٹا دیا جس میں ایک حصہ بابری۔مسجد ایکشن کمیٹی کو بھی ملا ، لیکن اس فیصلہ کو کوئی بھی فریق تسلیم نہیں کیا - لیکن جب 2014 میں کانگریس کی حکومت کا آفتاب غر وڈ ہو گیا اور بھاجپا کی حکومت سلطنت پرقآبض ہو گیا تو مسلمانوں کی امیدیں عدلیہ سے بھی آٹھ گیا - ہوا وہی جس کا خوف اور خطرہ تھا - 9 نومبر 2019 کو عدالت اعظمی نےتمام ثبوتوں کا رہتے ہوئے بابری مسجد کے حق میں فیصلہ نہیں دیا - عدالت اعظمی نے اس بات کو قبول کیا کسی بھی رام جنم بھومی کو توڑ کر مسجد کی تعمیر ‌ نہیں کیا گیا ہے - لیکن ایودھیا اور رام سے ہندؤں کا استھا جوٹا ہوا ہے ، اس لئے عدالت اعظمی استھا کی بنیاد پر ہندؤں کو مسجد کی جگہ پر مندر تعمیر کرنے کی اجازت دیتی ہے - ایودھیا میں اس کے بدلے کوئی ۔مسجد تعمیر ‌ نہیں ہو گی - بلکہ دیگرجگہ 5 ایکڑ میں سرکار کی اخراجات پر مسجد کی تعمیر کرنے کی اجازت ہے - اس فیصلوں کا سبھی ہندو تنظیموں نے استقبال کیا ۔مگر ۔مسلمانوں نے اس کی ۔ مذمت کیا اور اپنے غ۔ روحوں کا اظہار کیا - آج تک حکومت نے مسجد کے لئے 5 ایکڑ زمین مہیا نہیں کر سکا ہے - آج اس ملک میں مسلم قیادت کے نام پر سکیولر جماعت کو اقتدار سے باہر کا راستہ دیکھا دیا ہے ، آج اس ملک میں ۔مسلمان سیاسی اعتبار سے کب سے کمزور اور ‌نازک دور سے گزر رہا ہے ، اس کے بعد بھی 5 سیٹ جیت کر جشن منا رہے ہیں ، اس قوم کو اپنی بربادی کا کوئی غم اور ملال نہیں ہے - بلکہ پتنگ بازی میں مدہوش ہے - اس قوم کی ڈوبتی کشتی کو قدرت ہی بچا سکتی ہے - بہار میں کبھی 35 پر تھے آج 11 پر آکر سیاسی اعتبار سے بہت کمزور ہو گیے ہیں ، اس حیدرابادی بریانی نے ہم سے سیاسی شعور چھین کر ہاتھوں میں پتنگ کا ڈور تھما دیا ہے ، اس لئے زمین کی قایق ہمیں نظر نہیں آتی ہے -
شیئر کریں:

More from مضامین

عبد الجلیل مستان
مضامین

عبد الجلیل مستان

28 ستمبر، 2026
آٹھ سال کے بعد اردو ڈائرکٹریٹ، پٹنہ کا بے مثال جشن اردو
مضامین

آٹھ سال کے بعد اردو ڈائرکٹریٹ، پٹنہ کا بے مثال جشن اردو

28 اگست، 2026
آزادی کے بعد آزادی کی تلاش،خواب ابھی باقی ہے
مضامین

آزادی کے بعد آزادی کی تلاش،خواب ابھی باقی ہے

21 اگست، 2026
سپریم کورٹ کا حکم، انتظامی ضوابط اور جدید معاشی تحفظ کا پیغام
مضامین

سپریم کورٹ کا حکم، انتظامی ضوابط اور جدید معاشی تحفظ کا پیغام

21 اگست، 2026
شوبھندو حکومت کے 100 دن
مضامین

شوبھندو حکومت کے 100 دن

20 اگست، 2026
​پولیس تشدد کے خلاف اہم فیصلہ
مضامین

​پولیس تشدد کے خلاف اہم فیصلہ

13 جولائی، 2026