بابری مسجد کی شہادت یا مسلمانوں کے جاہ وجلال کا قتل
Awaz E Bihar••2 ویوز•5 منٹ پڑھیں
محمد اکرام الحق آپ کی خدمت میں ایک بار پھر سے حاضر ہوں -6 دسمبر 1992 ء کا دن ہندوستان کی تاریخ میں ایک سیاہ دن تھا - یا مسلمانوں کے جاہ وجلال کے قتل کا دن تھا - اس دن ہندوستان میں جمہوریت کو سرعام ننگا کیا گیا تھا - بابری مسجد کو ہندوستانی فوجوں کے سامنے شہید کیا گیا - اترپردیش کی حکومت نے مرکزی حکومت کے سربرا موجودہ وزیراعظم آنجہانی نر سینھگ راؤ کو یہ یقین دہانی کرایء گی تھی ، کار سیوک صرف پوجا ارچنا کر کے واپس ہو جائے گا ، مسجد کے ڈھانچے پر کوئی آنچ نہیں اے گا - لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا - نشانہ مسجد تھی ، سابق وزیرِ اعلیٰ آنجہانی کلیان سنگھ کے اشارے پر ساڑھے تیںن سو سال کی پرانی مسجد کو لاکھوں کار سیوکوں نے محض ساڑھے تین گھنٹے میں زمین بوس کر دیا - مالک میں جمہوریت کا قتل ہو رہا تھا اور ملک کا وزیراعظم TV دیکھ رہے تھے - جب مسجد پر ہتھوڑے چل رہے تھے تو مرکز میں کانگریس کی حکومت تھی اور اترپردیش میں بھاجپا کی حکومت تھی - بابر قابل سے 1526 ء میں پانی پر کے میدان میں بھارت کے بادشاہ ابراہیم لودھی کو شکست دے کر ہندوستان کا شہنشاہ بنا - اور 1528 میں ایودھیا میں فوج کے سپہ سالار میر باقی کی رہنمائی میں بابری مسجد کا سنگ بنیاد رکھی ، اور اسی سن عیسوی میں مسجد کی تعمیر مکمل ہو گیا - اس مسجد میں بابر کو نماز پڑھنی کی کبھی توفیق نہیں ہوا - سن 1885 ء میں سنت رگھوویر داس نے پہلا مقدمہ کیا اس کے قریب رام مندر بنانے کے لئے - انگریزی حکومتوں نے اسے ہوا دیا - لیکن مسجد میں با ضابطہ با جماعت نماز ہوتی رہی - 22 دسمبر 1949 ء کی رات میں عشاء کی جماعت ہویء ، جو اس مسجد کی آخری نماز ثابت ہوئیں - جب فجر کی نماز کے لئے مسجد داخل ہوےء تو قبل ہی سے مسجد میں مورتی رکھی ہویء تھی -اسی وقت مسجد میں تالا لگا دیا گیا - پھر نماز کے لئے کبھی تالا نہیں کھولیں گی - اب ہندو وشو پرسد کے ذریعہ اس پر رام جنم بھومی کا دعویٰ عدالت میں دائر کر دیا گیا - اسی بابری مسجد اور رام جنم بھومی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو 1980 میں جنم دیا - تب سے بابری مسجد اور رام جنم بھومی سیاست کا مرکز بن گیا ہے ، 24 اکتوبر 1989 بھاگلپور فرقہ وارانہ فسادات اس کا زندہ مثال ہے - اب برقہ پرست جماعتوں کے پاس رام مندر اور بابری مسجد ایک طاقت ور ایشوز ہو گیا ، اس کو جو سیاسی ہوا ملی اسی سیاسی ہواؤں نے بھاجپا کو اقتدار میں لایا اور سکیولر کو اقتدار سے بے دخل کیا - بہت ہی افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے آج مرکزی حکومت میں 20 کڑور مسلمانوں میں ایک بھی کابینہ کارکن نامزد نہیں ہے ، ایک بھی وزیر نہیں ہے - بہار کی حکومت میں نتیش کمار کے رحم وکرم پر ایک وزیر جاماں خان ہے - 1980 سے 2010 ءتک مقدمہ بازی ہوا ، نرموہی اکھاڑہ اور دیگر ہندو تنظیموں نے رام مندر کی تعمیر کے لئے مقدمہ دایر کیا - 2010 میں الہ اباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں تنازعہ زمین کو تین حصوں میں بانٹا دیا جس میں ایک حصہ بابری۔مسجد ایکشن کمیٹی کو بھی ملا ، لیکن اس فیصلہ کو کوئی بھی فریق تسلیم نہیں کیا - لیکن جب 2014 میں کانگریس کی حکومت کا آفتاب غر وڈ ہو گیا اور بھاجپا کی حکومت سلطنت پرقآبض ہو گیا تو مسلمانوں کی امیدیں عدلیہ سے بھی آٹھ گیا - ہوا وہی جس کا خوف اور خطرہ تھا - 9 نومبر 2019 کو عدالت اعظمی نےتمام ثبوتوں کا رہتے ہوئے بابری مسجد کے حق میں فیصلہ نہیں دیا - عدالت اعظمی نے اس بات کو قبول کیا کسی بھی رام جنم بھومی کو توڑ کر مسجد کی تعمیر نہیں کیا گیا ہے - لیکن ایودھیا اور رام سے ہندؤں کا استھا جوٹا ہوا ہے ، اس لئے عدالت اعظمی استھا کی بنیاد پر ہندؤں کو مسجد کی جگہ پر مندر تعمیر کرنے کی اجازت دیتی ہے - ایودھیا میں اس کے بدلے کوئی ۔مسجد تعمیر نہیں ہو گی - بلکہ دیگرجگہ 5 ایکڑ میں سرکار کی اخراجات پر مسجد کی تعمیر کرنے کی اجازت ہے - اس فیصلوں کا سبھی ہندو تنظیموں نے استقبال کیا ۔مگر ۔مسلمانوں نے اس کی ۔ مذمت کیا اور اپنے غ۔ روحوں کا اظہار کیا - آج تک حکومت نے مسجد کے لئے 5 ایکڑ زمین مہیا نہیں کر سکا ہے - آج اس ملک میں مسلم قیادت کے نام پر سکیولر جماعت کو اقتدار سے باہر کا راستہ دیکھا دیا ہے ، آج اس ملک میں ۔مسلمان سیاسی اعتبار سے کب سے کمزور اور نازک دور سے گزر رہا ہے ، اس کے بعد بھی 5 سیٹ جیت کر جشن منا رہے ہیں ، اس قوم کو اپنی بربادی کا کوئی غم اور ملال نہیں ہے - بلکہ پتنگ بازی میں مدہوش ہے - اس قوم کی ڈوبتی کشتی کو قدرت ہی بچا سکتی ہے - بہار میں کبھی 35 پر تھے آج 11 پر آکر سیاسی اعتبار سے بہت کمزور ہو گیے ہیں ، اس حیدرابادی بریانی نے ہم سے سیاسی شعور چھین کر ہاتھوں میں پتنگ کا ڈور تھما دیا ہے ، اس لئے زمین کی قایق ہمیں نظر نہیں آتی ہے -