جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
مودی حکومت کی بدولت بائیں بازو کی انتہاپسندی کا خاتمہ کرکے قبائلی علاقوں میں خوشحالی لائی گئی: امت شاہ
  1. ہوم
  2. قومی
قومی

مودی حکومت کی بدولت بائیں بازو کی انتہاپسندی کا خاتمہ کرکے قبائلی علاقوں میں خوشحالی لائی گئی: امت شاہ

Awaz E Bihar•30 مارچ، 2026 کو 05:56 PM•3 ویوز•4 منٹ پڑھیں

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا ہے کہ ملک میں نکسل ازم کا بحران قبائلی علاقوں کی جغرافیائی صورتحال، حکومت کی رسائی کا دور دراز علاقوں تک نہ پہنچنا اور ان علاقوں میں ترقیاتی سرگرمیوں کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے پیدا ہوا، اور آہستہ آہستہ بائیں بازو کی فکر رکھنے والوں نے قبائلیوں کو گمراہ کرکے ان کمزوریوں کا فائدہ اٹھایا۔ مسٹر شاہ نے لوک سبھا میں ضابطہ 193 کے تحت "بائیں بازو کی انتہاپسندی سے ملک کو آزاد کرانے کی کوششیں" پر بحث مکمل ہونے کے بعد کہا کہ اس انتہاپسندی کو قبائلیوں کے تعاون سے ہی ختم کیا جا سکا ہے، جس میں ہمارے سکیورٹی فورسز کا کردار قابلِ تعریف ہے۔ اس انتہاپسندی کے خلاف بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکار ملک کے لیے شہید ہوئے ہیں اور پورا ملک ان کے سامنے ہمیشہ سرِ تسلیم خم کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں غیر قانونی سرگرمیوں کو پنپنے نہیں دیا جائے گا، اسی عزم کے ساتھ مودی حکومت نے نکسل ازم کو ختم کرنے کا کام کیا۔مودی حکومت ترقی پر یقین رکھتی ہے اور اس کے تحت ملک کے ہر کونے تک حکومت کی رسائی ہے اور ترقیاتی کاموں کو رفتار دی گئی ہے۔حکومت قبائلی علاقوں کے ہر گاؤں کی ترقی کر رہی ہے اور نکسل ازم کے خاتمے کی بنیاد یہی ترقیاتی کام بنے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ ریاستوں میں نکسل ازم اس لیے دیر سے ختم ہوا، کیونکہ وہاں جس پارٹی کی حکومت تھی اس نے چھتیس گڑھ میں اسے ختم نہیں ہونے دیا، لیکن جب وہاں بی جے پی حکومت بنی تو 2024 میں ریاستی حکومت سے مکمل تعاون کے یقین دہانی کے بعد انہوں نے 31 مارچ 2026 تک ملک سے نکسل ازم ختم کرنے کا اہم اعلان کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ اس انتہاپسند نظریے کا محرک جملہ درست نہیں رہا، بلکہ انتہائی خطرناک "اقتدار بندوق سے حاصل کیا جاتا ہے" رہا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ان کا جمہوریت پر کبھی کوئی یقین نہیں رہا۔ سوال یہ تھا کہ ماؤ نوازوں نے بستر کو ہی کیوں چنا، آزادی کے بعد دہائیوں تک وسائل اور آمدنی کم تھی اس لیے پورے ملک کو ترقی دینا ممکن نہیں تھا۔
دور دراز علاقوں تک ریاستوں کی رسائی ہونی چاہیے تھی، لیکن وہاں منظم امتیاز ہوتا رہا، اسی لیے وہاں دہشت گردی پھیلتی رہی اور سادہ لوح قبائلیوں کو گمراہ کرکے ان کے ہاتھوں میں ہتھیار تھما دیے گئے۔ مشکل جغرافیائی حالات اور حکومت کی کمزور گرفت کے باعث سادہ قبائلیوں کو نکسل بنا دیا گیا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ماہرین کے مطابق 12 ریاستوں میں لال کوریڈور کا بننا اور نکسل وادیوں کا پھیلاؤ کہیں نہ کہیں طاقت کے غلط استعمال کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آخر ماؤنوازوں کے پاس ایسے جدید ہتھیار کیسے آتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری بنیادوں پر حملہ کرنے والے نظام کا صفایا ان کی حکومت نے کیا ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ آج ملک میں بائیں بازو کی انتہاپسندی کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "میں آج ملک کو یہ بتانے آیا ہوں کہ ماؤ نواز اور نکسل تشدد کرنے والوں کے دن ختم ہو گئے ہیں۔ یہ ایک نظریاتی لڑائی ہے۔ بائیں بازو کا نظریہ اپنی بنیاد کھو چکا ہے، اس لیے وہ اپنے وجود کے لیے قبائلیوں کا استعمال کرتا رہا ہے۔ خونریزی ان کا مقصد رہا ہے، لیکن اب ان کی یہ سازش کامیاب نہیں ہوگی۔ بائیں بازو کی انتہا پسندی کو ملک سے ختم کر دیا گیا ہے اور ملک میں آئین کی حکمرانی ہے، اس کے متوازی کچھ نہیں چل سکتا۔ بائیں بازو کے لوگوں نے آئین اور عدالتی نظام کو کمزور کرنے کا کام کیا ہے۔" انہوں نے کہا کہ وہ کئی بار کہہ چکے ہیں کہ ہتھیار ڈال دو، لیکن وہ ہتھیار نہیں ڈالتے۔ حکومت نے یقین دلایا ہے کہ وہ ان کی حفاظت کرے گی، لیکن اس پر توجہ نہیں دی گئی۔ الٹا ترقی کو روکا جا رہا ہے اور ترقیاتی سرگرمیوں کو آگ لگا کر ختم کیا جاتا رہا ہے۔ مال گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی اور سیدھے سادے لوگوں کو گمراہ کرکے اپنے نظریہ کو آگے بڑھانے کا غلط راستہ اختیار کیا گیا، جسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
شیئر کریں:

More from قومی

 مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے
قومی

مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے

29 ستمبر، 2026
امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ
قومی

امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ

27 ستمبر، 2026
ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن
قومی

ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن

26 ستمبر، 2026
گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ
قومی

گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ

25 ستمبر، 2026
گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی
قومی

گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی

24 ستمبر، 2026
الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا
قومی

الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا

23 ستمبر، 2026