جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
سہارنپور کلکٹریٹ احاطے میں واقع مسجد منہدم کردی گئی
  1. ہوم
  2. قومی
قومی

سہارنپور کلکٹریٹ احاطے میں واقع مسجد منہدم کردی گئی

Awaz E Bihar•5 ستمبر، 2026 کو 04:58 PM•149 ویوز•7 منٹ پڑھیں

سہارن پٗر : (ایجنسی)اتر پردیش کے سہارنپور کلکٹریٹ احاطے میں واقع مسجد کو انتظامیہ نے بلڈوزر سے منہدم کر دیا ہے۔ مسلم فریق کی اپیل مسترد ہونے کے بعد جمعہ کے روز کارروائی کی تیاریاں شروع ہو گئی تھیں۔ کارروائی کے دوران موقع پر ایس ڈی ایم، سٹی مجسٹریٹ اور بڑی تعداد میں پولیس اہلکار موجود تھے۔ کلکٹریٹ احاطے میں موجود مسجد کو ہٹانے کی کارروائی ضلعی عدالت کے حکم پر کی گئی۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر کلکٹریٹ کے گیٹ بھی بند کر دیے گئے تھے، تاکہ باہر سے کوئی بھی اندر داخل نہ ہو سکے۔ معاملے کی حساسیت کے پیش نظر علاقے میں سیکورٹی بڑھا دی گئی اور بڑی تعداد میں سیکورٹی اہلکار تعینات کیے گئے۔ آس پاس کے علاقوں میں بھی نگرانی سخت کر دی گئی ہے۔دراصل یہ پورا معاملہ اس وقت سرخیوں میں آیا تھا، جب بجرنگ دل کے لیڈر وکاس تیاگی نے شکایت کی کہ انتہائی حساس اور خفیہ نوعیت کے کاموں والے مقام ضلع مجسٹریٹ کے دفتر کے احاطے میں اس مسجد کی تعمیر غیر قانونی طور پر کی گئی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس احاطے کا استعمال صرف مذہبی سرگرمیوں کے لیے ہی نہیں، بلکہ تجارتی فائدے کے لیے بھی کیا جا رہا تھا۔ اس مسجد میں ایک ڈاک خانہ بھی تھا، اور باہری لوگوں کو کرائے پر کمرے دیے جا رہے تھے اور ان کا کرایہ مسجد کمیٹی وصول کر رہی تھی۔ باہری لوگوں کی دن رات بلا روک ٹوک آمد و رفت سے ضلع مجسٹریٹ کے دفتر کی سیکورٹی اور رازداری کو بھی سنگین خطرہ لاحق ہو گیا تھا۔
معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ نے 24 مارچ 2025 کو میونسپل مجسٹریٹ کی عدالت میں پی پی ایکٹ کے تحت مقدمہ دائر کیا تھا۔ میونسپل مجسٹریٹ کلدیپ سنگھ نے 16 جولائی 2026 کو اپنے حکم میں مسجد کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے بے دخلی اور تقریباً ساڑھے 6 کروڑ روپے کی بھاری بھرکم تلافی کی رقم عائد کرنے کے ساتھ مسجد کو منہدم کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ اس کے بعد مسلم فریق نے 22 جولائی 2026 کو ضلعی عدالت میں اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔ ضلعی عدالت میں ہونے والی سماعت کے دوران فریقین کی جانب سے پیش کیے گئے دلائل اور شواہد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔عدالت نے پایا کہ زیر بحث جائیداد پر ’پلیسز آف ورشپ ایکٹ 1991‘ کا کوئی اطلاق نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ قانون کسی بھی صورت میں اس غیر قانونی جائیداد پر نافذ ہوتا ہے۔ اس کے بعد عدالت نے مسجد کو ہٹانے کا حکم دیا۔ اس فیصلے کے بعد جمعہ سے ہی مسجد کے آس پاس بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات کر دی گئی تھیں اور آج صبح بلڈوزر لا کر مسجد کو منہدم کر دیا گیا۔ موقع پر اب بھی بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ فی الحال شہر میں حالات پرامن ہیں اور انتظامیہ نے چپے چپے پر پولیس فورس تعینات کر رکھی ہے۔
انتظامیہ اور ریونیو حکام کا موقف تھا کہ مسجد سرکاری زمین، کھسرہ نمبر 539 پر واقع تھی اور یہ زمین کلکٹریٹ/کچہری کے نام درج ہے۔ زمین کا رقبہ تقریباً 315 مربع میٹر بتایا گیا۔ حکام کے مطابق وہاں موجود عمارت کا اصل استعمال کلکٹریٹ آنے والے سائلین کے لیے ریسٹ ہاؤس کے طور پر تھا، جس کے ایک حصے کو بعد میں مسجد کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔
مسجد کے متولی تنویراحمد نے عدالت میں اسے تقریباً 150 سال پرانی بتایا تھا۔ دوسری جانب بعض حالیہ رپورٹس میں اسے 70 سال سے زائد پرانی بتایا گیا۔ جبکہ مسجد کے حامیوں اور اسدالدین اویسی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ مسجد 1911 یا اس سے بھی پہلے سے موجود تھی۔ 1911 کے بجلی کے ریکارڈ کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔
یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ مسجد کی قدامت پر فریقین کے دعوے مختلف ہیں؛ 1911 کا حوالہ مسجد کے حامیوں کی جانب سے دیا گیا ہے، جبکہ انتظامی عدالتی کارروائی میں زمین کی ملکیت اور سرکاری ریکارڈ بنیادی مسئلہ رہا۔
رپورٹس کے مطابق معاملہ 2025 میں باقاعدہ قانونی کارروائی تک پہنچا۔ مارچ 2025 میں ایک ریونیو اہلکار نے مسجد کے منتظم/مولوی عبدالحمید کے خلاف سرکاری زمین پر مبینہ غیر مجاز قبضے کی شکایت کی۔ اپریل 2025 میں نوٹس جاری ہوئے اور جون میں متعلقہ فریق نے اعتراضات داخل کیے۔اس سے پہلے وِکاس تیاگی، جو بجرنگ دل کے سابق صوبائی کوآرڈینیٹر بتائے جاتے ہیں، نے مسجد کی تعمیر اور کلکٹریٹ کی زمین کے استعمال پر اعتراض اٹھایا تھا۔ ان کی شکایت پر ریونیو انکوائری ہوئی۔
16 جولائی 2026 کو سٹی مجسٹریٹ کلدیپ سنگھ کی عدالت نے مسجد کو سرکاری زمین پر غیر مجاز تعمیر قرار دیتے ہوئے اسے خالی کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے تقریباً 6.41 کروڑ روپے کی رقم بھی مبینہ طویل مدتی غیر مجاز قبضے کے عوض عائد کی۔ فریق کو 30 دن میں جگہ خالی کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔عدالت کے سامنے حکومت کی طرف سے یہ مؤقف بھی رکھا گیا کہ مسجد کے احاطے میں مبینہ طور پر بعض کمرے کرائے پر دیے گئے تھے اور پوسٹ آفس سے بھی کرایہ وصول کیا جاتا تھا۔ مسجد فریق نے ان الزامات اور زمین کی ملکیت کے سرکاری دعوے کو چیلنج کیا۔
مسجد کمیٹی نے سٹی مجسٹریٹ کے فیصلے کے خلاف ضلع عدالت میں اپیل کی، لیکن 2 ستمبر 2026 کو ضلع جج کی عدالت نے اپیل خارج کرتے ہوئے سٹی مجسٹریٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔
کیرانہ سے سماج وادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ اقراء حسن نے الزام لگایا کہ انہیں سہارنپور جانے سے روکنے کے لیے ہاؤس اریسٹ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ معاملے پر حکام سے بات کرنے اور لوگوں کی آواز انتظامیہ تک پہنچانے سہارنپور جانا چاہتی تھیں۔سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے کارروائی کے وقت اور طریقۂ کار پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے پوچھا کہ کارروائی اتنی صبح کیوں کی گئی اور کیا مزید اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کا موقع نہیں دیا جا سکتا تھا۔ انہوں نے حکومت پر سیاسی اشارے پر کارروائی کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔
کانگریس نے کارروائی کو سہارنپور کے لیے ’’یوم سیاہ‘‘ قرار دیتے ہوئے تنقید کی۔ سہارنپور کے کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے بھی کارروائی کی قانونی حیثیت اور نوٹس کے طریقۂ کار پر سوال اٹھائے ہیں۔
کانگریس لیڈر عمران مسعود نے ’وقف بائی یوزر‘ کی شق کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی زمین یا عمارت کا طویل عرصے سے مسجد کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہو تو اس سے متعلق دستاویزات اور مسلسل نماز جیسی سرگرمیاں اس کی مذہبی حیثیت ثابت کرنے میں اہم ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مسجد تقریباً 70 سال سے موجود تھی اور وہاں مسلسل نماز ادا کی جاتی رہی۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’اگر حکومت کا دعویٰ ہے کہ مسجد سرکاری زمین پر بنی تھی تو اسے دستیاب ریونیو ریکارڈ کی بنیاد پر یہ ثابت کرنا چاہیے۔‘‘ انہوں نے الزام عائد کیا کہ رات میں مسجد کو بند کرایا گیا، وہاں رکھا سامان ہٹایا گیا اور اس کے بعد رات بھر میں ڈھانچہ گرا دیا گیا۔ ان کے مطابق علاقے کو گھیر لیا گیا تھا اور لوگوں کو اپنے گھروں سے نکلنے کی اجازت نہیں تھی۔ انتظامیہ نے ملبہ بھی فوری طور پر ہٹا دیا۔ انہوں نے اس کارروائی کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’وہ مسجد نہیں گرا رہے ہیں بلکہ وہ ملک کے آئین کو گرا رہے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ معاملے میں ہائی کورٹ کے سامنے وقف بورڈ کو مناسب طور پر فریق نہیں بنایا گیا اور کئی اہم پہلوؤں کو نظر انداز کیا گیا۔



شیئر کریں:

More from قومی

 مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے
قومی

مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے

29 ستمبر، 2026
امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ
قومی

امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ

27 ستمبر، 2026
ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن
قومی

ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن

26 ستمبر، 2026
گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ
قومی

گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ

25 ستمبر، 2026
گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی
قومی

گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی

24 ستمبر، 2026
الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا
قومی

الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا

23 ستمبر، 2026