سرس میلے میں گونج رہی ہے دیہی خواتین کی خود کفالت کی کہانی
Awaz E Bihar••25 ویوز•4 منٹ پڑھیں
پٹنہ: دیہی علاقوں میں رونما ہونے والی معاشی اور سماجی تبدیلی کی جیتی جاگتی تصویر پٹنہ کے گیان بھون میں جاری بہار سرس میلے میں نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ کل تک گھروں کی چار دیواری تک محدود رہنے والی ہنرمند خواتین آج کامیاب کاروباری خواتین کے طور پر نہ صرف اپنی شناخت بنا رہی ہیں بلکہ خود کفالت اور خود انحصاری کی نئی مثالیں بھی قائم کر رہی ہیں۔بہار حکومت کے محکمہ دیہی ترقیات کے زیر اہتمام بہار دیہی روزگار فروغ کمیٹی (جیویکا) کی جانب سے منعقدہ یہ سرس میلہ 29 ستمبر 2026 تک جاری رہے گا۔ میلے میں دیہی خواتین کی صنعت کاری، ہنر اور خود کفالت کی کہانیاں نمایاں طور پر پیش کی جا رہی ہیں۔15 ریاستوں کی خواتین، 135 سے زائد اسٹالمیلے میں 15 ریاستوں کے خود امدادی گروپوں سے وابستہ خواتین اپنے اپنے علاقوں کے دست کاری کے نمونے، لوک فن، روایتی مصنوعات اور مشہور پکوانوں کے ساتھ شرکت کر رہی ہیں۔ 135 سے زائد اسٹالوں پر خواتین اپنی مصنوعات کی نمائش اور فروخت کے ساتھ اپنی کامیابی کی داستان بھی پیش کر رہی ہیں۔سرس میلہ محض خرید و فروخت کا مرکز نہیں، بلکہ ملک کی قدیم دست کاری، فنون، ثقافت، روایات اور دیسی ذائقوں سے لوگوں کو روبرو کرانے کا بھی ذریعہ بن رہا ہے۔ میلے میں روزانہ بڑی تعداد میں لوگ پہنچ رہے ہیں، جس سے شرکا میں خاصا جوش و خروش دیکھا جا رہا ہے۔تین دن میں 68.56 لاکھ روپے سے زیادہ کا کاروبارمیلے کے تیسرے دن، منگل کو 25 لاکھ 37 ہزار روپے سے زیادہ کی مصنوعات اور کھانے پینے کی اشیا فروخت ہوئیں۔ اس طرح تین دن میں سرس میلے کا مجموعی کاروبار 68 لاکھ 56 ہزار روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔ روزانہ بڑی تعداد میں لوگ میلے کا رخ کر رہے ہیں اور مصنوعات کی خریداری کے ساتھ مختلف ریاستوں کے روایتی پکوانوں سے بھی لطف اندوز ہو رہے ہیں۔معیار، برانڈنگ اور مارکیٹنگ پر خریدار و فروخت کنندگان کا مکالمہمیلے میں صرف مصنوعات کی خرید و فروخت پر توجہ نہیں دی جا رہی بلکہ ان کے معیار، برانڈنگ، مناسب قیمت کے تعین، مارکیٹ تک رسائی اور مؤثر مارکیٹنگ پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ اسی مقصد سے روزانہ خریدار و فروخت کنندگان کے درمیان ’بائر سیلر میٹ‘ کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔اسی سلسلے میں بدھ کو سرس میلے کے گیان بھون احاطے میں جیویکا اور ارنسٹ اینڈ ینگ کے اشتراک سے بائر سیلر میٹ کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا۔ اس میں بہار کی روایتی مصنوعات، مثلاً بھوجا، ستّو، آٹا، مکھانا، مکئی، چائے کی پتی، پروٹین بار اور دست کاری کی مصنوعات کے معیار میں بہتری، مناسب قیمت کے تعین، برانڈنگ، بازار اور مارکیٹنگ کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں جیویکا دیدیوں کے علاوہ سَتّوج، این سی ڈی ای ایکس لمیٹڈ، ایف پی سی اور پلیٹ فارم انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ سمیت مختلف اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ خریداروں نے مصنوعات کو قومی بازار اور ای کامرس پلیٹ فارم سے جوڑنے کے حوالے سے بھی اہم تجاویز پیش کیں۔ تین دن میں امریتا دیوی نے ڈھائی لاکھ سے زائد کے کپڑے فروخت کیےسرس میلے میں مصنوعات اور روایتی پکوانوں کے ساتھ کھادی کے ملبوسات کی بھی خاصی مانگ ہے۔ بھاگلپور ضلع کے خریگ بلاک سے آئی امریتا دیوی اس کی نمایاں مثال ہیں، جنہوں نے صرف تین دن میں ڈھائی لاکھ روپے سے زیادہ مالیت کے سوتی اور کھادی کے کپڑے فروخت کیے ہیں۔امریتا دیوی 2018 سے چندا جیویکا خواتین خود امدادی گروپ سے وابستہ ہیں۔ جیویکا کی حوصلہ افزائی اور گروپ سے قرض حاصل کرکے انہوں نے چھوٹے پیمانے پر سوتی اور کھادی کے کپڑوں کا کاروبار شروع کیا تھا۔ اپنی محنت، ہنر اور کاروباری صلاحیت کے بل پر آج انہوں نے ایک منی فیکٹری قائم کرلی ہے، جہاں 24 سے زائد جیویکا دیدیوں اور ان کے اہل خانہ کو روزگار مل رہا ہے۔امریتا دیوی کی کامیابی دیہی خواتین کی خود کفالت، خود روزگاری اور بااختیار بنانے کی ایک مثال بن کر سامنے آئی ہے۔ سرس میلے کے مختلف اسٹالوں پر ایسی ہی سیکڑوں خواتین اپنی مصنوعات کے ذریعے دیہی علاقوں میں رونما ہونے والی معاشی تبدیلی کی کہانی بیان کر رہی ہیں۔سرس میلہ یہ پیغام دے رہا ہے کہ خواتین کو مناسب مواقع، تربیت اور حوصلہ افزائی ملے تو وہ نہ صرف اپنی زندگی بدل سکتی ہیں بلکہ معاشی خود کفالت کے ذریعے خاندان اور سماج کی سمت بھی تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔