سپریم کورٹ نے نائب صدر ڈیلسی روڈریگز کو قائم مقام صدر کی ذمہ داری سنبھالنے کا حکم دیا
Awaz E Bihar••1 ویوز•3 منٹ پڑھیں
وینزویلا کے سپریم کورٹ نے ہفتہ کی دیر رات نائب صدر ڈیلسی روڈریگز کو امریکی فوجی آپریشن میں صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد فوری طور پر قائم مقام صدر کا کردار سنبھالنے کا حکم دیا۔ کیرسلیا روڈریگ نے وی ٹی وی کے ذریعے نشر کیے گئے ایک بیان میں کہا "ریپبلک کے صدر نکولس مادورو کے اغواء سے پیدا ہونے والی غیر معمولی صورتحال کے پیش نظر، یہ حکم دیا جاتا ہے کہ جمہوریہ کے ایگزیکٹو نائب صدر کو قائم مقام کے بطور تمام اختیارات، فرائض، اور افعال کو سنبھالنے اور استعمال کرنے کا حکم دیا جائے، تاکہ وہ صدر کے دفتر کو حاصل تمام اختیارات، فرائض اور کام کاج کو یقینی بنائے۔" وینزویلا مین آئین کے آرٹیکل 233 اور 234 کے تحت ایسے التزامات ہيں کہ صدر عارضی یا مطلق غیر موجودگی کی صورت میں نائب صدر کو صدارتی فرائض سنبھالنے کی اجازت ملتی ہے۔ خزانہ اور تیل کی وزارتیں سنبھالنے والی ڈیلسی روڈریگز نے ہفتے کی دوپہر سے اس کردار میں کام کرنا شروع کردیا ہے۔ مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو حراست میں لیے جانے کے چند گھنٹے بعد، 56 سالہ روڈریگز نے نیشنل ڈیفنس کونسل کے اجلاس کی صدارت کی، جس میں وزراء اور اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ انہوں نے مغویہ صدر اور ان کی اہلیہ کی "فوری رہائی" کا مطالبہ کیا اور امریکی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے اسے "بین الاقوامی قانون اور وینزویلا کی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی" قرار دیا۔ انہوں نے وینزویلا کے باشندوں پر زور دیا کہ وہ اس کارروائی کو مسترد کریں اور لاطینی امریکی حکومتوں سے اس کی مذمت کرنے کا مطالبہ کریں۔ عدالت عظمی نے کہا کہ وہ امریکہ کی طرف سے وینزویلا کے لوگوں اور سرزمین کے خلاف کی جانے والی انتہائی سنگین فوجی جارحیت کے ساتھ ساتھ مادورو اور ان کی اہلیہ کے اغواء کو مسترد کرتی اور مذمت کرتی ہے۔ اس نے مزید کہا ہے کہ وینزویلا کے اسٹریٹجک وسائل پر قبضہ کرنے کے مقصد سے کیا جانے والا امریکی اقدام وینزویلا کے آئین اور قوانین کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے کہا کہ وہ قومی آزادی اور خودمختاری کے دفاع میں وینزویلا کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے، اور تمام فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ لاطینی امریکہ اور کیریبیائی خطے میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔ ایلون مسک نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں بتایا کہ 3 فروری سے وینزویلا کے لیے مفت انٹرنیٹ سروس مہیا کی جائے گی۔ انہوں نے اپنی سیٹلائٹ انٹرنیٹ کمپنی اسٹار لنک کی ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کا مقصد وینزویلا میں بلا تعطل رابطے کو یقینی بنانا ہے۔یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وینزویلا میں سیاسی اور عسکری بحران شدید صورت اختیار کر چکا ہے۔ حالیہ امریکی کارروائی کے بعد وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے امریکہ منتقل کیا گیا ہے، جس کے بعد ملک میں مواصلاتی اور انتظامی نظام پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔ اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ وینزویلا میں حکومت کی تبدیلی تک ملک کا انتظامی نظام عارضی طور پر امریکہ کی نگرانی میں رہے گا۔