مغربی بنگال میں نئے وزیر اعلیٰ کی حلف برداری 9 مئی کو بریگیڈ پریڈ گراؤنڈ میں ہوگی: بی جے پی
Awaz E Bihar••4 ویوز•3 منٹ پڑھیں
بھارتیہ جنتا پارٹی کے مغربی بنگال صدر سمِک بھٹاچاریہ نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ ریاست کے نئے وزیر اعلیٰ کی حلف برداری کی تقریب 9 مئی کو کولکاتہ کے تاریخی بریگیڈ پریڈ گراؤنڈ میں منعقد ہوگی، جس میں وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ بھی شرکت کریں گے۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سمِک بھٹاچاریہ نے کہا کہ حلف برداری تقریب کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں اور تقریب کو پُروقار اور منظم انداز میں انجام دینے کے لیے انتظامیہ کے ساتھ قریبی تال میل رکھا جا رہا ہے۔اس سے قبل انہوں نے بی جے پی کے مرکزی مبصرین سنیل بنسل، جیوتِرمئے سنگھ مہتو اور سومِتر خان کے ساتھ ریاست کے چیف سکریٹری دشینت ناریوالا سے ملاقات کی، جس میں تقریب کے انتظامات اور سیکورٹی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بی جے پی اراکین اسمبلی کی ایک اہم میٹنگ 8 مئی کو منعقد ہوگی، جس میں قیادت کی جانب سے حلف برداری سے قبل اہم فیصلے لیے جانے کی توقع ہے۔ ریاست میں بی جے پی کے پہلے وزیر اعلیٰ کے چہرے کو لے کر سیاسی قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں، تاہم سُمِک بھٹاچاریہ نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ اس دوران انہوں نے انتخابی نتائج کے بعد ہونے والے تشدد پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے نام پر غنڈہ گردی یا تشدد کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ بی جے پی کا جھنڈا اٹھا کر غیر ذمہ دارانہ حرکتیں کر رہے ہیں، لیکن پارٹی ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترنمول کانگریس چھوڑ کر حالیہ دنوں میں بی جے پی میں شامل ہونے والے موقع پرست افراد کو پارٹی میں اہمیت نہیں دی جائے گی۔ ان کے مطابق بی جے پی کی نظریاتی بنیاد دہائیوں کی قربانیوں اور محنت سے قائم ہوئی ہے، اور کسی کو اس کی شناخت کمزور کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ سمِک بھٹاچاریہ نے مزید کہا کہ اگر کوئی بھی بی جے پی کارکن یا لیڈر تشدد میں ملوث پایا گیا تو اسے فوراً پارٹی سے نکال دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا، ''مجھے نام اور تصاویر فراہم کیجیے، میں خود کارروائی کروں گا۔ اگر میں ایسا نہ کرسکا تو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دوں گا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ بی جے پی نے ابھی تک ریاستی اقتدار سنبھالا نہیں ہے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال ایک عبوری مرحلہ ہے، اس لیے امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داری فی الحال الیکشن کمیشن اور گورنر پر عائد ہوتی ہے۔