جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
امریکہ کے دفاعی ڈھال بننے والے ملک جنگ کی زد میں آسکتے ہیں: ایران
  1. ہوم
  2. عالمی خبریں
عالمی خبریں

امریکہ کے دفاعی ڈھال بننے والے ملک جنگ کی زد میں آسکتے ہیں: ایران

Awaz E Bihar•1 اگست، 2026 کو 03:06 PM•10 ویوز•4 منٹ پڑھیں

تہران، یکم اگست (یو این آئی) ایران کا خطے کے ممالک سے امریکہ کے ساتھ تعاون پر نظرثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ دفاعی ڈھال بننے والے ممالک جنگ کی زد میں آ سکتے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق مرکزی فوجی کمان خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹرز کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی نے خطے کے ممالک کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ اپنے تعاون پر نظرثانی کریں۔میجر جنرل علی عبداللہی کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف اپنی کارروائیوں کے لیے خطے کے ممالک کے وسائل کو اپنی دفاعی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے۔انہوں نے خبردار کیا ہے کہ جو بھی ملک امریکہ کی دفاعی ڈھال بنے گا، وہ جنگ کی آگ کی زد میں آ سکتا ہے، کیونکہ امریکی اقدامات خطے کو ایک وسیع اور خطرناک جنگ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔
ہیڈ کوارٹرز میں جاری کردہ اپنے بیان میں انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ واشنگتن مشرق وسطیٰ پر اپنا غیر قانونی کنٹرول بڑھانے کی اسٹریٹجی کے تحت تیزی سے ایک وسیع علاقائی جنگ کی راہ پر گامزن ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران میں توانائی سے متعلق اہداف پر زبردست بمباری کی تیاری کر رہے ہیں۔
سی بی ایس کے مطابق متعدد ذرائع نے بتایا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران میں توانائی کے بنیادی انفرااسٹرکچر پر اب تک کی سخت ترین بمباری کی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، اور ہفتے کے اختتام تک کسی بھی وقت حملے کیے جا سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکی اور عالمی معیشت پر بمباری کے ممکنہ اثرات کے پیش نظر یہ بات زیرِ غور آئی کہ حملے پیر کو مالیاتی منڈیاں کھلنے سے پہلے ختم کر دیے جائیں، تاہم حملے ختم کرنے کا حتمی وقت طے نہیں کیا گیا۔ حملوں میں بجلی گھروں، آئل ریفائنریز سمیت توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
متعدد امریکی ذرائع کے مطابق اسرائیلی حکام کو اس منصوبے سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور وہ امریکہ کے ساتھ رابطہ کاری کر رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر نے ابھی تک حملوں کے لیے حتمی ’’گو‘‘ کا حکم نہیں دیا۔
مشترکہ کارروائی کا مطلب یہ ہوگا کہ اسرائیل دوبارہ جنگی کارروائیوں میں شامل ہوجائے گا، ایک اسرائیلی عہدیدار نے سی بی ایس نیوز کو بتایا 'اسرائیل کو مکمل فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے کسی فیصلے کا علم نہیں ہے، اور نہ ہی اسرائیل سے ایران کے خلاف کسی فوجی کارروائی میں شامل ہونے کی درخواست کی گئی ہے۔‘‘
ذرائع کے مطابق جمعہ کو کیمپ ڈیوڈ میں صدر ٹرمپ کے کابینہ اجلاس کے دوران فوجی حملے کا منصوبہ زیر بحث آیا، وائٹ ہاؤس کے بعض معاونین، جو سیاسی امور پر توجہ مرکوز کرتے ہیں، اس منصوبے کے سخت مخالف تھے۔ صحافیوں کی موجودگی میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ''ہم ان پر بہت سخت حملے کریں گے، یہاں تک کہ وہ پکار اٹھیں کہ ہم اب مزید برداشت نہیں کر سکتے۔'' انھوں نے کہا ہم صرف جیتنا چاہتے ہیں۔
وال اسٹریٹ جنرل نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف نئے حملوں کی ہدایات جاری کر دی ہیں، اور ایران پر نئے حملے ممکنہ طور پر اسی ہفتے کے آخر میں شروع ہو سکتے ہیں، ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ ایران مذاکرات کی میز پر نہ آیا تو شدید فوجی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایران نے بھی جواب میں اسرائیل اور امریکی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی تیاری کا دعویٰ کیا ہے، ایک ایرانی فوجی عہدیدار نے بیان میں کہا کہ امریکا یا اسرائیل نے حملہ کیا تو فوری جوابی کارروائی کریں گے، اور اہداف اسرائیل کی اہم تنصیبات اور خطے میں امریکی توانائی مراکز ہیں۔ عہدے دار نے کہا ایرانی مسلح افواج کے پاس جوابی کارروائی کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔
ادھر یو این سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے متنبہ کیا ہے کہ امریکہ ایران جنگ سے عالمی عدم استحکام میں اضافہ ہو رہا ہے، جنگ کے نتائج تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں، ایران تنازع نے توانائی منڈیوں کو متاثر، خوراک، کھاد کی قیمتوں میں اضافہ کیا۔ انھوں نے کہا ایران جنگ سے عالمی سپلائی چینز پر دباؤ بڑھ گیا ہے، عالمی برادری کشیدگی میں کمی، قیام امن کے لیے فوری اقدامات کرے۔

شیئر کریں:

More from عالمی خبریں

غزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویرسے پوری دنیا حیران
عالمی خبریں

غزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویرسے پوری دنیا حیران

29 ستمبر، 2026
امریکہ و چین 60 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے پر متفق
عالمی خبریں

امریکہ و چین 60 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے پر متفق

28 ستمبر، 2026
 آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے و اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے کا اعلان
عالمی خبریں

آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے و اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے کا اعلان

26 ستمبر، 2026
ہم فلسطین کے معاملے میں ناکام ہیں، آئرش وزیر اعظم مارٹن کا اقوام متحدہ میں خطاب
عالمی خبریں

ہم فلسطین کے معاملے میں ناکام ہیں، آئرش وزیر اعظم مارٹن کا اقوام متحدہ میں خطاب

25 ستمبر، 2026
دو عظیم رہنما ؤں کی نازک تجارتی جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش
عالمی خبریں

دو عظیم رہنما ؤں کی نازک تجارتی جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش

24 ستمبر، 2026
ایرانی پاسداران انقلاب کا امریکہ کے ساتھ طویل جنگ کے لیے تیار ہونے کا اعلان، نئی صلاحیتیں استعمال کرنے کی دھمکی
عالمی خبریں

ایرانی پاسداران انقلاب کا امریکہ کے ساتھ طویل جنگ کے لیے تیار ہونے کا اعلان، نئی صلاحیتیں استعمال کرنے کی دھمکی

21 ستمبر، 2026