آئندہ 25 برسوں تک لوک سبھا کی موجودہ نشستوں میں تبدیلی نہ ہو، 543 نشستوں میں ہی خواتین کو ریزرویشن دیا جائے: کانگریس
Awaz E Bihar••36 ویوز•5 منٹ پڑھیں
کانگریس نے حد بندی کے معاملے پر اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوک سبھا کی موجودہ 543 نشستوں کی تعداد میں اگلے 25 سال تک اضافہ نہیں کیا جانا چاہیے اور انہی نشستوں میں خواتین کو ایک تہائی ریزرویشن دیا جانا چاہیے۔ کانگریس کی اعلیٰ ترین پالیسی ساز تنظیم کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ کے بعد پارٹی کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال، شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش اور شعبے کے سربراہ پون کھیڑا نے بدھ کو پارٹی ہیڈکوارٹر میں مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ تقریباً 4 گھنٹے تک جاری رہنے والی ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں 88 ارکان نے شرکت کی اور 35 سے زیادہ ارکان نے مختلف مسائل پر اپنے خیالات پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں،پیپر لیک، رام مندر کے چڑھاوے، ذات پر مبنی مردم شماری، ملک کی سرحدوں کی صورتحال، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے ساتھ 'شُدھیکرن' کے سلوک اور حد بندی سمیت کئی موضوعات پر سنجیدہ غور و خوض ہوا اور مختلف مسائل پر قراردادیں منظور کی گئیں۔ وندے ماترمکے مسئلے پر پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کانگریس رہنماؤں نے کہا کہ پارٹی اس مسئلے پر اپنے پرانے موقف پر ہی قائم ہے۔ مسٹر وینوگوپال نے کہا کہ 1937 میں کانگریس ورکنگ کمیٹی میں منظور کی گئی قرارداد ہی اس موضوع پر پارٹی کی بنیاد ہے۔ مسٹر وینوگوپال نے کہا کہ پیپر لیک ہونے اور بھرتی کے امتحانات میں بے ضابطگیوں کا مسئلہ میٹنگ میں نمایاں طور پر اٹھایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران حکومت اس مسئلے پر دفاعی حالت میں رہی، جبکہ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی 'طلبہ کی گونج' پروگرام کے ذریعے مسلسل نوجوانوں کی آواز اٹھا رہے ہیں۔ اس مسئلے پر ملک بھر کے نوجوانوں میں غصہ ہے اور کانگریس ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ 'طلبہ کی گونج' پروگرام کوٹا، دہرادون اور پریاگ راج میں ہو چکا ہے اور 22 اگست کو پونے میں ہوگا۔ اس کے بعد یہ مہم ملک بھر کے 800 شہروں اور چھوٹے شہروں تک لے جائی جائے گی۔ مسٹر گاندھی بھی اس کے مختلف پروگراموں میں شرکت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ میٹنگ میں تعلیمی امتحانات میں اصلاحات کے سلسلے میں وسیع پیمانے پر تبادلہ خیال ہوا اور میٹنگ میں موجود کانگریس کی حکومت والی 4 ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ سے ایک ماہ کے اندر رپورٹ دینے کو کہا گیا ہے۔ ذات پر مبنی مردم شماری کے مسئلے پر مسٹر وینوگوپال نے کہا کہ مودی حکومت اسے کرانا نہیں چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال 23 اپریل کو حکومت نے اچانک ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کا اعلان کیا تھا، لیکن اس کے بعد اس سمت میں متوقع اقدامات نہیں کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس چاہتی ہے کہ حکومت تلنگانہ اور بہار میں ذات پر مبنی گنتی کے لیے اپنائے گئے نمونے کا مطالعہ کرے اور اسی کے مطابق ملک میں ذات پر مبنی مردم شماری کرائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اس اہم مسئلے پر توجہ نہیں دے رہی ہے اور لوگوں کے ساتھ دھوکا کر رہی ہے۔ رام مندر کے چڑھاوے سے متعلق معاملے پر کانگریس رہنماؤں نے کہا کہ یہ صرف رام مندر تک محدود معاملہ نہیں رہ گیا ہے بلکہ لوگوں کے عقیدے اور جذبات سے جڑا موضوع بن چکا ہے۔ انہوں نے اسے 'گھر گھر سے جڑے چڑھاوے کا معاملہ' قرار دیتے ہوئے کہا کہ ورکنگ کمیٹی نے اس کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں جانچ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔چین کے ساتھ سرحد کی صورتحال کو لے کر بھی ورکنگ کمیٹی نے گہری تشویش ظاہر کی۔ مسٹر وینوگوپال نے الزام لگایا کہ امریکہ اور چین کے سامنے ہندستان کی خارجہ پالیسی کمزور ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ ہوئے معاہدوں اور سرحد پر اس کی سرگرمیوں کو لے کر سنگین سوالات ہیں۔ گلوان کے بعد اب اروناچل پردیش میں بھی چین کی سرگرمیوں سے متعلق سوالات اٹھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو ملک کے سامنے سرحد کی حقیقی صورتحال واضح کرنی چاہیے۔کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے ہلدوانی میں ہوئے پروگرام کے بعد 'شُدھیکرن' کے واقعے پر کانگریس رہنماؤں نے کہا کہ ورکنگ کمیٹی نے اس کی سخت مذمت کی ہے اور مسٹر مودی سے اس پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر کھرگے کسی مخصوص ذات کے رہنما نہیں بلکہ ملک کے عوام کے رہنما ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس واقعے کے پیچھے اعلیٰ ذات کی ذہنیت نظر آتی ہے اور یہ آئین کی روح کے خلاف ہے۔ مسٹر وینوگوپال نے حد بندی کے مسئلے پر کہا کہ کانگریس کی رائے واضح ہے کہ لوک سبھا کی موجودہ 543 نشستوں کی تعداد اگلے 25 سال تک برقرار رہنی چاہیے اور انہی 543 نشستوں میں خواتین کو ریزرویشن دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حد بندی کے عمل میں ریاستوں کے درمیان سیاسی نمائندگی کے توازن اور وفاقی ڈھانچے کی روح کا خیال رکھا جانا چاہیے۔انہوں نے بتایا کہ ورکنگ کمیٹی نے تنظیم سازی پروگرام کی کامیابیوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اب تک 798 ضلعی کانگریس کمیٹیوں، بلاک کمیٹیوں وغیرہ کی تشکیل کی جا چکی ہے۔ میٹنگ میں کیرالہ کے عوام کا بھی شکریہ ادا کیا گیا کہ انہوں نے کانگریس کو حکومت بنانے کا موقع دیا ہے۔ میٹنگ میں کانگریس کی حکومت والی چاروں ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ بھی موجود تھے۔