بحری حج کے خاتمے و فضائی کے آغازکے تیس برس، ممبئی کی بندرگاہیں خاموش
Awaz E Bihar••51 ویوز•5 منٹ پڑھیں
آج حج کمیٹی آف انڈیا کے زیر اہتمام عازمین حج کو لیکر آخری پروازجدہ کے لیے روانہ ہوگئی،کل بدھ کو بینگلورو سے کمیٹی اور ممبئی سے نجی ٹریول ایجنسیوں کی آخری فلائٹ روانہ ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی ممبئی سے حج کیلئے تاریخی بحری سفر کے خاتمے اور مکمل فضائی حج نظام کے نفاذ کو آج تیس برس مکمل ہوگئے، مگر 1995 میں بند کی گئی بحری حج سروس کی یادیں آج بھی لاکھوں ہندوستانی مسلمانوں کے اجتماعی حافظے میں زندہ ہیں۔ یہ صرف ایک سفری نظام کا اختتام نہیں تھا بلکہ غریب اور متوسط طبقے کے عازمینِ حج کیلئے ایک ایسے نسبتاً کم خرچ اور روحانی سفر کا خاتمہ بھی تھا، جس نے برصغیر کے مسلمانوں کی مذہبی، تہذیبی اور سماجی زندگی پر گہرے اثرات چھوڑے۔ 1995 میں ممبئی سے جدہ تک جاری تاریخی بحری حج سروس کو باضابطہ طور پر بند کردیا گیا تھا، جس کے بعد 1996 سے مکمل فضائی حج نظام نافذ ہوا۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی ممبئی کی بندرگاہوں، حاجی مسافر خانوں اور حج قافلوں سے وابستہ کئی دہائیوں پرانی روحانی روایات بھی ماضی کا حصہ بن گئیں۔ ایک وقت تھا جب ممبئی کو صرف تجارتی شہر نہیں بلکہ 'بابُ الحجاج کہا جاتا تھا۔ اترپردیش، بہار، کشمیر، بنگال، گجرات، کیرالا اور دکن سمیت ملک کے مختلف حصوں سے عازمینِ حج ممبئی پہنچتے تھے۔ حج سیزن میں بالارڈ پیئر، اندرا ڈاک اور یلو گیٹ کے اطراف روحانی منظر دیکھنے کو ملتا تھا۔ بندرگاہوں پر لبیک اللہم لبیک کی صدائیں گونجتی تھیں جب کہ رخصتی کے وقت ہزاروں افراد اپنے عزیزوں کو دعاؤں اور اشکبار آنکھوں کے ساتھ الوداع کہتے تھے۔بحری سفر کو صرف ایک سفری ذریعہ نہیں بلکہ روحانی تربیت کا حصہ تصور کیا جاتا تھا۔ کئی دنوں پر مشتمل اس سفر میں نماز باجماعت، تلاوتِ قرآن، ذکر و اذکار اور اجتماعی دعاؤں کا خصوصی ماحول قائم رہتا تھا۔ بزرگ عازمین کے مطابق سمندر کا طویل سفر انسان میں صبر، برداشت اور روحانی یکسوئی پیدا کرتا تھا۔ مختلف زبانوں، علاقوں اور مسالک سے تعلق رکھنے والے مسلمان ایک ہی جہاز پر جمع ہوکر اسلامی اخوت کی عملی تصویر پیش کرتے تھے۔ اس تاریخی روایت کی سب سے بڑی علامت مشہور مسافر بردار جہاز ایم وی اکبری تھا، جس نے تقریباً دودہائیوں تک لاکھوں ہندوستانی عازمین کو ممبئی سے جدہ پہنچایا۔ مگر 1995 میں فرسودگی، بڑھتے اخراجات، تکنیکی مسائل اور حکومتی پالیسی میں تبدیلی کے باعث اس جہاز کو مستقل طور پر بند کردیا گیا، اور اسی کے ساتھ ہندوستان کی بحری حج روایت بھی ختم ہوگئی۔ اس وقت حکومت کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ فضائی سفر زیادہ تیز، جدید اور محفوظ ہے، لیکن عوامی حلقوں اور سماجی تنظیموں کا ماننا تھا کہ اس فیصلے نے حج کو غریب مسلمانوں کی پہنچ سے دور کردیا۔ بحری سفر نسبتاً کم خرچ تھا اور محدود وسائل رکھنے والے افراد بھی برسوں کی معمولی بچت کے بعد حج کی سعادت حاصل کرلیتے تھے، مگر فضائی نظام نافذ ہونے کے بعد حج اخراجات مسلسل بڑھتے گئے۔ ماہرین اور سماجی کارکنوں کے مطابق آج حج ایک ایسا مہنگا سفر بنتا جارہا ہے جس کیلئے متوسط طبقہ بھی شدید مالی دباؤ کا شکار ہے۔ کئی خاندان اپنی جمع پونجی، زیورات یا قرض کے ذریعے حج کی ادائیگی پر مجبور ہیں۔ ایسے میں بحری حج سروس کی بندش کو غریب عازمین کیلئے ایک بڑا معاشی نقصان تصور کیا جاتا ہے۔ بحری حج سروس کی بندش کے خلاف اُس وقت ممبئی کے بندرگاہی علاقوں میں احتجاجی مظاہرے، دھرنے اور عوامی اجتماعات بھی منعقد ہوئے تھے۔ مختلف مذہبی رہنماؤں، سماجی کارکنوں اور تنظیموں نے اسے غریب مسلمانوں کیلئے ایک بڑا دھچکہ قرار دیا تھا۔اس دور میں نہ آن لائن رجسٹریشن تھی اور نہ کمپیوٹرائزڈ نظام۔ ویٹنگ لسٹ میں شامل عازمین آخری لمحے تک بندرگاہوں کے باہر امید لگائے بیٹھے رہتے تھے کہ شاید جہاز میں جگہ مل جائے۔ حاجی مسافر خانہ اور اطراف کے علاقے حج سیزن میں انسانی ہجوم اور روحانی جوش کا منظر پیش کرتے تھے۔ تاریخی اعتبار سے بھی برصغیر کے مسلمانوں کیلئے بحری حج سفر ایک عظیم روایت تھا۔ ابتدا میں مسلمان بادبانی کشتیوں اور زمینی قافلوں کے ذریعے حج پر جاتے تھے، بعدازاں برطانوی دور میں باقاعدہ اسٹیمر سروس شروع ہوئی، جس نے ممبئی کو ہندوستانی عازمینِ حج کا سب سے بڑا مرکز بنادیا۔ آج تین دہائیاں گزرنے کے باوجود ممبئی کی خاموش بندرگاہیں، سنسان بالارڈ پیئر اور ویران یلو گیٹ اُس روحانی دور کی یاد دلاتے ہیں جب سمندر کی لہروں کے ساتھ ''لبیک اللہم لبیک'' کی صدائیں پورے شہر میں گونجا کرتی تھیں۔ اگرچہ فضائی سفر نے وقت کی بچت اور جدید سہولتیں فراہم کی ہیں، لیکن بزرگ عازمین کے مطابق بحری سفر کی روحانیت، اجتماعیت اور تہذیبی رنگ آج بھی ناقابلِ فراموش ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ایک بڑا طبقہ کم خرچ بحری حج سروس کی بحالی کا مطالبہ کررہا ہے تاکہ غریب اور متوسط طبقے کے مسلمان بھی نسبتاً کم خرچ میں بیت اللہ کی حاضری کی سعادت حاصل کرسکیں۔