بنگال میں ترنمول کابھئے کال ختم ہوگا اور بی جے پی کا بھروسہ کال شروع ہوگا: وزیر اعظم
Awaz E Bihar••3 ویوز•6 منٹ پڑھیں
وزیر اعظم نریندر مودی نے لوک سبھا میں خواتین کے ریزرویشن ترمیمی بل کو منظور کرانے میں ناکام رہنے کے بعد بنگال میں اپنی پہلی ریلی میں ترنمول کانگریس پر جم کر تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مغربی بنگال کی برسراقتدار پارٹی خواتین کو خود کفیل بنانے کے خلاف ہے۔ اتوار کو بانکوڑہ کے برجورہ-بشنو پور علاقے میں ایک عظیم الشان جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ یہ موجود بھیڑ 'ظالم حکومت کے خلاف غصے کا اظہار' ہے۔ انہوں نے کہا کہ "بھیڑ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔ لوگ اس ریلی میں شرکت کے لیے گھنٹوں انتظار کر رہے ہیں۔ یہ لوگوں کے غصے کا اظہار ہے۔" ترنمول کو نشانہ بناتے ہوئے وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی دورِ حکومت میں خواتین کی شرکت بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ "ہم ملک کی ترقی میں خواتین کی شرکت چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ خواتین اور بیٹیاں سیاست میں آئیں۔ بی جے پی خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن چاہتی تھی، لیکن ترنمول ایسا نہیں چاہتی تھی، کیونکہ خواتین ان کے 'مہا جنگل راج کو چیلنج کر رہی ہیں۔" انہوں نے برسراقتدار جماعت پر خواتین کے ساتھ خیانت کرنے اور تفرقہ انگیز پالیسیوں کو فروغ دینے کا بھی الزام لگایا۔ مسٹر مودی نے کہا کہ "یہ وہی ترنمول ہے، جو دراندازوں کو ملک میں داخل ہونے دیتی ہے اور مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن چاہتی ہے۔ وہ دراندازوں کی بات سن رہے ہیں، کرمی سماج کی نہیں"۔ انہوں نے مزید کہا کہ کلکتہ ہائی کورٹ کے مشاہدات کو بھی نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نے حال ہی میں ناکام ہوئے آئین (131 ویں ترمیم) بل 2026 کا معاملہ بھی اٹھایا، جس کا مقصد نئی حد بندی کی مشق کے ساتھ جوڑ کر پارلیمنٹ میں خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن فراہم کرنا تھا۔ یہ بل 17 اپریل کو لوک سبھا میں ضروری دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا، جس سے 12 نرسوں میں پہلی بار ایسا ہوا کہ بی جے پی کی قیادت والی حکومت کی جانب سے تجویز کردہ کوئی آئینی ترمیم منظور نہ ہو سکی۔ اس قانون نے تلخ بحث چھیڑ دی تھی، جس میں اپوزیشن جماعتوں نے مرکز پر خواتین کے ریزرویشن کو متنازعہ حد بندی کے عمل سے جوڑنے کا الزام لگایا تھا۔ اس عمل کے تحت 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر انتخابی حلقوں کا از سر نو تعین کیا جانا ہے، جس سے لوک سبھا کی رکنیت 543 سے بڑھ کر تقریباً 850 ہونے کا امکان ہے۔ مسٹر مودی نے کہا کہ "خاتون ریزرویشن بل نافذ ہونا چاہیے، لیکن ترنمول ایسا نہیں چاہتی۔ وہ نہیں چاہتے کہ ریاست کی خواتین خود کفیل بنیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ سیاست میں خواتین کی شرکت بڑھے۔ انہیں اس کی سزا ملنی چاہیے۔" سلی گوڑی میں صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کے ساتھ پیش آئے حالیہ واقعے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ "آپ نے دیکھا کہ جب صدر یہاں آئیں تو ترنمول نے ان کی کس طرح توہین کی۔ یہ نہ صرف ملک یا آئین کی توہین ہے، بلکہ خواتین بالخصوص قبائلی خواتین کی توہین ہے"۔ انہوں نے کہا کہ "آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ یہ ترنمول چاہتی تھی کہ صدارتی انتخاب میں دروپدی مرمو کی ہار ہو، ٹھیک اسی طرح جیسے جواہر لال نہرو نے بی آر امبیڈکر کی مخالفت کی تھی"۔ ریاست میں اقتدار میں آنے پر بی جے پی کے وعدوں کے بارے میں بتاتے ہوئے مسٹر مودی نے کئی فلاحی اقدامات کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ "بنگال میں بی جے پی حکومت مفت راشن اور پی ایم آواس یوجنا کے تحت پکے گھروں کے لیے 1.5 لاکھ روپے دے گی۔ خواتین کو 5 لاکھ روپے تک کا مفت علاج ملے گا"۔ انہوں نے 'ماتری شکتی بھروسہ کارڈ کا بھی اعلان کیا، جس کے تحت خواتین کو سالانہ 36,000 روپے ملیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "حاملہ خواتین کو 21,000 روپے ملیں گے، اس کے بعد زچگی کے بعد 5,000 روپے اور تعلیم کے لیے 50,000 روپے کی مدد دی جائے گی"۔ بنیادی ڈھانچے کے خدشات پر مسٹر مودی نے الزام لگایا کہ ترنمول کا 'سنڈیکیٹ راج پائپ سے ہونے والی پانی کی سپلائی میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "بی جے پی کی ڈبل انجن حکومت ہر گھر تک پائپ سے پانی پہنچانا یقینی بنائے گی"۔ سخت وارننگ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ "میں ترنمول کے غنڈوں کو آخری موقع دے رہا ہوں- 29 اپریل سے پہلے تھانوں میں خودسپردگی کر دیں، ورنہ آپ کو بخشا نہیں جائے گا"۔ طرزِ حکمرانی کا موازنہ کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ "ترنمول کا 'بھئے کال ختم ہوگا، اور بی جے پی کا 'بھروسہ کال شروع ہونے والا ہے"۔ ریاستی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے الزام لگایا، "15 سال کی بدعنوانی نے مغربی بنگال کے ہر خاندان کو پریشان کیا ہے۔ ترنمول کے جنگل راج میں قبائلی اضلاع پسماندہ ہو رہے ہیں۔ سڑک، پانی، اسکول سب کچھ خستہ حال ہے۔ یہاں تک کہ قبائلیوں کی زمین پر بھی ان کا کنٹرول نہیں ہے، کیونکہ سنڈیکیٹ ہی سب کچھ چلا رہے ہیں۔" انہوں نے وعدہ کیا کہ بی جے پی حکومت غیر قانونی کان کنی، سنڈیکیٹ کنٹرول اور بدعنوانی کا خاتمہ کر دے گی۔ انہوں نے کہا، "بی جے پی اس لوٹ کو روکے گی اور آپ کے گھروں تک پانی پہنچائے گی۔ ہم اس سنڈیکیٹ سسٹم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔" خواتین کی سلامتی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے ترنمول پر سیکیورٹی کو کچلنے کا الزام لگایا اور ریاست میں خواتین کے خلاف تشدد اور جرائم کے واقعات کا ذکر کیا۔ انتخابی تبدیلی کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے ووٹروں سے ہر بوتھ پر ترنمول کو ہرانے کی درخواست کی۔ انہوں نے کہا، "آپ نے یہاں سے بی جے پی کے ارکانِ پارلیمنٹ کو منتخب کیا ہے۔ اب بی جے پی کے ارکانِ اسمبلی کو منتخب کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ آپ نے مجھے وزیر اعظم بنایا ہے، اب یہاں بی جے پی کا وزیر اعلیٰ بھی بنائیں۔"
انتخابی نتائج پر اعتماد ظاہر کرتے ہوئے مودی نے کہا، "اپنے سیاسی تجربے سے میں کہہ سکتا ہوں کہ 4 مئی کے بعد مغربی بنگال میں بی جے پی کا وزیر اعلیٰ ہوگا۔ اگر وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ دونوں بی جے پی کے ہوں گے تو پرولیا کی ترقی دوگنی رفتار سے ہوگی سی ایم، پی ایم ایک ساتھ، دن رات ترقی ہوگی۔"
فلاحی وعدوں کا ذکر کرتے ہوئے مودی نے واضح کیا کہ بی جے پی کے منشور کے تحت خواتین کو سالانہ 36,000 روپے، حمل کے دوران 21,000 روپے کی امداد اور تعلیم کے لیے 50,000 روپے دیے جائیں گے جبکہ 75 لاکھ خواتین کے لیے زیادہ آمدنی کو یقینی بنانے کی کوششیں بھی کی جائیں گی۔
انہوں نے پارلیمنٹ میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کی مخالفت پر بھی ترنمول کو نشانہ بنایا اور ووٹروں سے اپیل کی کہ اس انتخاب میں "اس جرم کے لیے پارٹی کو سزا دیں"۔