معاہدہ نہ ہونے پرٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو برے نتائج بھگتنے کی دھمکی دی
Awaz E Bihar••0 ویوز•3 منٹ پڑھیں
ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست بات چیت جاری ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا ہے کہ کسی معاہدے تک نہ پہنچنے کی صورت میں خطے کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا:ہم اس وقت ان سے بات کر رہے ہیں، ہم ایران سے بات کر رہے ہیں۔ اگر ہم کسی حل تک پہنچ گئے تو یہ شاندار ہوگا اور اگر ایسا نہ ہو سکا تو غالباً وہاں کچھ برے واقعات رونما ہوں گے۔انہوں نے مزید کہا:ہمارے جہاز اس وقت ایران کی سمت جا رہے ہیں،بڑے جہاز سب سے بڑے اور بہترین۔ ہم ایران کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں، دیکھتے ہیں معاملات کس رخ پر جاتے ہیں۔ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں ایک امریکی طیارہ بردار جہاز اور اس کی معاون جنگی جہازوں کی آمد نے اس امکان کو بڑھا دیا ہے کہ اگر ٹرمپ چاہیں تو وہ فوجی کارروائی کا فیصلہ کر سکتے ہیں، خصوصاً ایرانی حکام کی جانب سے مظاہروں سے نمٹنے کے تناظر میں دی جانے والی دھمکیوں کے بعد۔اگرچہ ٹرمپ ایران کے خلاف مداخلت کی دھمکیوں پر عمل درآمد تک نہیں پہنچے، تاہم بعد ازاں انہوں نے ایران سے اس کے جوہری پروگرام کے حوالے سے رعایتوں کا مطالبہ کیا۔ دونوں ممالک نے اس دیرینہ جوہری تنازع پر سفارتی مذاکرات کی بحالی کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔ایک اور معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکی انتظامیہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششوں کے حوالے سے جلد کچھ اچھی خبروں کا اعلان کر سکتی ہے۔انہوں نے کہا: میرا خیال ہے کہ ہم یوکرین اور روس کے ساتھ اچھی پیش رفت کر رہے ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے جب میں یہ بات کہہ رہا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ شاید ہمیں کچھ خوش آئند خبریں ملیں۔ اسی دوران ٹرمپ نے تصدیق کی کہ میکسیکو کیوبا کو تیل کی ترسیل روک دے گا، جب کہ امریکہ نے جزیر? نما کمیونسٹ ملک کو خام تیل فراہم کرنے والے ممالک پر محصولات عائد کرنے کی دھمکی دی تھی۔اوول آفس میں پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے کہا:کیوبا ایک ناکام ریاست ہے۔ میکسیکو وہاں تیل بھیجنا بند کر دے گا۔انہوں نے مزید کہا :میرا خیال ہے کہ ہم کسی معاہدے کے بہت قریب ہیں، لیکن اس وقت ہم کیوبا کی قیادت کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں، تاہم اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی۔