جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
ٹرمپ نے ہندوستانی انتخابی نظام کو ’ماڈل‘ قرار دیا
  1. ہوم
  2. عالمی خبریں
عالمی خبریں

ٹرمپ نے ہندوستانی انتخابی نظام کو ’ماڈل‘ قرار دیا

Awaz E Bihar•18 اگست، 2026 کو 03:49 PM•17 ویوز•6 منٹ پڑھیں

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ہندوستان کے انتخابی نظام کو امریکہ کے لیے ایک بہترین نمونہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں ووٹنگ کے لیے فوٹو شناختی دستاویز کا استعمال کیا جاتا ہے اور ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے پر انحصار محدود ہے۔ انہوں نے کانگریس سے ووٹنگ کے قوانین سخت کرنے کے لیے قانون سازی کی اپنی اپیل ایک بار پھر دہرائی۔
ٹرمپ کے ان بیانات کے بعد ہندوستان کا انتخابی نظام امریکہ میں ووٹر تک رسائی، انتخابی سلامتی اور ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کے استعمال سے متعلق جاری متنازع بحث کا حصہ بن گیا ہے۔
سیو امریکہ ایکٹ سینیٹ میں تعطل کا شکار ہے، جبکہ ٹرمپ اور ان کے ریپبلکن اتحادی 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ووٹنگ کے قوانین سخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ہندوستان کے 2024 کے عام انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 64 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ افراد نے ووٹ دیا اور ایک فیصد سے بھی کم ووٹ ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے امریکی حکام سے سوال کیا تھا کہ امریکہ میں لازمی فوٹو شناخت کے بغیر انتخابات کیسے کرائے جا سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے لکھا، ’’اس ماہ کے آغاز میں ہندوستان کے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے ہماری انتظامیہ سے پوچھا-آپ امریکہ میں درست فوٹو شناخت کے بغیر انتخابات کیسے کرا سکتے ہیں؟
انہوں نے کہا، ’’ہندوستان کے گزشتہ انتخابات میں 646,000,000 ووٹرز تھے! ایک فیصد سے بھی کم نے ڈاک کے ذریعے ووٹ دیا اور ہر ووٹر کے لیے درست فوٹو شناختی دستاویز لازمی تھی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’ہمیں اب سیو امریکہ ایکٹ منظور کرنا ہوگا۔‘‘
ٹرمپ کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ان کی انتظامیہ Safeguard American Voter Eligibility (SAVE) Act کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مجوزہ قانون کے تحت ووٹر رجسٹریشن کے لیے شہریت کا دستاویزی ثبوت پیش کرنا اور وفاقی انتخابات میں ملک گیر ووٹر شناختی نظام نافذ کرنا ضروری ہوگا۔
ہندوستان میں امریکی سفیر سرجیو گور نے بھی ٹرمپ کے بیان کی حمایت کرتے ہوئے ایکس پر لکھا،’’صدر ڈونالڈ جے ٹرمپ بالکل درست ہیں!ہندوستان کے گزشتہ انتخابات میں 646 ملین ووٹرز تھے اور ہر ایک کے لیے شناختی دستاویز لازمی تھی۔ کانگریس کو سیو امریکہ ایکٹ منظور کرنا چاہیے۔‘‘مجوزہ قانون میں ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کے لیے مزید سخت ضوابط، ووٹرز کی اہلیت کی مضبوط جانچ اور انتخابی فہرستوں سے نااہل افراد کی شناخت کرکے انہیں خارج کرنے کے لیے اختیارات میں توسیع بھی شامل ہے۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کی ضرورت غیر شہریوں کو ووٹ ڈالنے سے روکنے اور انتخابی عمل پر عوام کے اعتماد کو مضبوط بنانے کے لیے ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ بارہا ہندوستان اور برازیل کو ایسے ممالک کی مثال کے طور پر پیش کر چکی ہے جہاں ووٹر شناخت کو بایومیٹرک نظام سے منسلک کیا گیا ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں امریکہ میں شہریت کے خود اقراری نظام پر زیادہ انحصار کی نشاندہی کی جاتی ہے۔
مارچ 2025 میں ٹرمپ کے دستخط کردہ ایک ایگزیکٹو آرڈر میں بھی ہندوستان اور برازیل کو ایسے ممالک کی مثال کے طور پر پیش کیا گیا تھا جہاں ووٹر شناخت بایومیٹرک نظام سے منسلک ہے۔ حکم نامے میں امریکی انتخابات کے لیے زیادہ مضبوط حفاظتی اقدامات، بشمول ووٹر کے ذریعے قابل تصدیق کاغذی ریکارڈ اور ڈاک و غیرحاضری کے بیلٹ کی مزید سخت جانچ کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
ٹرمپ یہ مؤقف بھی بارہا اختیار کر چکے ہیں کہ ڈاک کے ذریعے ووٹنگ سے دھوکہ دہی اور غلطیوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ انتظامیہ نے ووٹر شناخت اور شہریت کے ثبوت کی لازمی شرط کے لیے حمایت بڑھانے کی غرض سے ان رائے عامہ کے جائزوں کا بھی حوالہ دیا ہے جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ ان میں عوام کی بڑی تعداد ان تقاضوں کی حمایت کرتی ہے۔
ٹرمپ نے مارچ 2026 میں ایک اور ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے، جس کے تحت وفاقی انتخابات کے لیے شہریت کی تصدیق کو مضبوط بنانے اور ڈاک و غیرحاضری کے بیلٹ سے متعلق طریقہ کار کو مزید سخت کرنے کی ہدایت دی گئی۔
سیو ایکٹ کیپٹل ہل پر بدستور سیاسی تنازع کا باعث بنا ہوا ہے۔ ڈیموکریٹس اس کی متعدد شقوں کی سخت مخالفت کر رہے ہیں، جبکہ ریپبلکنز کے درمیان بھی بعض معاملات پر اختلافات سامنے آئے ہیں۔ سینیٹ نے اس ماہ کے آغاز میں قانون پر فیصلہ کن کارروائی کیے بغیر پانچ ہفتوں کی تعطیلات شروع کر دی تھیں۔اس کے باوجود ٹرمپ نے اس بل کو اپنے انتخابی سالمیت کے ایجنڈے کا اہم حصہ بنائے رکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی انتخابات کے تحفظ کے لیے ووٹر کی لازمی شناخت اور شہریت کی تصدیق ضروری ہے۔
ہندوستان کے بڑے پیمانے پر انتخابی عمل اور ووٹر شناخت کی لازمی شرائط کا حوالہ دے کر ٹرمپ امریکہ کے انتخابی قوانین میں تبدیلی کی اپنی مہم میں ہندوستانی نظام کو ایک اہم مثال کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
زیادہ سخت پابندیوں کے حامی طویل عرصے سے ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کی شفافیت پر سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ کمیشن آن فیڈرل الیکشن نے خبردار کیا ہے کہ ڈاک کے ذریعے ووٹنگ سے دھوکہ دہی اور متنازع انتخابات کے خطرات بڑھ سکتے ہیں، تاہم کمیشن نے یہ بھی کہا ہے کہ غیرحاضری کے بیلٹ میں ووٹوں کی خرید و فروخت کی اسکیموں کا پتہ لگانے میں خاص مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
2012 میں نیویارک ٹائمز کی ایک تحقیق میں بھی ڈاک کے ذریعے ڈالے جانے والے بیلٹ سے متعلق خدشات کا جائزہ لیا گیا تھا، جن میں یہ امکان بھی شامل تھا کہ ذاتی طور پر ڈالے گئے ووٹوں کے مقابلے میں ایسے بیلٹ کو چیلنج یا متاثر کیے جانے کے امکانات زیادہ ہو سکتے ہیں۔
حال ہی میں ہاوس ری پبلکن پالیسی کمیٹی نے بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ بڑے پیمانے پر ڈاک کے ذریعے ووٹنگ سے غلطیوں اور دھوکہ دہی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، خاص طور پر ان ریاستوں میں جہاں ووٹر فہرستوں کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ نہیں کیا جاتا اور اس سے انتخابی نظام پر عوام کا اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔
شیئر کریں:

More from عالمی خبریں

غزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویرسے پوری دنیا حیران
عالمی خبریں

غزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویرسے پوری دنیا حیران

29 ستمبر، 2026
امریکہ و چین 60 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے پر متفق
عالمی خبریں

امریکہ و چین 60 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے پر متفق

28 ستمبر، 2026
 آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے و اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے کا اعلان
عالمی خبریں

آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے و اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے کا اعلان

26 ستمبر، 2026
ہم فلسطین کے معاملے میں ناکام ہیں، آئرش وزیر اعظم مارٹن کا اقوام متحدہ میں خطاب
عالمی خبریں

ہم فلسطین کے معاملے میں ناکام ہیں، آئرش وزیر اعظم مارٹن کا اقوام متحدہ میں خطاب

25 ستمبر، 2026
دو عظیم رہنما ؤں کی نازک تجارتی جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش
عالمی خبریں

دو عظیم رہنما ؤں کی نازک تجارتی جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش

24 ستمبر، 2026
ایرانی پاسداران انقلاب کا امریکہ کے ساتھ طویل جنگ کے لیے تیار ہونے کا اعلان، نئی صلاحیتیں استعمال کرنے کی دھمکی
عالمی خبریں

ایرانی پاسداران انقلاب کا امریکہ کے ساتھ طویل جنگ کے لیے تیار ہونے کا اعلان، نئی صلاحیتیں استعمال کرنے کی دھمکی

21 ستمبر، 2026