ٹرمپ کا حماس کے غیر مسلح ہونے کے معاہدے کا دعویٰ، غزہ نئی فلسطینی انتظامیہ کے سپرد ہوگا
Awaz E Bihar••14 ویوز•3 منٹ پڑھیں
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو دعویٰ کیا کہ "بورڈ آف پیس" نے غزہ میں حماس اور دیگر تمام مسلح گروہوں کے غیر مسلح ہونے کے لیے ایک تاریخی معاہدہ طے کر لیا ہے۔ ان کے مطابق اس معاہدے کے تحت مرحلہ وار اسرائیلی افواج کا غزہ سے انخلا عمل میں آئے گا اور بالآخر غزہ کا انتظام ایک نئی فلسطینی انتظامیہ کے سپرد کر دیا جائے گا۔ تاہم اس اعلان کے باوجود حماس اور اسرائیل کی جانب سے اس معاہدے کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر جاری بیان میں کہا کہ یہ معاہدہ ان کے 20 نکاتی امن منصوبے پر عمل درآمد کی جانب ایک اہم پیش رفت اور دیرپا امن و استحکام کے قیام کی سمت ایک تاریخی سنگ میل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حماس اور غزہ میں موجود دیگر تمام مسلح گروہوں کے غیر مسلح ہونے کا عمل مختلف مراحل میں مکمل کیا جائے گا اور جیسے جیسے یہ عمل آگے بڑھے گا، اسرائیلی فوج بھی مرحلہ وار غزہ سے واپس ہٹتی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت غزہ کا انتظام بالآخر ایک نئی فلسطینی انتظامیہ کے سپرد کیا جائے گا، جو فلسطینی عوام کی خدمت کے لیے "بورڈ آف پیس" کے ساتھ قریبی تعاون کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے اسرائیل کو بھی مطلوبہ سلامتی حاصل ہوگی اور غزہ کو دوبارہ دہشت گرد حملوں کے اڈے کے طور پر استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ غزہ میں امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داری ایک بین الاقوامی استحکام فورس اور نئی فلسطینی پولیس فورس مشترکہ طور پر سنبھالیں گی، جو شہریوں اور پڑوسی ممالک کے تحفظ کو یقینی بنائیں گی۔ امریکی صدر نے کہا کہ صرف ایک سال قبل غزہ شدید جنگ، سنگین انسانی بحران اور یرغمالیوں کی قید جیسے حالات سے دوچار تھا، لیکن اب ایک تاریخی پیش رفت حاصل کی گئی ہے، اگرچہ ابھی بھی بہت سا کام باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 7 اکتوبر کو غزہ سے ابھرنے والے خطرے کو دوبارہ سر اٹھانے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے ثالثی کرنے والے ممالک مصر، قطر اور ترکیہ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا اور اپنی ٹیم کی انتھک محنت کو بھی اس کامیابی کا اہم سبب قرار دیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ یہ ایک ایسی پیش رفت ہے جسے بہت سے لوگ کبھی ممکن نہیں سمجھتے تھے۔تاہم اس اعلان کے باوجود یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا حماس اور اسرائیل باضابطہ طور پر اس معاہدے کا حصہ ہیں یا نہیں، کیونکہ دونوں فریقوں کی جانب سے فوری طور پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ دوسری جانب خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق قاہرہ میں ثالثی کرنے والے ممالک اور حماس کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں غیر معمولی پیش رفت ہوئی ہے، تاہم ایک اسرائیلی عہدیدار نے مجوزہ شرائط کو اسرائیل کے لیے غیر اطمینان بخش قرار دیا ہے۔