امریکہ ایران کشیدگی میں ایک اور وقفہ، کیا جنگ واقعی رک گئی یا نئی حکمتِ عملی ہے؟
Awaz E Bihar••23 ویوز•5 منٹ پڑھیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر متوقع طور پر جمعے کے روز ایران پر روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے امریکی حملے یک طرفہ طور پر روک دیے، تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ فیصلہ کیوں کیا گیا اور یہ عارضی جنگ بندی کب تک برقرار رہے گی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس وقفے کو مکمل جنگ بندی سمجھنا قبل از وقت ہو گا، کیونکہ خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ عارضی جنگ بندی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ کی جانب سے ایران کو آبنائے ہرمز کے جنوبی بحری راستے پر آمادہ کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ عراق کے وزیرِاعظم علی فالح الزیدی کی ثالثی کی کوششیں بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئیں، گزشتہ ہفتے وہ وائٹ ہاؤس کے دورے کے بعد تہران پہنچے تھے، جہاں امریکی صدر ٹرمپ نے انہیں شاندار رہنما قرار دیا تھا، تاہم ایران نے مزید ثالثی کی ضرورت مسترد کرتے ہوئے امریکہ پر غیر منطقی، توسیع پسندانہ اور بالادستی پر مبنی پالیسی اختیار کرنے کا الزام عائد کیا۔ماہرین کے مطابق امریکہ اس وقفے کو اپنی جنگی حکمتِ عملی از سرِ نو ترتیب دینے کے لیے استعمال کر سکتا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتف حال واشنگٹن کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ ایک سفارت کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ اگر صدر ٹرمپ واقعی جنگ روکنا چاہتے تو وہ ایران پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان بھی کرتے۔ دوسری جانب تہران واضح کر چکا ہے کہ وہ نہ تو کسی بحری ناکہ بندی کو قبول کرے گا اور نہ ہی آبنائے ہرمز کو جنگ سے پہلے والی صورتِ حال میں واپس جانے دے گا۔ماہرین کا خیال ہے کہ موجودہ خاموشی ممکنہ طور پر ایک بڑے تصادم سے پہلے کا وقفہ ہے، کیونکہ ان کے مطابق صدر ٹرمپ اب بھی جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کے خواہاں ہیں، حالانکہ ایک حالیہ امریکی سروے کے مطابق 68 فیصد امریکی اس جنگ کو ضروری نہیں سمجھتے۔ ایک اور سفارت کار کے مطابق وسطِ مدتی انتخابات کے نتائج سے قطعِ نظر ایران سے متعلق امریکی پالیسی میں بڑی تبدیلی کا امکان کم ہے۔ ان کے بقول اگر ریپبلکن کامیاب ہوتے ہیں تو صدر ٹرمپ اسے اپنی پالیسیوں کی توثیق قرار دیں گے، جبکہ شکست کی صورت میں بھی وہ جنگی اہداف مکمل کرنے کی کوشش جاری رکھ سکتے ہیں۔ ادھر امریکہ اور اس کے اتحادی ایران پر مزید اقتصادی پابندیاں عائد کر رہے ہیں، جبکہ امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کو دہشت گرد تنظیم قرار دینا بھی دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی ایک اہم علامت سمجھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطے میں کشیدگی کے بادل ابھی چھٹنے والے نہیں اور آئندہ دنوں میں صورتِ حال مزید سنگین ہوسکتی ہے۔ایران کے مطابق ہفتے کے روز ہونے والے حملے میں ایک ایرانی ملاح جاں بحق جبکہ دوسرا زخمی ہوا، جس کے بعد تہران نے یوکرین کے سفارتی نمائندے کو دفترِ خارجہ طلب کر کے اس کارروائی کو دشمنانہ اور مجرمانہ اقدام قرار دیا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران پر امریکا کے مسلسل 13 روزہ حملوں کے بعد وقتی وقفہ آیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بحیرۂ کیسپین جسے طویل عرصے سے ایران کا نسبتاً محفوظ بحری راستہ سمجھا جاتا تھا، اب ممکنہ طور پر ایک نئے محاذ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ ایران پہلے ہی اپنی جنوبی ساحلی پٹی پر دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، جہاں امریکہ آبنائے ہرمز کے اطراف بحری ناکہ بندی برقرار رکھے ہوئے ہے، جبکہ یمن کے حوثی باغیوں کی کارروائیاں بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کو متاثر کر رہی ہیں، ایسے میں بحیرۂ کیسپین میں بھی خطرات بڑھنے سے ایران کے اہم تجارتی اور تزویراتی بحری راستوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔ 2022ء میں ایران کی جانب سے روس کو شاہد (Shahed) ڈرون فراہم کیے جانے کے بعد تہران اور کیف کے تعلقات میں شدید کشیدگی پیدا ہوئی۔ یوکرین کا دعویٰ ہے کہ روس نے ایرانی ساختہ ڈرونز کو مزید بہتر بنا کر ہزاروں کی تعداد میں یوکرینی شہروں پر حملوں میں استعمال کیا، جبکہ یوکرینی افواج اب تک 44 ہزار سے زائد ایرانی ڈیزائن کے ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کرتی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بحیرۂ کیسپین میں یہ حملہ ایران کے لیے انتہائی تشویش ناک ہے کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تنازع ایک اور بحری محاذ تک پھیل سکتا ہے۔ ایران نے ابھی تک یوکرین کے خلاف کسی ممکنہ جوابی کارروائی کا اعلان نہیں کیا، تاہم ایرانی مبصرین کا کہنا ہے کہ یوکرین ایران کے متعدد میزائل اور ڈرون نظاموں کی زد میں ہے، جس کے باعث تہران کے پاس عسکری ردِعمل کے مختلف آپشنز موجود ہیں۔ رپورٹس کے مطابق قطر، مصر، پاکستان اور دیگر علاقائی ثالثوں نے واشنگٹن اور تہران کو 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز پیش کی ہے تاکہ گزشتہ ماہ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (MoU) پر مذاکرات دوبارہ شروع کیے جا سکیں۔ ماہرین کے مطابق بحیرۂ کیسپین میں پیش آنے والا واقعہ ایران پر اقتصادی اور عسکری دباؤ بڑھانے کی ایک کوشش ہو سکتا ہے، اگر ایران کے شمالی بحری راستے بھی غیر محفوظ ہو گئے تو اس سے توانائی کی برآمدات، تجارتی سرگرمیوں اور فوجی رسد کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے، جس سے مستقبل کے مذاکرات میں امریکہ کو نسبتاً زیادہ سفارتی برتری حاصل ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب سابق امریکی نائب معاون وزیر دفاع برائے مشرق وسطیٰ مائیکل ملروئے کا کہنا ہے کہ جب تک ایران آبنائے ہرمز پر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھتا ہے، امریکہ کے لیے صورتِ حال آسان نہیں ہو گی۔انہوں نے کہا ہے کہ فی الحال مذاکرات میں کسی بڑی پیش رفت کے آثار نظر نہیں آ رہے، جبکہ ایران بھی آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے پر مطمئن دکھائی دیتا ہے۔