معاہدہ طے پانے تک امریکہ ایرانی بندرگاہوں سے ناکہ بندی نہیں ہٹائے گا: ٹرمپ
Awaz E Bihar••3 ویوز•5 منٹ پڑھیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جب تک ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہو جاتا، تب تک امریکہ ایرانی بندرگاہوں سے اپنی ناکہ بندی نہیں ہٹائے گا۔بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق مسٹر ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب اس بارے میں غیر یقینی صورتحال ہے کہ آیا جنگ کے خاتمے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان نئی بات چیت ہو گی۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ ایک ہفتہ قبل شروع ہونے والی ناکہ بندی ایران کو مکمل طور پر تباہ کر رہی ہے اور امریکہ اس تنازع میں بہت آگے ہے۔ قابل ذکر ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی بدھ کو ختم ہونے والی ہے تاہم اس بات کا کوئی یقین نہیں ہے کہ پاکستان میں امن مذاکرات کا دوسرا دور آگے بڑھے گا یا نہیں۔ اجلاس کے پیش نظر پاکستان کے دارالحکومت میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں تاہم امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ابھی تک واشنگٹن روانہ نہیں ہوئے ہیں جب کہ ایران کا کہنا ہے کہ اس نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا ہے کہ وہ اس میں شرکت کرے گا یا نہیں۔ مسٹر وینس دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت کریں گے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق، ناکہ بندی شروع ہونے کے بعد سے، امریکی فوج نے 27 بحری جہازوں کو واپس جانے یا ایرانی بندرگاہ کی طرف موڑنے کی ہدایت کی ہے۔ امریکہ نے تنازع کے دوران پہلی بار ایک ایرانی پرچم والے کارگو جہاز کو بھی روکا اور قبضے میں لیا۔ اس جہاز نے اتوار کو ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کی تھی۔ سینٹ کام کے ذریعے شیئر کی گئی ویڈیو میں مبینہ طور پر دکھایا گیا ہے کہ جہاز پر فوجیوں کے اترنے سے پہلے اسے وارننگ دی گئی تھی۔ انہوں نے جون 2025 میں ایران کی جوہری تنصیبات پر کیے گئے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے گزشتہ روز کہا کہ آپریشن "مڈنائٹ ہیمر" ایران میں نیوکلیئر ڈسٹ سائٹس کی مکمل تباہی تھا ۔ امریکی صدر طویل عرصے سے یہ مؤقف رکھتے آئے ہیں کہ ان حملوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کر دیا جبکہ حال ہی میں انہوں نے یورینیم کے ذخیرے کو "گرد" قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اسے کھود کر نکالنا دِقّت طلب کام ہوگا۔ واضح رہے کہ یہ بیانات پاکستان میں ممکنہ اعلیٰ سطحی مذاکرات سے پہلے سامنے آئے ہیں۔ ٹرمپ نے اتوار کو اعلان کیا تھاکہ امریکی نمائندے مذاکرات کے لیے اسلام آباد جائیں گے، تاہم تہران نے ابھی تک باضابطہ طور پر اپنی شرکت کی تصدیق نہیں کی اور آبنائے ہرمز پر امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان نے 11-12 اپریل کو اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان پہلی براہِ راست اعلیٰ سطحی بات چیت کی میزبانی کی، جو 1979 میں دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات منقطع ہونے کے بعد پہلا ایسا رابطہ تھا تاہم یہ مذاکرات کسی پیش رفت کے بغیر ختم ہو گئے۔ ریڈیو انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ مذاکرات کے ذریعے منصفانہ ڈیل ہو جائے گی اور ایرانی قیادت اپنے ملک کی بہتری کے لیے مثبت اقدامات کرے گی۔ انھوں نے واضح کیا کہ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، اگر ایران کو نیوکلیئر بم بنانے دیا گیا تو یہ دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔ امریکی صدر نے کہا آبنائے ہرمز پر اس وقت امریکہ کا کنٹرول ہے اور ناکہ بندی کے باعث ایران کو روزانہ تقریباً 500 ملین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، امریکہ کا مقصد جنگ کو ختم کرنا ہے تاکہ ہر کوئی خوش ہو۔ انھوں نے کہا ایران میں ملٹری ایکشن کے علاوہ اور کوئی چوائس نہیں تھی، ہمارے پاس کوئی چوائس نہیں تھی اس لیے کارروائی کرنی پڑی، ہم نے اچھا کام کیا اور اس کو انجام تک پہنچائیں گے، جنگ کو ختم کریں گے، ہر کوئی خوش ہونے والا ہے، ایران سے ڈیل ہونے کے بعد اشیا اور انرجی کی قیمتیں نیچے آ جائیں گی۔ ٹرمپ نے کہا ایران کو ایٹمی ہتھیار رکھنے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی تھی، ایران مشرق وسطیٰ اور اسرائیل کو ناک آؤٹ کرنے کے بعد امریکہ آجاتا۔ امریکی صدر نے کہا ایران کے ساتھ معاملہ ختم ہونے کے قریب ہے، ویتنام، افغانستان اور عراق میں کئی سال تک جنگیں لڑی گئیں، ہم ایران جنگ 2 سے 3 ماہ میں نمٹا رہے ہیں، اگر ایران کو نیو کلیئر بم کی اجازت دی تو یہ دنیا کے لیے تباہی ہوگی۔ دریں اثنا، سوشل میڈیا پوسٹ میں امریکی صدر نے کہا کہ ڈیموکریٹس ایران معاملے پر ہماری مضبوط پوزیشن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں، پہلی، دوسری جنگ عظیم، کوریا، ویتنام ، عراق جنگ سالوں جاری رہیں، میں نے ایران جنگ کے خاتمے کے لیے 6 ہفتے کی ٹائم لائن دی لیکن نتیجہ کہیں زیادہ جلد نکلا۔ انھوں نے کہا امریکہ ڈیل کے لیے جلد بازی میں گھاٹے کا سودا نہیں کرے گا، فیک نیوز میڈیا کہتا ہے میں ڈیل کے لیے دباؤ میں ہوں، یہ سچ نہیں ہے اور میں کسی قسم کے بھی دباؤ میں نہیں، اہم بات یہ ہے کہ 47 سال میں جو کوئی امریکی صدر نہ کر سکا وہ میں نے کر دکھایا، ہماری کامیابی کو کم تر کہنے والے ڈیموکریٹس اور غداروں کو کامیاب نہیں ہونے دوں گا۔