وندے ماترم: تاریخ کی تخیّل آرائی اور سیاست کی حقیقت
Awaz E Bihar••0 ویوز•8 منٹ پڑھیں
تحریر: یوسف شمسی
وندے ماترم کی ڈیڑھ سو سالہ سالگرہ کے موقع پر پارلیمنٹ میں اس کی گونج اور باہر بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک بار پھر تاریخ اور حال کے بیچ جاری بحث کو زندہ کر دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا تاریخی تنازعات کی سیاست نے سماجی ہم آہنگی کو مزید کمزور کیا ہے؟ وندے ماترم پر پارلیمنٹ میں ہونے والی دس گھنٹے طویل بحث سے آخر کیا حاصل ہوا؟ کیا کسی نے کوئی سبق سیکھا؟ کیا ملک میں کہیں بھی ہم آہنگی، باہمی احترام اور مشترکہ وراثت کو سمجھنے اور سمجھانے کا کوئی ماحول بنا؟ حکمراں جماعت، اور بالخصوص بی جے پی، اس بات سے خوش دکھائی دیتی ہے کہ اس نے کانگریس پارٹی اور جواہر لال نہرو پر بدنامی کا ایک اور داغ لگا دیا اور ان پر یہ الزام جڑ دیا کہ جیسے ملک کی تقسیم کی طرح وندے ماترم کو بھی تقسیم کرنے کے ذمہ دار وہی ہیں۔ وہ اس بات سے بھی مطمئن ہے کہ اسے اقلیتی طبقے پر، خاص طور پر مسلمانوں پر، ایک ایسا گیت مسلط کرنے کا بہانہ مل گیا ہے جسے مسلمان معاشرہ شرک سمجھتا ہے۔ دوسری جانب کانگریس اور حزبِ اختلاف اس بات سے خوش ہیں کہ انہوں نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی تاریخ کے متنازع حصوں کو اٹھا کر بھارتی یکجہتی کو نقصان پہنچا رہے ہیں، اور چونکہ سنگھ پریوار کی آزادی کی جدوجہد میں براہِ راست شرکت نہیں رہی، اس لیے وہ اس وراثت کی کچھ زمین اپنے نام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حزبِ اختلاف نے یہ بھی باور کرایا کہ بی جے پی ایک بار پھر لارڈ کرزن کی طرح بنگال کے انتخابات کو نشانہ بناتے ہوئے اسے تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، یعنی بی جے پی ایک نئے بنگ بھنگ کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ ہمایوں کبیر کی جانب سے مرشد آباد میں بابری مسجد کے سنگِ بنیاد اور پارلیمنٹ میں وندے ماترم پر بحث کے بعد نئے مغربی بنگال میں دوسرے بنگ بھنگ کی تیاری ہو چکی ہے۔
تاریخ کی تخیّل آرائی بمقابلہ تخیّل کی تاریخ: اس بحث میں کئی مقررین نے اسے غیر متعلق قرار دیتے ہوئے بھی کچھ باتیں کہیں، جن کا خلاصہ یہ تھا کہ سیاست کو تاریخ کے تنازعات میں الجھنے کے بجائے حال کے مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔ سیاست تاریخ کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے حال کو مسخ کر رہی ہے۔ یہاں پر ایک مورخ کی بات یاد آتی ہے کہ تاریخ کے مباحث کو مورخین کے لیے چھوڑ دینا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ تاریخ خود ایک تخیّل ہے، اور اسے سچ یا حقیقت سے ثابت کرنے کی کتنی ہی کوششیں کیوں نہ کی جائیں، وہ تخیّل سے مکمل طور پر پاک نہیں ہو سکتی۔ ہر تاریخ میں تخیّل کا عنصر ہوتا ہے اور ہر تخیّل کی اپنی ایک تاریخ ہوتی ہے۔ دوسری طرف تخیّلات کی بھی اپنی تاریخ ہوتی ہے، اور جب وہ تاریخ کا حصہ بنتے ہیں تو تاریخ اور سیاست کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ وندے ماترم کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے۔ یہ مسئلہ بی جے پی بمقابلہ کانگریس سے زیادہ تاریخ کی تخیّل آرائی اور تخیّل کی تاریخ کا ہے۔ بھارت کی آزادی کی تحریک میں نعروں اور بیانیوں کی صورت میں بہت سی ایسی چیزیں ہیں جنہیں اگر کشادہ دلی سے دیکھا جائے تو وہ جوڑنے کا کام کرتی ہیں، اور اگر تنگ نظر قوم پرستی کے ساتھ ان کی تعبیر کی جائے تو وہ تقسیم کا سبب بنتی ہیں۔ وندے ماترم بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ وندے ماترم اور اس سے وابستہ ناول ’آنندمٹھ‘ سنیاسی بغاوت جیسی ایک تاریخی حقیقت کی تخیّلاتی پیش کش ہے۔
سنیاسی بغاوت کی اصل حقیقت پر خاموشی: اس ناول اور اس گیت کے ذریعے پیش کی گئی بنگ ماتا کی انسانی صورت ہندوستانی قوم پرستی کے تخیّل میں اس طرح رچ بس گئی ہے کہ اب سنیاسی بغاوت کی اصل حقیقت پر گفتگو ہی نہیں ہوتی، بلکہ اس سے ابھرنے والی بھارت ماتا کے نسوانی روپ پر ہی بات کی جاتی ہے۔ پارلیمنٹ میں بنکم چندر چٹرجی کو عظیم شاعر اور ادیب بتانے والے یہ ذکر کرنا بھول گئے کہ بنکم نے ایک مشترکہ وراثت کی بغاوت کو فرقہ وارانہ رنگ دے دیا تھا۔ بنکم انگریزوں کے ملازم تھے اور انہوں نے اس ناول کے ذریعے انگریزی اقتدار کے جواز کو درست ٹھہرانے کی کوشش کی۔ یہ بھی یاد دلانا ضروری ہے کہ بنکم نے انگریزوں کے خلاف ’سامیہ‘ کے نام سے ایک مضمون لکھا، مگر بعد میں اسے واپس لے لیا۔ لیکن تاریخ کسی کی تخیّلات میں قید نہیں رہتی۔ انگریزوں کے حق میں لکھے گئے ناول کا یہی گیت بعد میں انگریزوں کے خلاف بغاوت کا نعرہ بن گیا۔ یہ کتنی بڑی ستم ظریفی ہے کہ بنکم نے انگریزوں کے ٹوڈی میر جعفر کے خلاف ہونے والی اس بغاوت کو مسلم اقتدار کے خلاف بغاوت ثابت کر دیا، جس میں بھوانی پاٹھک، دیوی چودھرانی، مجنوں شاہ، موسیٰ شاہ اور چراغ علی ایک ساتھ لڑے تھے۔ اس سے بھی بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ ایک تخیّلاتی گیت خود تاریخ کی ایک زندہ حقیقت بن گیا۔
انگریزوں کی تقسیم در تقسیم کی پالیسی درحقیقت انگریزوں کی تقسیم در تقسیم کی پالیسی منظم انداز میں اسی وقت شروع ہو گئی تھی جب 1857 میں ہندوؤں اور مسلمانوں نے متحد ہو کر ان کے خلاف آزادی کی پہلی جنگ لڑی۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ اس جنگ میں بنگال انفنٹری شامل تھی اور منگل پانڈے نے بیرک پور چھاؤنی میں بغاوت کی تھی، مگر بنگال کا اشرافیہ طبقہ (بھدرلوک) اس سے الگ رہا۔ اسی طرح پنجاب بھی اس بغاوت سے الگ تھا، اسی لیے دہلی میں بغاوت کچلنے کے لیے انگریزوں نے سکھ اور گورکھا رجمنٹوں کا استعمال کیا۔ یہ بھی قابلِ غور ہے کہ 1857 میں، جب وندے ماترم لکھا ہی نہیں گیا تھا، تب ’اللہ ہو اکبر‘ اور ’ہر ہر مہادیو‘ کے نعرے ایک ساتھ لگتے تھے۔ جب میرٹھ سے باغی سپاہی دہلی کی طرف روانہ ہوئے تو انہوں نے میرٹھ کے مشہور شیو مندر میں یہی نعرے اکٹھے لگائے۔ یہی وہ نعرے ہیں جن کے سبب آزادی سے پہلے اور بعد میں فسادات ہوتے رہے۔ 1857 کی یہی مشترکہ وراثت ہماری آزادی کی جدوجہد کی بنیادی روح ہے، جسے ہم گاندھی کے اس بھجن میں دیکھتے ہیں جو ان کی پرارتھنا سبھاؤں میں گایا جاتا تھا اور جس کی تقسیم کے بعد شدید مخالفت ہونے لگی، اور آج بی جے پی مختلف مقامات پر جس کے خلاف احتجاج کروا رہی ہے: رگھوپتی راگھو راجارام پتت پاون سیتا رام ایشور اللہ تیرو نام سب کو سمتی دے بھگوان 1857 کی اس مشترکہ وراثت کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں جہاں گوسائیں اور سنیاسی تھے، وہیں پیر اور فقیر بھی شامل تھے۔ اس میں سناتنی اور آریہ سماجی تھے تو شیر علی جیسے وہابی بھی تھے، جنہوں نے انڈمان میں وائسرائے لارڈ میو کو قتل کیا تھا۔ یہی مشترکہ وراثت بنگال کی سوَدیشی تحریک اور بعد کی انقلابی تحریکوں میں بھی نظر آتی ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ بھگت سنگھ 10 مئی 1857 کو ایک مبارک دن قرار دیتے ہوئے اس کے دوبارہ وقوع کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اسی وراثت کا تسلسل بھارت کی انقلابی تحریک ہے، جس میں رام پرساد بسمل اور اشفاق اللہ خان وندے ماترم کا نعرہ لگاتے ہوئے تختۂ دار پر جھول گئے۔ اس دور میں ’اللہ ہو اکبر‘ اور ’وندے ماترم‘ کے نعرے ایک ساتھ لگتے تھے۔ یہ نعرے 1921 میں گاندھی کی عدم تعاون تحریک کے دوران بھی ایک ساتھ گونجے۔ کم لوگ جانتے ہیں کہ اشفاق اللہ خان اس دھرتی ماتا کی پوجا کی بات کرتے ہیں اور آزادی کی جدوجہد میں کرشن کا حوالہ دیتے ہیں۔ وہ رام پرساد بسمل سے حسرت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ بھی دوبارہ جنم لینا چاہتے ہیں۔ پھانسی سے ایک رات قبل اشفاق اللہ خان کے الفاظ یہ تھے: جاؤں گا خالی ہاتھ مگر یہ درد رہ جائے گا، جانے کس دن ہندوستان آزاد کہلائے گا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ انگریزوں نے 1857 کی اس مشترکہ وراثت کو مسلم لیگ اور ہندو مہاسبھا کی سیاست کو بڑھاوا دے کر تقسیم کر دیا اور وندے ماترم کو متنازع بنا دیا۔
گاندھی کی سرودھرم پرارتھنا اور سبھاش بابو کی آزاد ہند فوج اسی وراثت کا تسلسل ہے، جہاں ظفر اور لکشمی بائی بریگیڈ وجود میں آتی ہے اور ’دہلی چلو‘ کا نعرہ 1857 کی یاد تازہ کرتا ہے۔
اس سماج کی سمجھ بوجھ کیسے بڑھے؟ لہٰذا آج یہ مانتے ہوئے کہ ہماری سیاست میں ایک طرف نوآبادیاتی وراثت کو آگے بڑھانے والا سنگھ پریوار غالب ہے، تو دوسری طرف اپوزیشن اور وسیع تر سماج کسی حد تک سہی، مگر اس مشترکہ وراثت کا دعویدار ہے۔ مگر یہ وراثت تبھی زندہ رہ سکتی ہے جب اسے وقتی سیاسی مفادات سے الگ کر کے طویل المدتی سماجی اور تہذیبی وحدت سے جوڑا جائے۔ اس کام میں وہ بائیں بازو کے حلقے زیادہ مددگار ثابت نہیں ہو سکتے جو مذہب کو سیاست سے مکمل طور پر الگ رکھنے کی بات کرتے ہیں، کیونکہ موجودہ تنازعات کو الجھانے میں کسی حد تک ان کا بھی کردار رہا ہے۔ البتہ آج کچھ سمجھدار بائیں بازو کے مفکر بھی سامنے آ رہے ہیں جو مذہب کے مناسب کردار کی اہمیت کو سمجھ رہے ہیں۔ مگر یاد رہے کہ تخیّل کی تاریخ اور تاریخ کی تخیّل آرائی اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بناتی رہے گی۔ اس کا حل یا تو باشعور مورخین پیش کر سکتے ہیں یا پھر درویش صفت سیاست دان۔ مگر سوال یہ ہے کہ وہ آئیں گے کہاں سے؟ اور اس سماج کی سمجھ بوجھ آخر کیسے بڑھے گی؟