جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
وقف محض جائیداد نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی امانت اور اسلامی تہذیب کا اہم ستون:محمود اسعد مدنی
  1. ہوم
  2. قومی
قومی

وقف محض جائیداد نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی امانت اور اسلامی تہذیب کا اہم ستون:محمود اسعد مدنی

Awaz E Bihar•24 جولائی، 2026 کو 05:01 PM•31 ویوز•6 منٹ پڑھیں

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے کہا کہ وقف محض جائیداد نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی امانت اور اسلامی تہذیب کا اہم ستون ہے، اس لیے اس کی حفاظت،دستاویزات کا تحفظ اور ضرورت پڑنے پر قانونی جدوجہد بھی عبادت ہے۔یہ بات انہوں نے جمعیۃ علماء ہند کے زیر اہتمام آل انڈیا متولیان کانفرنس میں کلیدی خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ وقف کو صرف متولی کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری ملت کی مشترکہ ذمہ داری سمجھنا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ جس قوم نے اپنی امانتوں کی حفاظت چھوڑ دی، تاریخ نے بھی اس کی حفاظت چھوڑ دی۔
مولانا مدنی نے کہا کہ اوقاف کو درپیش مسائل میں بیرونی چیلنجوں کے ساتھ ہماری اپنی غفلت، ناقص انتظام اور دستاویزات کی عدم حفاظت بھی شامل ہے۔ انہوں نے وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے تناظر میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ انصاف اور آئینی اصولوں کو ہر حال میں مقدم رکھا جائے ، انھوں نے کہا کہ میں حکومت سے بھی یہ کہنا چاہتا ہوں کہ انصاف کسی ایک طبقے پر احسان نہیں ہوتا، انصاف ریاست کی سب سے بڑی طاقت ہے۔قانون کی عزت اسی وقت باقی رہتی ہے جب قانون سب کے لیے ایک جیسا ہو۔
مولانا مدنی نے متولیان سے اپیل کی کہ اوقافی املاک کا مکمل ریکارڈ محفوظ اور ڈیجیٹلائز کیا جائے، مالی شفافیت، باقاعدہ آڈٹ اور ناجائز قبضوں کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے موروثیت سے اجتناب پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے اداروں کا اعتماد اور روح متاثر ہوتی ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ حالات میں اوقاف کے تحفظ کے لیے جز وقتی نہیں بلکہ کل وقتی جدوجہد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم اخلاص، منصوبہ بندی اور مسلسل محنت کے ساتھ اس میدان میں کام کریں، ذمہ دار افراد تیار کریں اور ملت کو اس مشن سے جوڑیں تو اللہ تعالیٰ ہماری کوششوں کو قبول فرمائیں گے اور اوقاف کے خلاف ہونے والی ہر سازش کو ناکام بنائیں گے۔
پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اقبال انصاری نے اپنے خطاب میں کہا کہ جہاں متولی موجود ہیں، وہاں وقف املاک رجسٹریشن اور قانونی کارروائیوں میں سب سے زیادہ مشکلات پیش آ رہی ہیں، اس لیے متولی حضرات کو خاص طور پر ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا ۔انھوں نے مزید کہا کہ حکومت اور عوام کے درمیان تنازعات میں عدالت کو آئینی حدود کے اندر رہ کر فیصلہ کرنا چاہیے۔انھوں نے کہا موجودہ دور میں یہ کہنا مشکل ہے کہ عدالت انصاف کے مطابق کام کررہی ہے ۔
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے کہا کہ اوقاف کے مسائل کا سارا بوجھ صرف متولیان یا حکومت پر ڈالنے کے بجائے پوری ملت اور عوام کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے ۔جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خاں نے کہا کہ اوقاف کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہیں زیادہ مؤثر اور عوامی مفاد کے لیے کارآمد بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف املاک پر ناجائز قبضوں اور تنازعات کی ایک بڑی وجہ بعض متولیان کی غفلت اور بعض مقامات پر وقف جائیدادوں کو ذاتی ملکیت سمجھنے کا رجحان ہےجس سے اوقاف کو شدید نقصان پہنچاہے۔
اپنے صدارتی خطاب میں صدر اجلاس سید شاہ محمد علی الحسینی صاحب (گلبرگہ) نے کہا کہ گزشتہ دو برس کے دوران وقف کے تحفظ کی تحریکوں کے نتیجے میں عوام میں وقف کے بارے میں نمایاں بیداری پیدا ہوئی ہے، جسے مزید منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف املاک کے تحفظ، ناجائز قبضوں کے خلاف بروقت قانونی کارروائی اور وقف قوانین سے مکمل واقفیت وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے اہلِ ثروت سے نئے اوقاف قائم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وقف کو تعلیم، صحت اور رفاہِ عامہ کے فروغ کا مؤثر ذریعہ بنایا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ متولی کی بنیادی ذمہ داری واقف کے منشا کی مکمل پابندی ہے۔
شاہ سید یاداللہ حسینی نائب سجادہ نشیں روضہ خرد گلبرگہ شریف نے اپنے خطاب میں انہوں نے وقف کے تحفظ کے لیے ایک مؤثر اور فعال کمیٹی کی تشکیل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ کمیٹی وقف جائیدادوں کے تحفظ، نگرانی اور قانونی دفاع کے لیے عملی منصوبہ تیار کرے۔ انہوں نے کہا کہ اوقاف کا مؤثر تحفظ اسی وقت ممکن ہے جب ذمہ داران ذاتی دلچسپی، احساسِ ذمہ داری اور مستقل عملی کوشش کے ساتھ اس کام کو انجام دیں۔
ساؤتھ ایشین مائناریٹیز لائیر ایسوسی ایشن (ساملہ)کے صدر ایڈوکیٹ ناصر عزیز نے زور دیا کہ ہر علاقے میں وقف تحفظ کمیٹیاں اور قانونی سیل قائم کیے جائیں، ناجائز قبضوں کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے اور متولیان شفاف مالی و انتظامی نظام اپنائیں۔انہوں نے کہا کہ وقف کا تحفظ پوری ملت کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اس لیے عوام میں بیداری پیدا کی جائے، نوجوانوں کو اس عمل میں شریک کیا جائے اور وقف کی آمدنی کو اس کے اصل دینی، تعلیمی اور سماجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔
اپنے خطاب میں ممبر پارلیمنٹ ہریندر ملک نے وقف املاک میں بعض مقامات پر بدانتظامی اور غیر شفاف معاملات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وقف کی آمدنی غریبوں اور ضرورت مندوں کی فلاح کے لیے استعمال ہونی چاہیے۔ انہوں نے وقف کے تحفظ کی اس جدوجہد میں ہر ممکن تعاون کا یقین بھی دلایا۔ممبر پارلیمنٹ مولانا محب اللہ ندوی نے جمعیۃ علماء ہند کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے وقف کے تحفظ کے لیے مشترکہ اور منظم جدوجہد کی ضرورت پر زور دیا۔ ممبر پارلیمنٹ عمران مسعود نے اپنے خطاب میں وقف کے حوالے سے حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وقف املاک کے تحفظ کا مسئلہ صرف مسلمانوں تک محدود نہیں، بلکہ ملک میں دیگر مذہبی مقامات بھی مختلف نوعیت کے تنازعات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس تناظر میں تمام مذہبی اداروں اور ان کی املاک کے تحفظ کےلیے ہندو اور مسلمانوں کو مل کر لڑنا ہوگا۔
اپنے خطاب میں عبدالواحد حسین انگارا درگاہ اجمیر شریف نے کہا کہ صرف قوانین پر انحصار کافی نہیں، بلکہ عوامی شعور، اعتماد اور اجتماعی تعاون ہی اوقاف کے مؤثر تحفظ کی حقیقی ضمانت ہیں۔مولانا صدیق اللہ چودھری صدر جمعیۃ علماء مغربی بنگال نے ملک کو پانچ زون میں تقسیم کرکے اوقاف کے انتظام کو زیادہ مؤثر بنانے کی تجویز پیش کی۔
ان کے علاوہ آئی آر ایس اکرم الجبار خاں، حاجی محمد ہارون ایڈوکیٹ صدر جمعیۃ علماء مدھیہ پردیش، ایڈوکیٹ اقبال شیخ سابق ممبر وقف کونسل، آئی ار ایس سید محمود اختر،ایڈوکیٹ طاہر محمد حکیم ، ممبر پارلیمنٹ عبدالوہاب کیرالہ اور سابق ممبر پارلیمنٹ حارث بیرن کا بھی خطاب ہوا،
کلمات استقبالیہ ناظم عمومی جمعیۃعلماء ہند مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے پیش کیے ۔ نظامت کے فرائض مولانا مفتی حسان قاسمی نے انجام دیے ۔
شیئر کریں:

More from قومی

 مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے
قومی

مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے

29 ستمبر، 2026
امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ
قومی

امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ

27 ستمبر، 2026
ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن
قومی

ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن

26 ستمبر، 2026
گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ
قومی

گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ

25 ستمبر، 2026
گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی
قومی

گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی

24 ستمبر، 2026
الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا
قومی

الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا

23 ستمبر، 2026