جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو عالمی تصادم ہوگا، ایران کی وارننگ
Awaz E Bihar••3 ویوز•6 منٹ پڑھیں
ایران کے ایک اعلیٰ فوجی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کی گئی تو یہ ایک بڑی عالمی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے، جس کے اثرات خطے سے باہر بھی محسوس کیے جائیں گے۔ ایرانی فوج کے بریگیڈئیر جنرل محمد رضا نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کسی بھی صورت ایران کی میزائل بنانے کی صلاحیت کو ختم نہیں کر سکتا، ایران نے اپنی دفاعی پالیسی کو مزید مضبوط بنایا ہے اور ملک کی عسکری تیاری ہر ممکن خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ بریگیڈئیر جنرل محمد رضا کا کہنا تھا کہ ایران اپنی دفاعی طاقت میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کا بھرپور اور مؤثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے،اگر ایران پر مسلط کی گئی جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو اس بار ردعمل پہلے سے کہیں زیادہ شدید ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ مہینوں میں ایران نے جدید میزائل ٹیکنالوجی میں نمایاں پیش رفت کی ہے اور ضرورت پڑنے پر ان میزائلوں کو استعمال میں لایا جائے گا، جو دشمن کے لیے غیر متوقع نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی دفاعی طاقت کو مزید مضبوط کر رہا ہے اور کسی بھی ممکنہ حملے کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔انہوں نے امریکہ کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران پر مسلط جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو اس بار ردعمل زیادہ شدید ہوگا اور حالیہ مہینے میں تیار کیے گئے جدید میزائلوں کے ذریعے جواب دیا جائے گا۔ یاد رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کیے گئے تھے، جس کے بعد ایران نے بھی فوری جوابی کارروائیاں کیں۔ دونوں فریقین کے درمیان تقریباً چالیس روز تک شدید کشیدگی اور جھڑپیں جاری رہیں، جس سے خطے میں جنگ کے خدشات بڑھ گئے تھے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کیے گئے تھے، جس کے بعد ایران نے بھی جوابی کارروائیاں کیں۔ دونوں فریقین کے درمیان تقریباً 40 روز تک شدید کشیدگی اور جھڑپیں جاری رہیں۔بعد ازاں پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں دونوں ممالک دو ہفتوں کی جنگ بندی پر آمادہ ہوئے۔ اس کے بعد 11 اپریل کو اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے اعلیٰ سطح کے وفود کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے، جنہیں کشیدگی کم کرنے کی اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے اس قسم کے بیانات خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں اور اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ جب تک امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم نہیں کرتا، تب تک آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھولا جائے گا۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے تک بحری ناکہ بندی برقرار رہے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کسی قسم کے دباؤ یا بلیک میلنگ کو قبول نہیں کرے گا۔ ادھر خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب اسرائیل نے جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان میں حملے کیے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک نئی یلو لائن قائم کی ہے، جسے وہ سیکیورٹی حد قرار دے رہے ہیں۔ فرانس کے صدر میکرون نے لبنان میں ایک فرانسیسی امن فوجی کی ہلاکت کا ذمہ دار حزب اللہ کو ٹھہرایا ہے، تاہم حزب اللہ نے اس الزام کی تردید کر دی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت اور سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے، خصوصاً اس وقت جب اہم آبی راستہ بند ہو اور مذاکرات تعطل کا شکار ہوں۔ ایک بیان میں صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ہم کسی ملک پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے، ہم اپنے دفاع کا قانونی اور جائز حق استعمال کر رہے ہیں، ہمارا بنیادی مؤقف خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کے تحفظ پر مبنی ہے، ہم جنگ بڑھانا نہیں چاہتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم عزت کے ساتھ جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں، ہم نے جنگیں یا تنازعات شروع نہیں کیے، ہم کسی ملک پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے، ہم اپنے دفاع کا قانونی اور جائز حق استعمال کر رہے ہیں۔ مسعود پزشکیان نے کہا کہ ٹرمپ کو کوئی حق نہیں کہ وہ عوام کو اس کے حقوق سے روکے، ٹرمپ کو حق نہیں کہ وہ کہے ایران اپنے جوہری حقوق سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ دشمن اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا، دشمن نے انفراسٹرکچر، سکولوں اور ہسپتالوں پر حملے کیے، ایرانی تہذیب تباہ کرنے، اسے پتھرکے دور میں بھیجنے کے بیانات دشمن کے عزائم ظاہر کرتے ہیں۔علاوہ ازیں ایرانی وفد کے سر براہ باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا سے مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے، لیکن اب بھی بہت فاصلہ ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکا نے ناکہ بندی کا اعلان کیا جو ایک بھونڈا اور جاہلانہ فیصلہ ہے، دوسرے ممالک آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں مگر ہم نہیں؟ یہ ناممکن ہے۔ پریس ٹی وی نے مسٹر قالیباف کے حوالے سے کہا کہ "ہمیں دشمن پر بھروسہ نہیں ہے۔ ابھی بھی، جب ہم یہاں بیٹھے ہیں، جنگ چھڑ سکتی ہے۔ مسلح افواج زمین پر مکمل طور پر جنگ کے لیے تیار ہیں۔" نشریاتی ادارے کے مطابق، پارلیمنٹ کے اسپیکر نے اس بات کی تردید کی کہ جاری بات چیت سے قومی سلامتی کے تئیں لاپرواہی ہو سکتی ہے۔ مسٹر قالیباف نے کہا کہ "ہمارا خیال ہے کہ بات چیت کے سبب مسلح افواج تیار نہیں ہیں، ایسا نہیں ہے۔ اس کے برعکس، سڑکوں پر عام لوگوں کی طرح، ہماری مسلح افواج بھی تیار ہیں۔" اس سے قبل، پاکستانی نشریاتی ادارے جیو ٹی وی نے بتایا کہ امریکہ-ایران مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں اگلے ہفتے کے آخر میں ہونے کا امکان ہے۔ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایرانی ٹھکانوں پر حملے شروع کیے، جن میں 3,000 سے زائد لوگ مارے گئے۔ 8 اپریل کو واشنگٹن اور تہران نے دو ہفتے کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اسلام آباد میں ہوئی بعد کی بات چیت بے نتیجہ رہی۔ حالانکہ دشمنی پھر سے شروع کرنے کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا، لیکن امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی شروع کر دی ہے۔ ثالث بات چیت کا ایک نیا دور منعقد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔