الجزیرہ ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق بریک تھرو کا امکان ہے، پاکستانی وفد ایران حکام سے ایٹمی پروگرام پر بات کررہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ اور ایٹمی تنازع کو ختم کرنے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کر دی۔ عالمی ذرائع اور الجزیرہ ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی وفد کی تہران میں موجودگی اور حالیہ مذاکرات کے بعد ایٹمی پروگرام کے معاملے پر فریقین کے درمیان جلد ایک "بڑا بریک تھرو" متوقع ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ تہران میں موجود ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق وہ واشنگٹن کی جانب سے ایرانی قیادت کے لیے ایک اہم اور خصوصی پیغام لے کر گئے ہیں، تہران پہنچنے پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ان کا استقبال کیا اور مذاکرات میں پاکستان کے ثالثی کردار کو سراہا۔ مذاکرات کا مرکزی نقطہ ایران کی جانب سے یورینیم کی افزودگی روکنے کی مدت اور 440 کلوگرام اعلیٰ افزودہ یورینیم کا ذخیرہ ہے، امریکہ 20 سال جبکہ ایران 5 سال کی مدت پر بضد تھا، تاہم اب ایک "درمیانی راستے" پر اتفاق ہوتا نظر آ رہا ہے۔ ایرانی یورینیم کو یا تو کسی تیسرے ملک منتقل کرنے یا اسے دوبارہ قدرتی حالت میں لانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس صورتحال پر انتہائی پرامید بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ "دنیا شاندار دو دنوں کے لیے تیار رہے، ایران کے ساتھ جنگ ختم ہونے کے بہت قریب ہے"۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے بھی پاکستان کی ثالثی کو تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کا اگلا دور اسلام آباد میں ہو سکتا ہے۔ جہاں ایک طرف آرمی چیف تہران میں موجود ہیں، وہیں دوسری طرف وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کے دورے پر ہیں تاکہ اس ممکنہ ڈیل کے مخالفین (بشمول اسرائیل) کی رکاوٹوں کو دور کیا جاسکے۔ 8 اپریل سے جاری جنگ بندی کے باوجود آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی، ایران نے اس ناکہ بندی کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر ناکہ بندی ختم نہ کی گئی تو وہ بحیرہ احمر اور خلیج عمان میں تجارتی راستہ بند کر سکتا ہے۔ امریکی نیوز ویب سائٹ 'ایکزیوس' نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ منگل کے روز دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی بات چیت میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، اسٹیووٹکوف اور جیرڈ کشنر اس عمل میں سرگرم رہے ہیں اور ایرانی حکام سمیت ثالثوں کے ساتھ مسلسل فون کالز اور معاہدے کے مسودے کی تجاویز کا تبادلہ کر رہے ہیں۔ امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ان 'بیک چینل' رابطوں نے دونوں فریقین کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، ایک امریکی اہلکار نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی حکومت کے کچھ حصے اس وقت معاہدہ کرنے کے حق میں ہیں۔ تاہم اب کوشش یہ کی جا رہی ہے کہ ایرانی حکومت کے تمام متعلقہ عناصر اور دھڑوں کو اس معاہدے میں شامل کیا جائے تاکہ ایک پائیدار امن ممکن ہو سکے۔ اس ممکنہ پیشرفت کو خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ پینٹاگون میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکی وزیر جنگ نے کہا کہ ایران کیلئے پیغام ہے، ہم آپ پر نظر رکھے ہوئے ہیں، ایرانیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہماری اور ان کی صلاحیتوں کا کوئی مقابلہ نہیں، امریکہ اب بھی پہلے کی طرح مضبوط ہے۔ امریکی وزیر جنگ نے کہا کہ ایران کو بتایا کہ ہم جانتے ہیں کہ آپ کون سے فوجی اثاثے منتقل کر رہے ہیں، اپنے فیصلے ایران کو عقلمندی سے کرنا ہوں گے، کسی بھی صورت ایران جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا، مذاکراتی ٹیم ایران کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے، ڈیل نہ ہوئی تو ہماری فورسز جنگ کے لیے تیار ہیں۔ پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ ایران کہتا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کنٹرول کر رہا ہے، لیکن اس کی اپنی کوئی بحریہ نہیں، تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی کنٹرول نہیں، یہ بحری قزاقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی توانائی صنعت مکمل تباہ نہیں ہوئی، امریکی ناکہ بندی سے برآمدات بند ہو رہی ہیں، جب تک ضرورت ہوگی ہم آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی برقرار رکھیں گے، آبنائے ہرمز میں ٹریفک پر امریکی بحریہ کا کنٹرول ہے، امریکہ کے پاس طاقتور نیوی ہے، ایران کے پاس نہیں رہی، مجھے امید ہے کہ آپ ایسا معاہدہ کریں گے جو آپ کی پہنچ میں ہو۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی تمام جہازوں کیلئے ہے جو ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہوتے یا نکلتے ہیں، ناکہ بندی کا نفاذ ایران کی علاقائی سمندری حدود اور بین الاقوامی پانیوں دونوں میں ہوتا ہے، ناکہ بندی تمام جہازوں کے لیے ہے، چاہے ان کا تعلق کسی بھی ملک سے ہو۔ جنرل ڈین کین نے مزید کہا کہ امریکی فوج ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے تیار ہے، ایران کو مدد فراہم کرنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی جہاز کا تعاقب کریں گے۔