امریکہ پر اعتماد نہیں، لیکن مذاکرات ممکن ہیں: مسعود پزشکیان
Awaz E Bihar••22 ویوز•3 منٹ پڑھیں
ایرانی صدارتی میڈیا آفس کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے منگل کے روز اپنے بیان میں کہا کہ تہران سفارتی راستے کو کھلا رکھنا چاہتا ہے، اگرچہ واشنگٹن پر اعتماد کا فقدان موجود ہے۔انہوں نے زور دیا کہ ایران کو میدانِ جنگ میں اپنی مسلح افواج کی حاصل کردہ کامیابیوں کو سفارتی میدان میں بھی مستحکم کرنا ہوگا۔اس سے قبل ایرانی پارلیمنٹ (مجلس شوریٰ) کے اسپیکر اور سینیئر مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے امریکہ کو خبردار کیا کہ اگر اس نے تہران کی 14 نکاتی تجویز میں شامل شرائط قبول نہ کیں تو اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ حالیہ امریکی تجویز پر ایرانی ردعمل کو مسترد کر چکے ہیں۔ٹرمپ نے گزشتہ شام کہا تھا کہ 8 اپریل سے نافذ نازک جنگ بندی اب ’’وینٹی لیٹر پر‘‘ہے۔ایران نے اپنے جواب میں جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کے معاملے پر کسی قسم کی رعایت دینے سے انکار کیا تھا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق تہران نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے، ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری محاصرہ ختم کرنے اور بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی واپسی کی ضمانت کا مطالبہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکی تجویز میں ایک صفحے پر مشتمل مفاہمتی یادداشت شامل تھی جس کا مقصد لڑائی کا خاتمہ اور 30 روز کے اندر جوہری مذاکرات کے لیے فریم ورک تیار کرنا تھا۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان سب سے بڑا اختلاف اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ذخیرے پر برقرار ہے۔ امریکہ اصرار کر رہا ہے کہ ایران یہ مواد ملک سے باہر منتقل کرے، تاہم تہران نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔ایران نے ایٹمی توانائی کے پُرامن استعمال کے حق پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ افزودگی کی سطح پر مذاکرات کیے جا سکتے ہیں۔یاد رہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری نقل و حرکت محدود کر رکھی ہے، جس سے عالمی منڈیوں میں تشویش پائی جا رہی ہے، جبکہ امریکہ ایرانی بندرگاہوں کا بحری محاصرہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اکبرزادہ کے مطابق آبنائے ہرمز اب ایک اہم تزویری اور فوجی علاقہ بن چکی ہے، جو مشرق میں جاسک سے مغرب میں سری جزیرہ تک پھیلی ہوئی ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی شروع ہونے کے بعد ایران دوسری مرتبہ آبنائے ہرمز کے دائرۂ اثر میں توسیع کا اعلان کر رہا ہے۔ چار مئی کو آئی آر جی سی بحریہ نے ایک نقشہ جاری کیا تھا جس میں متحدہ عرب امارات کی خلیج عمان سے ملحق ساحلی پٹی کے بعض حصوں کو نئے کنٹرول زون کے طور پر ظاہر کیا گیا تھا۔ اس نقشے کے مطابق یہ زون مشرق میں ایران کے جبلِ مبارک اور اماراتی شہر فجیرہ سے لے کر مغرب میں ایران کے جزیرہ قشم اور امارات کی ریاست ام القوین تک پھیلا ہوا ہے۔ ایرانی خبر رساں اداروں فارس نیوز ایجنسی اور تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق آبنائے ہرمز کی چوڑائی اب 200 سے 300 میل تک سمجھی جا رہی ہے جبکہ اس سے قبل اس کا اندازہ 20 سے 30 میل لگایا جاتا تھا۔ تسنیم نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا کہ توسیع شدہ علاقہ اب ''مکمل ہلال'' کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ادھر ایرانی حکام نے اس معاملے پر خبر رساں ادارے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔