جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
استقبالِ رمضان
  1. ہوم
  2. مضامین
مضامین

استقبالِ رمضان

Awaz E Bihar•12 فروری، 2026 کو 02:21 PM•3 ویوز•8 منٹ پڑھیں

مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی
ایک روایت کے مطابق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جمادی الثانی کے گزرنے اور رجب المرجب کا چاند طلوع ہوتے ہی رمضان المبارک کی تیاری شروع فرماتے اوردعا کرتے ’’کہ اے اللہ رجب و شعبان میں برکت دے اوررمضان المبارک تک ہمیں پہونچا دے (اللھم بارک لی فی رجب وشعبان وبلغنی رمضان ) اس کے ساتھ ر جب ہی سے روزانہ کے معمولات میںا ضافہ ہوجاتا ، شعبان آتا تو کثرت سے روزے رکھتے ، اورایسی کثرت ہوتی کہ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ گمان ہوتاکہ رمضان المبارک کے روزوں سے ملا دیں گے، اسی پس منظر میں یہ بھی فرمایا کرتے کہ شعبان میرا مہینہ ہے ، یعنی روزے اللہ نے اس مہینہ میں فرض نہیں کئے؛ لیکن مجھے وہ عمل پسند ہے جو اللہ کی طرف سے رمضان میں فرض ہے، شعبان کی پندرہ شب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم عبادت کا خصوصی اہتمام فرماتے ،اس رات میں خود اللہ رب العزت کی طرف سے رمضان کے آنے کے قبل ایسے انعامات اور فیوض وبرکات کا اعلان ہوتاہے کہ بندے میں خوشی کی لہردوڑجاتی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ رمضان کی آمد آمد ہے ۔اس رات اللہ تعالی کی رحمتوں کا نزول سورج غروب ہونے کے بعد سے ہی شروع ہوجاتا ہے ۔منادی آواز لگاتارہتا ہے کہ کوئی بخشش طلب کرنے والا ہے جسے میں بخش دوں ، ہے کوئی رزق طلب کرنے والا جس پر رزق کے دروازے کھول دوں ، پھررمضان میں جو مغفرت کا اعلان عام ہوتا ہے اس سے قبل ہی بنو کلب کی بکریوں کے بالوں کے برابرپندرہ شعبان کی شب میں گنہگاروں کی مغفرت کردی جاتی ہے، اتنی کثرت سے مغفرت ہی کی وجہ سے اسے لیلۃ البراء ۃکہا جاتا ہے ۔
مفسرین کی ایک رائے یہ بھی ہے کہ اللہ نے اس رات میں قرآن کریم کے نزول کا فیصلہ کیا، جس کی تنفیذ شب قدر میں ہوئی؛ گویا جس طرح موسم بہار کی آمدسے قبل آثار و قرائن بتاتے ہیں کہ باد بہاری چلنے والی ہے اور صبح کی سفیدی روشن دن کے آنے کی خبر دیتی ہے ، اسی طرح اللہ رب العزت اس ماہ مبارک کے آنے سے قبل ہی اس کے فیوض وبرکات کے ایک حصہ کا آغاز شعبا ن سے کردیتاہے۔اسی وجہ سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کی تیاریوں میں مشغول رہتے، صحابہ کرا م رضوان اللہ تعالی اجمعین کے سامنے رمضان المبارک کی عظمت واہمیت بیان فرماتے۔پھرجب شعبان کے آخری ایام آتے تورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم استقبال رمضان پر تقریر فرماتے اورلوگوں کو خیر کے کاموں کی طرف ابھارتے۔
اس موقع سے آپ کی تقریر جو حضرت سلمان فارسیؓ کے حوالے سے احادیث کی کتابوں میں مذکور ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ لوگو !ایک باعظمت مہینہ آپہونچاہے یہ ماہ رمضان ہے۔ اس ماہ میں جو شخص کوئی نیک کام کریگا اس کا ثواب فرض کے برابراور فرض اداکریگا تو اس کا ثواب ستر فرض کے برابر ملے گا، جو روزہ دار کو افطار کرائے گا وہ جہنم سے خلاصی پائے گا ۔اوراسے روزہ دار کے بقدر ثواب ملے گا، جب کہ روز ہ دار کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی ۔اوریہ ثواب محض ایک کھجور یا ایک گھونٹ پانی سے افطار کرانے پر بھی ملے گا۔اور اگر کسی نے روزہ دار کو پیٹ بھر کھانا کھلادیا تو حوض کوثر سے ایسی سیرابی ہوگی کہ جنت میں داخلے تک پیاس نہیں لگے گی اورجنت بھوک پیاس کی جگہ نہیں ہے ، فرمایا : اس ماہ کا پہلا حصہ رحمت ، دوسر ا مغفرت اورتیسرادوزخ سے آزادی کا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس ماہ میںاپنی خاص رحمت سے ایسا انتظام کرتے ہیں کہ شیطان بندوں کو گمراہ نہ کرسکے ، اور بُرائی پر آمادہ کرنے سے بازآجائے؛ اس لئے جنات اورسرکش شیاطین کو پابند سلاسل کردیاجاتاہے۔جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور جنت کے دروازے پورے ماہ کے لئے کھول دیئے جاتے ہیں ۔اور منادی خدا کی طرف سے آواز لگاتا ہے کہ خیر کے طالب آگے بڑھو اورشر کی طرف مائل لوگو رک جائو ، باز آئو، اتنے اہتمام کے باوجود اگر کوئی مسلمان اس ماہ سے فائدہ نہیں اٹھاتا اور جنت کے حصول کے سامان نہیں کرتاتو بدبختی اور شقاوت کی انتہا ہے ۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں کے لئے حضرت جبرئیل علیہ السلام کی بددعا کہ جو شخص رمضان کا مہینہ پائے اوراپنی مغفرت نہ کروالے اس پر آمین کہا ہے ، ایک حضرت جبرئیل کی بددعا ، اوردوسرے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا آمین کہنا ، ایسے لوگوں پر لعنت ہی لعنت کا کھلا اعلان ہے۔
یہ تمام انعامات اور فیوض وبرکات اس ماہ میں نزول قرآن کی وجہ سے ہیں ، اس لیے اس ماہ مبارک کا حق یہ ہے کہ تلاوت قرآن کی کثرت کی جائے ، تراویح میں قرآن سننے، سنانے کا اہتمام کیاجائے، تہجد میں رات گذاری جائے اور ہرلمحہ کو قیمتی سمجھ کر ذکر ،اذکاراور وظائف میں مشغول رہا جائے، روزہ کا ایسا اہتمام کیاجائے جو شریعت کو مطلوب ہے اور جس سے تقوی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے ، جو روزہ کا اصل مقصد ہے ، روزہ صرف کھانے پینے اور شہوانی خواہشات سے پرہیز تک محدود نہ رکھا جائے ، بلکہ آنکھ ، دل ، دماغ ، کان ، زبان ، ہاتھ ، پائوں ، اور سبھی اعضا و جوارح کا روزہ رکھا جائے، آنکھ غلط چیزوں کو نہ دیکھے ، دل گناہوں کی طرف مائل نہ ہو ،دماغ خدا کے احکام کے خلاف نہ سوچے ، کان غلط نہ سنے ، زبا ن غیبت ، چغل خوری ، جھوٹ، طعن وتشنیع اورگالی گلوج سے محفوظ رہے ، اعضا وجوارح خداکی مرضیات پر لگ جائیں ، ایسا روزہ دراصل روزہ ہے ، بندہ جب ایسا روزہ رکھتا ہے تو اللہ خود اس کا ہوجاتا ہے ، اور اللہ دلوں کے احوال جانتاہے، اس لیے اجر و ثواب کا ضابطہ ایک دس کا یہاں نہیں چلتا ، بلکہ جس نے اللہ کے لئے روزہ رکھا ہے ، اللہ ہی اس کا بدلہ دیں گے، حدیث کے الفاظ کی ایک قرأت کے مطابق اللہ ہی اس کا بدلہ ہیں، حدیث قدسی ’’الصوم لی وانا اَجزِی بہ‘‘ کی ایک قرأت ’’انا اُجزٰی بہ‘‘ بھی ہے اور اللہ جس کو مل جائے اس کے دنیا وآخرت کے سارے کام بن جاتے ہیں، یہ غم گساری کا بھی مہینہ ہے؛ اس لیے جہاں کہیں بھی رہے ،جس کام میں لگا ہوا ہے۔ اس میں اس کو ملحوظ رکھے ، حسب استطاعت غربا کے خورد ونوش اورمحتاجوں کی ضروریات کی کفالت کا بھی نظم کرے کہ یہ بھی روزہ کے مقاصد میں سے ایک ہے، ہم لوگوں کو اللہ تعالی نے خوردونوش کی سہولتیں دے رکھی ہیں اور بھوک پیاس کی تکلیف کا احساس پورے سال نہیں ہوتا، بلکہ شادی اور دیگرتقریبات میں کھانے پینے کی اشیاء کو بڑی مقدار میں ضائع کرتے ہیں ، انہیںروزہ میں جب بھوک پیاس لگے تو ان کے اندریہ احساس جاگناچاہئے کہ سماج کے دبے کچلے لوگ جن کے گھرچولھا بڑی مشکل سے جلتاہے ۔ اور کئی بار فاقہ میںرات گذرجاتی ہے، کس قدر پریشانیاں محسوس کرتے ہوں گے ، اس وجہ سے اکابر نے اس بات پر زوردیا ہے کہ افطار اورکھانے میں تلافی مافات کی غرض سے اتنا نہ کھالے کہ روزہ رکھنے سے جو شہوانی قوت میںتھوڑی کمی آئی تھی وہ جاتی رہے اورسحری میں اس قدر نہ کھالے کہ دن بھر بھوک پیاس کا احساس ہی نہ ہو ۔ اس ماہ میں مدارس کے اساتذہ اوراکابر علماء ، ادارے، تنظیموں اور مدارس کی فراہمی مالیات کے لئے کوشاں اور متفکرہوتے ہیں۔ ان کا اکرام کیاجائے ، اور محسوس کیا جائے کہ وہ امراء پراحسان کرتے ہیں کہ ان کی زکوۃ بروقت مناسب جگہ پہنچ جاتی ہے ، اس لئے جھڑک کر اوربار بار انہیں دوڑا کر اپنے عمل کو ضائع نہیں کرنا چاہیے، اس سے علماء کی بے وقعتی بھی ہوتی ہے اور ثواب بھی ضائع ہوتا ہے۔
خود علماء کو بھی اللہ کی رضاء کے لیے عزت نفس کے ساتھ اس کام کو کرنا چاہیے، اپنے مقام ومنصب سے فروتر ہوکر مالداروں کے سامنے جھک جانا اچھی چیز نہیں ہے، بہت سارے امراء محصلین کی لمبی لمبی لائن لگواتے ہیں، ان کو جھڑکتے اور بھلا بُرا کہتے ہیں، ایسے لوگوں سے استغناء کے ساتھ دوری بنانی چاہیے، مدرسہ چلانا اللہ کی رضا کے لیے اور تعلیمی ضرورت کی تکمیل کے لیے ہو تو اللہ رب العزت اس کا انتظام خود کریںگے، ہمارا مشاہدہ ہے کہ بہت سے امراء جو بڑی بڑی رقمیں دیتے تھے، انہوں نے دینا بند کردیا، اللہ نے دوسرے دینے والے کھڑے کردیے اور مدارس اسی آن بان شان سے چل رہے ہیں، دینے والے بدل گیے، لیکن اللہ کے لیے کام ہورہا ہے، اس لیے کسی مرحلہ میں عزت نفس کو قربان نہ ہونے دیجئے، حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کا مشہور ملفوظ ہے کہ اللہ کسی سے بھی یہ نہیں پوچھے گا کہ تم نے مدرسہ میں پانچ سو طلبہ کیوں نہیں رکھے، دورہ حدیث تک کا مدرسہ کیوں قائم نہیں، اللہ رب العزت یہ ضرور پوچھیںگے کہ پانچ کو رکھا تھا تو کام کا کیوں نہیں بنایا، اس لیے جو لوگ مدرسہ اللہ کے لیے چلاتے ہیں، تعلیمی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے چلاتے ہیں، ان کی نصرت اور مدد من جانب اللہ ہوتی ہے، میں نے تھانہ بھون مدرسہ کو دیکھا ہے، وہاں آج بھی چندے کی رسید نہیں چھپتی، دینے والا اعتماد کے ساتھ دے جاتا ہے، رجسٹر میں اندراج فوراً ہی ہوجاتا ہے اور کام جاری رہتا ہے۔
اللہ سے دعا ہے کہ وہ پوری ایمانی قوت سے رمضان المبارک کے فیوض وبرکات سے ہم سب کو وافر حصہ عطا فرمائے اور اسے جہنم سے نجات کا ذریعہ بنادے ۔ آمین۔
شیئر کریں:

More from مضامین

عبد الجلیل مستان
مضامین

عبد الجلیل مستان

28 ستمبر، 2026
آٹھ سال کے بعد اردو ڈائرکٹریٹ، پٹنہ کا بے مثال جشن اردو
مضامین

آٹھ سال کے بعد اردو ڈائرکٹریٹ، پٹنہ کا بے مثال جشن اردو

28 اگست، 2026
آزادی کے بعد آزادی کی تلاش،خواب ابھی باقی ہے
مضامین

آزادی کے بعد آزادی کی تلاش،خواب ابھی باقی ہے

21 اگست، 2026
سپریم کورٹ کا حکم، انتظامی ضوابط اور جدید معاشی تحفظ کا پیغام
مضامین

سپریم کورٹ کا حکم، انتظامی ضوابط اور جدید معاشی تحفظ کا پیغام

21 اگست، 2026
شوبھندو حکومت کے 100 دن
مضامین

شوبھندو حکومت کے 100 دن

20 اگست، 2026
​پولیس تشدد کے خلاف اہم فیصلہ
مضامین

​پولیس تشدد کے خلاف اہم فیصلہ

13 جولائی، 2026