جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
ایس آئی آر کیوں چاہتی ہے بی جے پی سرکار
  1. ہوم
  2. مضامین
مضامین

ایس آئی آر کیوں چاہتی ہے بی جے پی سرکار

Awaz E Bihar•4 دسمبر، 2025 کو 12:23 PM•2 ویوز•7 منٹ پڑھیں

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی
بہار اسمبلی انتخاب ہمارے ملک کی انتخابی تاریخ میں ایک اہم موڑ ہے ۔ یہ انتخاب اسپیشل اِنٹینسیو ریویژن (SIR) کی بنیاد پر 25 جون کو جاری کردہ ووٹر لسٹ کے پس منظر میں ہوا، جس میں این ڈی اے کو تاریخی کامیابی ملی ۔ ایس آئی آر کی تمام خامیوں کو نظر انداز کر بہار میں بالغ رائے دہی کے لیے نئے اصول ترتیب دیئے گئے ۔ دستور ساز اسمبلی میں ہونے والی بحثوں میں ایک ایسے جمہوری نظام کا تصور پیش کیا گیا تھا جو ”لوگوں کی حکومت، لوگوں کے لیے اور لوگوں کے ذریعے“ ہو ۔ انتخابی جمہوریت اس کی بنیاد تھی ۔ یہ آزادی کی جدوجہد کی اُس میراث پر قائم تھا جس نے شہری کو اس کی اساس بنایا ۔ بھارت کے ہر شہری کو ایک ووٹ کا حق دیا گیا، خواہ اس کی ذات، مذہب، زبان، ثقافت یا نسل کچھ بھی ہو ۔ اس نظام کو قائم رکھنے کے لیے، ملک کے الیکشن کمیشن کو ایک مضبوط اور آزاد آئینی ادارے کا درجہ دیا گیا ۔ اس سے امید تھی کہ وہ دو بنیادی اصولوں کے ذریعے شہریوں کو اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے میں مدد دے گا ۔ پہلا یہ کہ ووٹر لسٹ خود الیکشن کمیشن تیار کرے گا اور اسے سیاسی پارٹیوں یا حکومتوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جائے گا ۔ لہٰذا حتمی ووٹر لسٹ شائع کرنا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری تھی، کسی ایک شہری پر یہ بوجھ نہیں ڈالا گیا ۔ دوسرا یہ کہ بھارت کے شہری ووٹر لسٹ میں بطور ووٹر شامل ہوں گے، لیکن کمیشن کو شہریت طے کرنے کے کام سے الگ رکھا گیا تھا ۔ اگر کوئی تنازعہ ہو تو اسے وزارتِ داخلہ سے مشورے کے بعد سلجھایا جانا تھا ۔
بہار میں پہلی بار ایس آئی آر دونوں بنیادی اصولوں سے ہٹ گیا ۔ ایس آئی آر کے مطابق ووٹروں کو ایک فارم بھر کر ووٹر لسٹ میں اپنے نام کی تصدیق کرنی تھی، اور اگر کوئی تنازعہ نہ بھی ہو تب بھی انہیں ووٹ دینے کی اہلیت ثابت کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کے بتائے گئے دستاویزات دکھانے تھے ۔ اس طرح دوسرا اصول بھی ٹوٹنے لگا کیونکہ الیکشن کمیشن کے بتائے گئے دستاویزات عجب طرح سے نیشنل رجسٹر آف سِٹیزن شپ (NRC) کی ضروریات سے ملتے جلتے تھے، جیسا کہ شہریت ترمیمی قانون کی روح میں تصور کیا گیا تھا ۔ اس سے وہ پورا تنازعہ بھی چپکے سے دوبارہ زندہ ہو گیا جو پہلے ہی بھڑک چکا تھا اور مشکل سوالوں کی وجہ سے رکا ہوا تھا ۔ بہار میں اس کی شدید مخالفت ہوئی اور پورے ملک میں بحث چھڑ گئی ۔ اصل مسئلہ یہ تھا کہ شہریت ثابت کرنے کے لیے کوئی واحد مستند دستاویز موجود ہی نہیں تھا ۔ مجوزہ ایس آئی آر غیر ملکی، فرضی اور ڈپلی کیٹ ووٹوں کو چھانٹنے کے نام پر کیا گیا ۔ جبکہ ایس آئی آر کا عمل بی جے پی کی پسند کے ووٹر منتخب کرنے کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ اگر معاملہ غیر ملکی، فرضی یا ڈپلی کیٹ ووٹوں کو حذف کرنے کا ہوتا تو کسی کو اعتراض نہ ہوتا لیکن زندہ لوگوں کے ووٹ مرا ہوا بتا کر کاٹ دینا ۔ مہاجر مزودروں، بہار میں جن کی تعداد بہت زیادہ ہے، کم وقت کی وجہ سے وہ اپنے نام درج کرنے میں ناکام رہے ۔ خواتین، دلت اور کمزور طبقات کے ووٹروں کے نام ہٹانے کی شرح میں بھی خاصا اضافہ دیکھا گیا ۔ سرحدی اضلاع میں اقلیتی مذاہب کے ووٹروں کے نام بڑی تعداد میں حذف کیے گئے ۔ واضح طور پر اس عمل سے ووٹروں کے ایک بڑے حصے کو شدید صدمہ پہنچا اور سماج میں شک و شبہات پیدا ہوئے ۔
انتخابی کمیشن یہ نہیں بتا سکا کہ ایس آئی آر میں کتنے غیر ملکی ووٹر ملے ۔ وہ یہ بتانے سے بھی انکار کر رہا ہے کہ شہریت اور ووٹر لسٹ کے درمیان کوئی تعلق ہے ۔ لیکن اس کے فوکس سے یہ صاف ہوگیا ہے کہ یہ ووٹر لست کی غلطیاں درست کرنے کا عمل نہیں بلکہ بڑے پیمانے پر باہر نکالنے اور ووٹ سے محروم کرنے کا ہتھکنڈہ ہے ۔ ڈرافٹ اور فائنل لسٹ، دونوں نے تنازعے کو مزید بڑھایا اور ووٹروں کی تعداد میں نمایاں کمی دکھائی دی ۔ ایس آئی آر کے ساتھ ساتھ انتخابی کمیشن کے رویہ پر اٹھے سوالات نے اور تشویش بڑھا دی ۔ اس کی کارکردگی سے صاف ہو گیا کہ یہ اس کی نا اہلی، شفافیت کی کمی کے علاوہ حکمراں جماعت کو فائدہ پہنچانے کے لئے واضح جانب داری تھی ۔ جسے اپوزیشن نے ووٹ چوری کہا ۔ اپوزیشن کی شدید مخالفت کے باوجود بی جے پی حکومت نے تیاری اور بی ایل او کی باضابطہ تربیت کے بغیر من مانے طریقہ سے نوٹ بندی کی طرح ووٹ بندی کی مہم 12 ریاستوں میں شروع کردی ۔ اس کام کو پورا کرنے کے لئے اتنا دباؤ بنایا گیا کہ بی ایل او اور ان سے اوپر کے 30 افسران کی جان چلی گئی ۔ مگر حکومت اور الیکشن کمیشن کے کان پر جوں نہیں رینگی ۔
ایس آئی آر مدھیہ پردیش، راجستھان اور اترپردیش جیسی زیادہ آبادی والی ریاستوں بھی کرایا جا رہا ہے ۔ وہاں اتنی اجلت کیوں دکھائی جا رہی ہے جبکہ ان ریاستوں میں اگلے سال الیکشن نہیں ہونے والا ۔ یہاں زیادہ وقت دیا جا سکتا تھا ۔ لیکن آسام جہاں اگلے سال میں انتخاب ہونا ہے وہاں ایس آئی آر نہیں نہیں کیا جا رہا کیوں؟ بنگال میں بی جے پی خود ایس آئی آر پر سوال اٹھا رہی ہے ۔ جبکہ الیکشن کمیشن مرکزی حکومت کی مرضی کے مطابق کام کر رہا ہے ۔ اپوزیشن اس معاملہ میں متفق ہے، وہ پارلیمنٹ میں الیکشن کمشنر کے مواخذہ کی تجویز لانا چاہتی تھی ۔ حکومت نے گیانیش کمار کو بچانے کے لئے اپوزیشن کے پارلیمنٹ میں بحث کرانے کے مطالبہ کو منظور کر لیا ۔ اب 8 - 9 دسمبر کو ایس آئی آر کے بجائے الیکشن ریفارم پر پارلیمنٹ میں بحث ہوگی ۔ مانا جا رہا ہے کہ الیکشن ریفارم کے پس منظر میں ایس آئی آر پر بھی بات ہوگی ۔ ویسے اپوزیشن کے ایس آئی آر پر شدید ردعمل کی وجہ سے ایس آئی آر کے وقت ایک ہفتہ کی توسیع کی گئی ہے ۔ یہاں اس امر پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ سپریم کورٹ میں ایس آئی آر کے خلاف کئی عرضیاں زیر سماعت ہیں ۔ اس نے الیکشن کمیشن کو مشورے تو دیئے لیکن کوئی فیصلہ نہیں دیا ۔ جبکہ وہ آئین کا محافظ ہے اور اسے الیکشن کمیشن کی پالیسیوں کو رویو کرنے کا حق حاصل ہے ۔
بی جے پی ایس آئی آر کے ذریعہ کمزور طبقات میں خوف، بے یقینی پیدا کرنا اور ریوڑیوں کا فائدہ اٹھانا چاہتی ہے ۔ ساتھ ہی وہ چھوٹی پارٹیوں کے ووٹ اپنے ساتھ لا کر الیکشن جیتنے کے منصوبہ پر کام کر رہی ہے ۔ اس میں ایس آئی آر کا ہتھیار کافی کارگر ثابت ہوا ہے ۔ ایسے میں اپوزیشن خاص طور پر انڈیا بلاک سے جڑی جماعتوں کو اس سے نپٹنے کے طریقوں پر غور کرنا چاہئے ۔ ساتھ ہی اپنے اتحاد کا احتساب کرنا ہوگا کہ حلیف جماعتیں ایک دوسرے سے کتنی مطمئین ہیں ۔ حکمراں جماعت کے کارکن بی ایل او کے ساتھ اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں لگے ہیں اور اپوزیشن شور مچا رہی ہے ۔ اسے اپنے کارکنوں کو اس عمل میں لگانا چاہئے تاکہ کسی بھی شہری کا ووٹ کٹنے نہ پائے ۔ اگرچہ کئی حقیقی مسائل ایسے ہیں جنہوں نے عام لوگوں کی زندگی اور روزگار کو متاثر کیا، لیکن اپوزیشن ان پر عوامی رائے کو مؤثر شکل دینے میں ناکام رہی ہے ۔ اسے اپنا ایجنڈہ واضح کرنا چاہئے تاکہ حکمران اتحاد کو سخت چیلنج دیا جا سکے ۔ اپوزیشن کا مستقبل اس میں ہے کہ عوامی مسائل پر دوبارہ مضبوط تحریکیں چلائی جائیں اور حکومتی ساز باز اور مجموعی طور پر ہندو قوم پرست کارپوریٹ حملوں کے خلاف مسلسل سیاسی جدوجہد کی جائے ۔ایک غیر جانب دار انتخابی نظام اور منصفانہ جمہوریت کے لیے جدوجہد اسی طرح کی مسلسل کوشش کا تقاضا کرتی ہے ۔ حکمراں جماعت بی جے پی نے ایس آئی آر کے ذریعہ اپنی منشاء اور منصوبہ صاف کر دیا ہے ۔ اب اپوزیشن کی باری ہے عوام کو یہ بتانے کی کہ وہ کیسے ان کی زندگی بہتر بنا سکتی ہے ۔
شیئر کریں:

More from مضامین

عبد الجلیل مستان
مضامین

عبد الجلیل مستان

28 ستمبر، 2026
آٹھ سال کے بعد اردو ڈائرکٹریٹ، پٹنہ کا بے مثال جشن اردو
مضامین

آٹھ سال کے بعد اردو ڈائرکٹریٹ، پٹنہ کا بے مثال جشن اردو

28 اگست، 2026
آزادی کے بعد آزادی کی تلاش،خواب ابھی باقی ہے
مضامین

آزادی کے بعد آزادی کی تلاش،خواب ابھی باقی ہے

21 اگست، 2026
سپریم کورٹ کا حکم، انتظامی ضوابط اور جدید معاشی تحفظ کا پیغام
مضامین

سپریم کورٹ کا حکم، انتظامی ضوابط اور جدید معاشی تحفظ کا پیغام

21 اگست، 2026
شوبھندو حکومت کے 100 دن
مضامین

شوبھندو حکومت کے 100 دن

20 اگست، 2026
​پولیس تشدد کے خلاف اہم فیصلہ
مضامین

​پولیس تشدد کے خلاف اہم فیصلہ

13 جولائی، 2026