ترقی میں خواتین قائدانہ رول ادا کر رہی ہیں: رادھا کرشنن
Awaz E Bihar••5 ویوز•4 منٹ پڑھیں
نائب صدر جمہوریہ سی پی رادھا کرشنن نے منگل کے روز کہا کہ 'لکھپتی دیدی’ اور 'نمو ڈرون دیدی‘ جیسے اقدامات کے تعاون سے خواتین ترقی کے عمل میں قائدانہ رول ادا کر رہی ہیں۔ مسٹر رادھا کرشنن نے آج یہاں 18ویں سول سروسز ڈے کے موقع پر ملک بھر میں کام کرنے والے تمام انتظامی افسران اور ان کے سبکدوش ساتھیوں کو دلی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر داخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل نے دہلی میں ایڈمنسٹریٹیوسروسز کے زیرِ تربیت افسران سے خطاب کیا تھا، جس میں انہوں نے انتظامی افسران کو "ہندوستان کا ستون" قرار دیا تھا۔ اس بات کو 79 سال بیت چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افسران کے مختلف بیچز نے اس وراثت کو مسلسل برقرار رکھا ہے اور ترقی و خوشحالی کی راہ پر ملک کے ٹھوس ڈھانچے کے طور پر کام کیا ہے۔ انہوں نے مختلف ریاستوں میں کام کرنے والے انتظامی افسران کو قومی اتحاد اور یکجہتی کا سب سے بڑا سفیر قرار دیا۔وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں گزشتہ دہائی کے دوران حاصل کی گئی بے مثال ترقی کا ذکر کرتے ہوئے نائب صدر نے "سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس اور سب کا پریاس" کے رہنما وژن پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اہم کامیابیوں کے بارے میں بتایا، جن میں تقریباً 25 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالنا، غریبوں کے لیے 4 کروڑ سے زائد گھروں کی تعمیر اور سرحدی گاؤں کو متحرک کمیونٹیز کے طور پر تیار کرنا شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ لکھپتی دیدیوں اور نمو ڈرون دیدیوں جیسے اقدامات کے تعاون سے خواتین ترقی میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔انہوں نے 'آرزو مندانہ اضلاع’ (ایسپریشنل ڈسٹرکٹس) پروگرام اور 'ایک ضلع ایک پروڈکٹ‘ جیسے اہم پروگراموں کا بھی ذکر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ریاست یا ضلع پیچھے نہیں رہنا چاہیے۔ سرکاری پالیسیوں کے حقیقی نفاذ کاروں کے طور پر انتظامی افسران کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کامیابیوں میں ان کی دیانتداری کا اہم کردار رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ 'سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس اور سب کا پریاس کے اصول کا تجربہ ہر شہری کو کرنا چاہیے۔ نائب صدر نے کہا کہ 2047 تک وکست بھارت کی راہ میں ہندوستان کو ابھی طویل سفر طے کرنا ہے۔ انہوں نے جامع ترقی اور موثر حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل عزم، ایمانداری اور آخری شخص تک خدمات پہنچانے پر توجہ مرکوز کرنے کی اپیل کی۔ وزیر اعظم کے وژن کو دہراتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انتظامی افسران کی یہ ذمہ داری ہے کہ کوئی بھی شہری پیچھے نہ رہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انتظامی خدمات میں صرف عام معلومات رکھنے والوں پر انحصار کرنے کا دور ختم ہو گیا ہے اور انہوں نے مزید مہارت (اسپیشلائزیشن) کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ریاستوں سے حکمرانی کو مضبوط بنانے کے لیے دور اندیش بھرتی کی پالیسیاں اپنانے کی بھی اپیل کی۔ انہوں نے سول سرونٹس کو مصنوعی ذہانت (اے آئی )، مشین لرننگ، نیچرل لینگویج پروسیسنگ اور بلاک چین جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو اپنانے کی ترغیب دی۔ نائب صدر نے انتظامی خدمات میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شراکت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 2016 میں خواتین کا حصہ تقریباً 21 فیصد تھا جو 2025 کے امتحان میں بڑھ کر تقریباً 31 فیصد ہو گیا ہے اور آج کئی خواتین سینئر عہدوں پر فائز ہیں۔ انہوں نے اسے 'ناری شکتی' کا ٹھوس ثبوت قرار دیا، جو نہ صرف عددی تبدیلی ہے بلکہ سوچ میں بھی تبدیلی ہے۔ انہوں نے 'ناری شکتی وندن ادھینیم' کے ذریعے قانون ساز اداروں میں بھی اسی طرح کی ترقی کی امید ظاہر کی۔