’خواتین ریزرویشن بل‘ لوک سبھا میں نہیں ہو سکا منظور
Awaz E Bihar••4 ویوز•4 منٹ پڑھیں
لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن سے جڑے تینوں بلوں کو ووٹنگ کے لیے پیش کیا گیا، جس کے پہلے راؤنڈ میں مجموعی طور پر 528 ووٹ پڑے۔ بل کی حمایت میں 298 ووٹ ڈالے گئے، جبکہ 230 اراکین نے خلاف میں ووٹ ڈالے۔ بل کو منظوری کے لیے دو تہائی ووٹ کی ضرورت تھی، جو کہ 352 ہوتی ہے۔ مودی حکومت اس نمبر سے بہت پیچھے رہ گئی، جو کہ مودی حکومت کے لیے ایک شدید جھٹکا تصور کیا جا رہا ہے۔پہلے راؤنڈ میں ہوئی اس ووٹنگ کے بعد بقیہ دو بلوں کو پیش ہی نہیں کیا گیا۔ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے کہا کہ اس بل پر غور کرنے سے متعلق جب ووٹنگ ہوئی تو ’ہاں‘ میں 298 اور ’نہ‘ میں 230 ووٹ پڑے۔ یہ بل دو تہائی اکثریت سے پاس نہیں ہوا، اس لیے بل پر آگے کی کارروائی ممکن نہیں ہے۔ یہ بل غور کرنے کے لیے پیش کیے جانے کی سطح پر ہی گر گیا۔ اس کے بعد پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے دیگر 2 بلوں کو آگے نہ بڑھانے کا اعلان کیا۔ مرکزی وزیر برائے قانون ارجن رام میگھوال نے خواتین ریزرویشن سے منسلک 131ویں آئین ترمیمی بل پاس کرنے کے مقصد سے ایوان زیریں میں پیش کیا تھا۔ اسپیکر اوم برلا نے آئین ترمیمی بل پر ووٹنگ کا فیصلہ کیا اور اس مقصد سے انھوں نے لابی خالی کرانے کا حکم دیا۔ بعد ازاں ووٹنگ ہوئی، جس میں مودی حکومت کی کوششیں ناکام ہو گئیں۔ اپوزیشن پارٹیوں نے پہلے ہی مودی حکومت کے ذریعہ پیش کردہ بل کو گمراہ کن اور سازش کا نتیجہ قرار دیا تھا۔ خاص طور سے کانگریس کے سرکردہ لیڈران نے لوک سبھا میں اپنی بات رکھتے ہوئے واضح طور پر کہا تھا کہ یہ خواتین ریزرویشن کا بل نہیں ہے، بلکہ اس کا لباس پہنا کر حد بندی کا بل ہے۔ بل کے منظور نہ ہونے کے بعد پارلیمانی امور کے وزیر کیرن رجیجو نے حد بندی بل 2026 اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے متعلق ترمیمی بل 2026 کو واپس لینے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن نے خواتین کے ریزرویشن کو نافذ کرنے کا ایک تاریخی موقع ضائع کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت خواتین کو بااختیار بنانے کی اپنی کوششیں جاری رکھے گی اور آئینی ترمیمی بل منظور نہ ہونے کے باعث دیگر دونوں بلوں کو آگے نہ بڑھانے کی درخواست کی گئی ہے۔ حکومت نے 2023 میں متفقہ طور پر منظور شدہ خواتین کے ریزرویشن بل کو نافذ کرنے کے لیے آئین میں 131ویں ترمیم کے ساتھ ساتھ 2011 کی آبادی کی بنیاد پر حلقہ بندی کرنے اور ان قوانین کو پڈوچیری، دہلی اور جموں و کشمیر جیسے اسمبلی والے مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں نافذ کرنے کی تجویز دی تھی۔ اس کے تحت لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کی نشستوں میں 50 فیصد اضافہ کرنے اور 2029 کے عام انتخابات سے خواتین کا ریزرویشن نافذ کرنے کا منصوبہ تھا۔ حکومت نے لوک سبھا کی نشستوں کی تعداد 550 سے بڑھا کر 850 کرنے کی بھی تجویز دی تھی۔ بحث کے دوران اپوزیشن نے حکومت پر سیاسی فائدے کے لیے بل لانے کا الزام لگایا۔ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا کہ بی جے پی اپنے فائدے کے لیے حلقہ بندی کر رہی ہے۔ کئی اپوزیشن اراکین نے خدشہ ظاہر کیا کہ حد بندی سے شمالی ریاستوں کی نشستیں بڑھ جائیں گی جبکہ جنوبی ریاستوں کی نمائندگی کم ہو جائے گی۔ وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن خواتین کے ریزرویشن کے معاملے پر "اگر مگر" کر رہی ہے، لیکن دراصل وہ اس کی مخالفت کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے 2023 میں اس بل کی حمایت اس لیے کی تھی کیونکہ اسے 2024 کے انتخابات میں خواتین کی ناراضی کا خوف تھا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی طاقت کے غصے کے سامنے اپوزیشن کے پاس بچنے کا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔