خواتین ریزرویشن ہمارا مشن تھا، ہماری جیت ہے: پرینکا گاندھی نے بل کو کانگریسی نظریے کی فتح قرار دے دیا
Awaz E Bihar••4 ویوز•3 منٹ پڑھیں
کانگریس کی رکن پارلیمان پرینکا گاندھی واڈرا نے لوک سبھا میں جاری "آئینی ترمیمی بل 131 (2026)" پر بحث کے دوران بی جے پی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ وزیر اعظم مودی خود کو اس بل کا علمبردار ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن حقیقت میں خواتین کو بااختیار بنانے اور ریزرویشن فراہم کرنے کا تصور کانگریس کی ہی دین ہے۔پرینکا گاندھی نے ہندوستان کی سیاسی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کے مساوی حقوق کی بنیاد آزادی سے قبل ہی رکھ دی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ 1928 میں ہی موتی لال نہرو نے بنیادی حقوق کی فہرست میں خواتین کے حقوق شامل کیے تھے۔ سردار پٹیل کی صدارت میں 'ایک ووٹ، ایک شہری' کا اصول اپنایا گیا، جس کی بدولت ہندوستانی خواتین کو پہلے دن سے ہی حقِ رائے دہی حاصل ہوا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ کانگریس دور میں ہی پنچایتوں میں خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن دے کر اس سلسلے کا آغاز کیا گیا تھا۔"بی جے پی حکومت کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ خواتین کو آزادی کے پہلے دن سے ہی ووٹ کا حق مل گیا تھا، جبکہ امریکہ جیسی جمہوریتوں میں خواتین کو اس حق کے لیے 150 سال انتظار کرنا پڑا۔پرینکا گاندھی نے بل کے موجودہ ڈھانچے اور حکومت کی نیت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کئی اہم سوالات اٹھائے: انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت 'ذات پات مردم شماری' (کاسٹ جینسس) سے گھبرا رہی ہے اور او بی سی خواتین کے حقوق کو نظر انداز کر کے ان کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر حد بندی کر کے کمزور طبقات کو کیوں محروم رکھنا چاہتی ہے؟ ان کے مطابق محض تین افراد (حد بندی کمیشن) کو 140 کروڑ عوام کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کا اختیار دینا غیر جمہوری ہے۔ کانگریس رہنما نے تجویز دی کہ اگر حکومت مخلص ہے تو موجودہ لوک سبھا نشستوں کی بنیاد پر ہی خواتین کو فوری ریزرویشن دیا جا سکتا ہے، بجائے اس کے کہ اسے پیچیدہ عمل میں الجھایا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس بل میں "سیاسی مفاد کی بو" آ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ راہل گاندھی نے 2019 میں ہی وزیر اعظم کو خط لکھ کر اس بل کا مطالبہ کیا تھا، اور آج حکومت اسے اپنے سیاسی فائدے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔