یمن کی زمیں، خلیج کے زخم دو دوست، ایک محاذ اور بارود کی زبان
Awaz E Bihar••1 ویوز•5 منٹ پڑھیں
تحریر: سید آصف امام کاکوی دبئی سال 2025 اپنے آخری لمحات میں داخل ہو چکا ہے، مگر دنیا سکون کے بجائے ایک نئے اضطراب کے ساتھ اس سال کو الوداع کہہ رہی ہے۔ یمن کی زخمی سرزمین ایک بار پھر عالمی سیاست کے مرکز میں ہے، جہاں اس مرتبہ نشانے پر کوئی غیر ریاستی گروہ نہیں بلکہ خلیج کے دو قریبی اتحادی، دو پرانے دوست سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات آمنے سامنے کھڑے دکھائی دے رہے ہیں۔صبح کی پہلی اذان کے ساتھ ہی یمن کی فضا میں دھماکوں کی گونج سنائی دی۔ مکلا بندرگاہ پر ہونے والا سعودی فضائی حملہ محض ایک عسکری کارروائی نہیں تھا، بلکہ یہ خلیج کی سیاست میں ایک گہری دراڑ کا اعلان تھا۔ چند ہی گھنٹوں بعد ریاض سے آنے والا دو ٹوک پیغام پوری دنیا نے سنا: متحدہ عرب امارات 24 گھنٹوں کے اندر یمن سے اپنی تمام افواج واپس بلائے۔ یہ بیان سفارتی لہجے میں لپٹا ہوا کوئی رسمی جملہ نہیں تھا، بلکہ ایک سخت انتباہ تھا۔ سعودی عرب نے واضح کر دیا کہ اس کی قومی سلامتی ایک سرخ لکیر ہے، اور اس لکیر کو پار کرنے کی اجازت کسی قریبی دوست کو بھی نہیں دی جا سکتی۔ سعودی عرب کا مؤقف ہے کہ مکلا بندرگاہ پر اماراتی جہازوں کے ذریعے بھاری مقدار میں اسلحہ، بکتر بند گاڑیاں اور فوجی سازوسامان اتارا جا رہا تھا، جو جنوبی یمن میں سرگرم علیحدگی پسند تنظیم سدرن ٹرانزیشنل کونسل (STC) کو مضبوط کرنے کے لیے تھا۔ ریاض کے مطابق یہ نہ صرف جنگ بندی اور کشیدگی کم کرنے کے معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ سعودی سرحدوں کے قریب ایک نئے خطرے کی تیاری بھی۔ دوسری جانب متحدہ عرب امارات کی خاموشی خود ایک سوال بن چکی ہے۔ اگرچہ ابتدائی طور پر الزامات کی تردید کی گئی، مگر شام ہوتے ہوتے یمن سے مکمل فوجی انخلا کے اعلان نے اس بحران کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا۔ یہاں سوال یہ نہیں کہ حملہ کیوں ہوا، بلکہ سوال یہ ہے کہ وہ دوست جو برسوں تک ایک ہی محاذ پر کھڑے رہے، اچانک ایک دوسرے کے لیے خطرہ کیسے بن گئے؟ یمن کی جنگ دراصل ایک جنگ نہیں، بلکہ کئی جنگوں کا مجموعہ ہے۔ یہ کہانی 2011 کے عرب اسپرنگ سے شروع ہوتی ہے، جب یمن کے عوام سڑکوں پر نکلے اور دہائیوں سے اقتدار میں بیٹھے علی عبداللہ صالح کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور کیا۔ ان کے بعد عبدربہ منصور ہادی کو عبوری صدر بنایا گیا، مگر بدعنوانی، بے روزگاری اور مہنگائی نے عوام کی امیدوں کو جلد ہی مایوسی میں بدل دیا۔ اسی خلا میں حوثی تحریک نے طاقت حاصل کی اور دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا۔ حیرت انگیز طور پر سابق صدر صالح نے اپنے پرانے دشمن حوثیوں کا ساتھ دیا۔ 2015 میں حالات اس نہج پر پہنچے کہ سعودی عرب نے فوجی مداخلت کا فیصلہ کیا اور یمن میں ایک وسیع عرب اتحاد کے ساتھ فضائی کارروائیاں شروع کر دیں، جنہیں امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی حمایت حاصل رہی۔ سعودی عرب کو خوف تھا کہ اس کی جنوبی سرحد پر ایران نواز حوثیوں کی حکومت قائم ہو جائے گی، اور باب المندب جیسی اہم آبی گزرگاہ اس کے کنٹرول سے نکل سکتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ یمن پر سخت بحری اور فضائی ناکہ بندی مسلط کی گئی، جس کا خمیازہ عام یمنی عوام نے بھگتا۔ ایندھن، غذا اور دواؤں کی شدید قلت نے یمن کو دنیا کے بدترین انسانی بحران میں تبدیل کر دیا۔ لاکھوں بچے غذائی قلت کا شکار ہوئے، اسپتال بند ہو گئے، اور ایک پورا معاشرہ زندہ رہنے کی جدوجہد میں تنہا چھوڑ دیا گیا۔ اسی دوران یمن کے جنوب میں ایک اور محاذ کھل گیا۔ متحدہ عرب امارات نے جنوبی علیحدگی پسندوں کی حمایت شروع کی، جو ایک الگ جنوبی یمن کا خواب دیکھ رہے تھے۔ یہاں سے سعودی عرب اور یو اے ای کے راستے آہستہ آہستہ جدا ہونے لگے۔ ایک متحد یمن بمقابلہ ایک تقسیم شدہ یمن یہی بنیادی اختلاف آج کھلے تصادم میں بدل چکا ہے۔حالیہ واقعات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ خلیج کی سیاست میں اتحاد مستقل نہیں ہوتے، بلکہ مفادات کے تابع ہوتے ہیں۔ جب مفادات ٹکراتے ہیں تو دوست دشمن بن جاتے ہیں، اور میدانِ جنگ کسی اور کا ہوتا ہے۔ سب سے تلخ حقیقت یہ ہے کہ ان تمام فیصلوں، بیانات اور بمباریوں کی قیمت ہمیشہ عام انسان ادا کرتا ہے۔ یمن کی وہ ماں جو اپنے بچے کو بھوک سے مرتا دیکھ رہی ہے، وہ بزرگ جو دوا کے بغیر دم توڑ رہا ہے، اور وہ نوجوان جس کے پاس ہجرت کے سوا کوئی راستہ نہیں یہی اس جنگ کا اصل چہرہ ہیں۔ آج یمن کی زمین ایک بار پھر گواہ ہے کہ جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں لڑی جاتیں، بلکہ فیصلوں، گھڑیوں کے کانٹوں اور سیاسی بیانات کے ذریعے بھی لڑی جاتی ہیں۔صبح کا حملہ، دوپہر کا الٹی میٹم اور شام کا انخلا یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ طاقت ور ممالک کے ایک دن کے فیصلے کمزور قوموں کی دہائیوں پر محیط تقدیر بدل دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یمن کو کبھی امن نصیب ہوگا؟ کیا خلیج کے یہ طاقت ور ممالک اس حقیقت کو تسلیم کریں گے کہ عسکری برتری کے باوجود اخلاقی شکست ان کے حصے میں آ رہی ہے؟ اور کیا عالمی ضمیر کبھی جاگے گا، یا یمن یونہی عالمی سیاست کی بساط پر ایک مہرہ بنا رہے گا؟ یمن آج بھی خون میں نہایا ہوا ہے، مگر اس کے زخم صرف بموں سے نہیں لگے، بلکہ ان وعدوں سے بھی لگے ہیں جو ہر جنگ کے آغاز میں کیے جاتے ہیں اور ہر جنگ کے بعد بھلا دیے جاتے ہیں۔