جنتر منتر کے قریب اپوزیشن رہنماؤں سمیت سینکڑوں مظاہرین حراست میں، چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کا مطالبہ
Awaz E Bihar
••3 ویوز•5 منٹ پڑھیں
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبے پر جمعہ کے روز سڑکوں پر اترے اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں اور طلبہ تنظیموں کے تقریباً 600 مظاہرین کو پولیس نے یہاں جنتر منتر اور اس کے آس پاس سے حراست میں لے لیا، تاہم بعد میں انہیں چھوڑ دیا گیا۔عام آدمی پارٹی (اے اے پی)، بائیں بازو کی جماعتوں، این ایس یو آئی اور آئیسا کے کارکن ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرِ ثانی (ایس آئی آر) میں بے ضابطگیوں اور بڑے پیمانے پر ووٹروں کے نام ہٹائے جانے کے الزامات کو لے کر چیف الیکشن کمشنر مسٹر کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے جنتر منتر پر احتجاج کرنے پہنچے تھے۔ حراست میں لیے گئے لوگوں میں اے اے پی رہنما آتشی، سوربھ بھاردواج، سنجے سنگھ، سنجیو جھا، سماجی کارکن یوگیندر یادو اور ایسے کئی دیگر رہنما شامل تھے۔طلبہ تنظیموں کے اتحاد نے گاندھی جینتی کے موقع پر اس احتجاج کی اپیل کی تھی۔ مظاہرین نے چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ خصوصی جامع نظرِ ثانی (ایس آئی آر) کا کام ٹھیک سے نہیں کیا گیا۔ وہیں، کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے بھی گاندھی جینتی کے موقع پر ممبئی میں اسی طرح کے احتجاج کی اپیل کی تھی۔ اے اے پی رہنما آتشی نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ فتح پور بیری تھانے میں بھی انقلابیوں کا حوصلہ کم نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی لڑائی جاری رہے گی اور زور دے کر کہا کہ "گیانیش کمار کو جانا ہی ہوگا"۔ مظاہرین کو جنتر منتر کی طرف نہ بڑھنے کی ہدایت دی گئی، کیونکہ احتجاج کی اجازت نہیں ملی تھی۔پورے نئی دہلی ضلع میں بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہیتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 163 کے تحت حکم امتناعی لاگو تھے۔ ضلع میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور جنتر منتر کی طرف جانے والی سڑکوں پر بیری کیڈنگ کی گئی تھی۔ دہلی میٹرو نے بھی اگلے حکم تک راجیو چوک، پٹیل چوک، سینٹرل سیکرٹریٹ اور منڈی ہاؤس سمیت 12 اسٹیشنوں پر آمد و رفت بند کر دی تھی۔ ڈی ایم آر سی نے دن کے دوران جنپتھ، پٹیل چوک، مرکزی سکریٹریٹ، راجیو چوک، سیوا تیرتھ، منڈی ہاؤس، لوک کلیان مارگ، آئی این اے، چاوڑی بازار، نئی دہلی اور آر کے آشرم مارگ سمیت میٹرو اسٹیشنوں پر روک لگائی، جبکہ راجیو چوک، منڈی ہاؤس، آئی این اے، نئی دہلی اور سینٹرل سیکرٹریٹ اسٹیشنوں پر انٹرچینج کی سہولت دستیاب رہی۔ پولیس نے قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت غیر مجاز اجتماع، نعرے بازی یا احتجاج کی اجازت نہ ہونے سے متعلق بینرز اور نوٹس لگائے تھے۔ مظاہرین نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن نے ووٹر فہرستوں میں اس طرح ہیرا پھیری کی تاکہ صورتِ حال برسرِ اقتدار جماعت کے حق میں رہے۔ ساتھ ہی انہوں نے ایس آئی آر کے دوران ووٹر فہرستوں سے نام ہٹائے جانے پر جواب دہی اور وضاحت کا مطالبہ کیا۔ اس دوران اے اے پی لیڈر سوربھ بھاردواج نے کہا کہ احتجاج کرنا ہر شہری کا جمہوری اور آئینی حق ہے۔ سی جے پی کے کنوینر سورَو داس نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی کا احتجاج تبھی ختم ہوگا جب چیف الیکشن کمشنر استعفیٰ دے دیں گے۔ اے اے پی لیڈران، آئیسا، ایس ایف آئی، این ایس یو آئی اور دیگر طلبہ تنظیموں سمیت سو سے زائد مظاہرین کو جنتر منتر اور اس کے اطراف سے حراست میں لیا گیا۔احتجاج کے دوران حراست میں لیے جانے کے بعد سماجی کارکن یوگیندر یادو نے کہا کہ گاندھی جینتی پر اس ملک نے ایک انوکھا اور خوفناک دن دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ اس حکومت نے وہی کیا جو انگریز حکومت کیا کرتی تھی اور اس ملک کی عوام نے وہی کیا جو ہمارے مجاہدینِ آزادی کیا کرتے تھے۔ حکومت نے جبر کیا، پولیس راج قائم کیا، بربریت کی، بولنے کی اجازت نہیں دی لیکن دہلی اور ملک کے کونے کونے سے لوگ آئے۔ انہوں نے کہا کہ گیانیش کمار کے خلاف پارلیمنٹ میں مواخذے کی کارروائی شروع نہیں کی گئی تو اس ملک کی سڑکوں پر مواخذہ چلے گا۔انہوں نے کہا کہ آج جنتر منتر سے 'چیف الیکشن ملزم' کے خلاف مواخذے کا آغاز ہوچکا ہے۔مسٹر سوربھ بھاردواج نے کہا کہ پرامن احتجاج کے باوجود انہیں اور سنجیو جھا کو حراست میں لیا گیا۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں اور حامیوں سے تحریک جاری رکھنے اور جنتر منتر پہنچنے کی اپیل کی۔ایس ایف آئی کی طلبہ رہنما آئیشی گھوش نے کہا کہ ڈی وائی ایف آئی اور ایس ایف آئی کے کئی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ انہوں نے پولیس کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ حراست میں لے کر تحریک کو روکا نہیں جا سکتا اور یہ تحریک کی محض شروعات ہے۔ این ایس یو آئی کارکنوں نے 5، رائے سینا روڈ پر واقع تنظیم کے ہیڈکوارٹر سے جنتر منتر کی طرف مارچ کیا۔ مارچ میں سینکڑوں کارکن شامل ہوئے۔ مظاہرین نے انتخابی عمل میں شفافیت اور جواب دہی اور ووٹر فہرستوں و انتخابات کے انعقاد سے جڑے امور پر الیکشن کمیشن سے جواب دینے کا مطالبہ کیا۔ جنتر منتر کی طرف بڑھ رہے مظاہرین کو روکنے کے لیے دہلی پولیس نے بیری کیڈنگ کی، جس کے بعد پولیس نے مسٹرجاکھڑ سمیت سینکڑوں کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ حراست میں لیے جانے سے پہلے مسٹرجاکھڑ نے کہا کہ طلبہ کو حراست میں لے کر جمہوریت کی آواز کو نہیں دبایا جا سکتا۔ انہوں نے انتخابی عمل سے جڑے سوالات کے جوابات عوامی سطح پر دینے کا مطالبہ کیا۔