
16میڈیکل کالج پی پی پی موڈ پر چلائے جائیں گے
Awaz E Bihar••12 ویوز•5 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 5 اگست (اے بی این): حکومت نے ریاست میں صحت کی سہولیات کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے مقصد سے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے 16 نئے تعمیر شدہ اور زیر تعمیر میڈیکل کالجوں اور اسپتالوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) ماڈل کے تحت چلانے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ بدھ کو وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کی صدارت میں منعقدہ ریاستی کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا، جس میں مجموعی طور پر 17 اہم ایجنڈوں پر مہر لگائی گئی۔ کابینہ کے فیصلوں کی تفصیلات کابینہ سکریٹریٹ محکمہ کے ایڈیشنل چیف سکریٹری اروند کمار چودھری نے سوچنا بھون کے آڈیٹوریم میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کو دیں۔
اروند کمار چودھری نے بتایا کہ کابینہ نے ریاست کے 16 براؤن فیلڈ میڈیکل کالجوں اور اسپتالوں، جن میں ڈینٹل کالج بھی شامل ہیں، کو پی پی پی موڈ پر چلانے کی منظوری دی ہے۔ ان میں پاواپوری (نالندہ)، رہوئی، مدھے پورہ اور پورنیہ کے چار میڈیکل کالج پہلے ہی فعال ہیں، جبکہ سمستی پور، سارن، بھوجپور، مدھوبنی، ویشالی، بکسر، سیوان، بیگوسرائے، سیتامڑھی، جموئی، مونگیر اور سپول میں نئے میڈیکل کالجوں کی تعمیر جاری ہے۔ ان تمام اداروں کے انتظام و انصرام کے لیے پرائس واٹر ہاؤس کوپر پرائیویٹ لمیٹڈ (پی ڈبلیو سی) کے ساتھ معاہدہ کیا جائے گا، جس کے لیے 8 کروڑ 27 لاکھ روپے کی انتظامی منظوری دی گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے جدید طبی سہولیات کی فراہمی، انتظامی کارکردگی میں بہتری اور عوام کو بہتر علاج کی سہولت میسر آئے گی۔
کابینہ نے محکمہ کھیل کے تحت ریاست کا پہلا اسپورٹس سائنس سینٹر (ہائی پرفارمنس اسپورٹس ٹریننگ اینڈ انجری سنٹر) قائم کرنے کی بھی منظوری دی ہے۔ اس منصوبے پر 4 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔ اس مرکز میں کھلاڑیوں کو سائنسی بنیادوں پر تربیت، اسپورٹس میڈیسن، غذائیت، فزیوتھراپی، بحالی، نفسیاتی معاونت اور کارکردگی کے جدید تجزیے جیسی عالمی معیار کی سہولیات فراہم کی جائیں گی، تاکہ بہار کے کھلاڑی قومی اور بین الاقوامی سطح پر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں۔
اجلاس میں نوادہ ضلع کے رجولی موضع میں بہار انڈسٹریل سیکورٹی فورس (بی آئی ایس ایف) کے قیام کے لیے محکمہ داخلہ کو 43.98 ایکڑ سرکاری زمین مفت منتقل کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے صنعتی اداروں کی حفاظت کو مزید مؤثر بنایا جا سکے گا۔
کابینہ نے ہر گھر ترنگا مہم 2026 کے تحت ریاست بھر میں حب الوطنی سے متعلق مختلف پروگراموں کے انعقاد کے لیے 6 کروڑ 12 لاکھ روپے کی منظوری دی۔ اس رقم سے ترنگا کنسرٹ، ’’وندے ماترم‘‘ پر مبنی ثقافتی پروگرام، ترنگا نمائش، ترنگا ریلی، سیلفی ود ترنگا مہم، عوامی بیداری پروگرام اور دیگر تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا۔
محکمہ صحت سے متعلق ایک اور اہم فیصلے میں کابینہ نے آیورویدک میڈیکل افسران کی تقرری کے قواعد میں ترمیم کی منظوری دی۔ اب سال 2003 تک جی اے ایم ایس (گریجویٹ ان آیورویدک میڈیسن اینڈ سرجری) کی ڈگری حاصل کرنے والے امیدوار بھی تقرری کے اہل ہوں گے۔ آیوش میڈیکل افسران کی تقرری مسابقتی امتحان کے ذریعے کی جائے گی۔ یہ فیصلہ پٹنہ ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں کیا گیا ہے۔
بہار ہیلتھ سائنسز یونیورسٹی، پٹنہ کے انتظامی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے بھی کابینہ نے چھ نئی اسامیوں کی منظوری دی ہے، جن میں ایک ڈپٹی رجسٹرار، دو اسسٹنٹ رجسٹرار، ایک ڈپٹی کنٹرولر آف امتحانات اور دو اسسٹنٹ کنٹرولر آف امتحانات شامل ہیں۔
سیاحت کے فروغ کے لیے کابینہ نے وزیراعلیٰ بہار ہیلی ٹورازم اور ایئر ٹورازم سروس اسکیم 2026 کے تحت ایک ہیلی کاپٹر سروس چلانے کے لیے ماہانہ 60 لاکھ روپے کے اخراجات کی منظوری دی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے ریاست کے مذہبی اور تاریخی سیاحتی مقامات تک رسائی آسان ہوگی اور سیاحت کو فروغ ملے گا۔تعلیم کے شعبے میں کابینہ نے مشرقی چمپارن کے پپرا کوٹھی میں پانچ ایکڑ زمین 30 برس کی لیز پر کیندریہ ودیالیہ سنگٹھن کو منتقل کرنے کی منظوری دی، جہاں ایک نیا کیندریہ ودیالیہ قائم کیا جائے گا۔عدالتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمات کی جلد سماعت کے لیے پورنیہ، بھاگلپور اور گیا میں خصوصی عدالتوں کے قیام کی منظوری دی گئی۔ اس مقصد کے لیے 27 غیر گزیٹیڈ اسامیاں تخلیق کی جائیں گی۔ اسی طرح ایس سی/ایس ٹی مظالم ایکٹ کے تحت زیر التوا مقدمات کے جلد تصفیے کے لیے اضافی خصوصی عدالتوں میں 171 مختلف غیر گزیٹیڈ اسامیوں کی منظوری بھی دی گئی۔شہری بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں کابینہ نے مرکزی حکومت کی امرت-2.0 اسکیم کے تحت جمال پور واٹر سپلائی منصوبے کے لیے 122 کروڑ 22 لاکھ روپے اور مونگیر واٹر سپلائی (فیز-1) منصوبے کے لیے 177 کروڑ 72 لاکھ روپے کی انتظامی منظوری دی۔سماجی فلاح کے شعبے میں بھی اہم فیصلہ کرتے ہوئے کابینہ نے بہار کشور نیائے ایکٹ 2015 کے تحت ریاست کے آبزرویشن ہوم، اسپیشل ہوم اور دیگر اداروں میں سیکورٹی کے پیش نظر 330 ہوم گارڈ کی تعیناتی کی منظوری دی، تاکہ وہاں مقیم بچوں اور عملے کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔کابینہ کے ان فیصلوں کو ریاست میں صحت، کھیل، تعلیم، سیاحت، عدلیہ، شہری ترقی اور سماجی بہبود کے شعبوں میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
اروند کمار چودھری نے بتایا کہ کابینہ نے ریاست کے 16 براؤن فیلڈ میڈیکل کالجوں اور اسپتالوں، جن میں ڈینٹل کالج بھی شامل ہیں، کو پی پی پی موڈ پر چلانے کی منظوری دی ہے۔ ان میں پاواپوری (نالندہ)، رہوئی، مدھے پورہ اور پورنیہ کے چار میڈیکل کالج پہلے ہی فعال ہیں، جبکہ سمستی پور، سارن، بھوجپور، مدھوبنی، ویشالی، بکسر، سیوان، بیگوسرائے، سیتامڑھی، جموئی، مونگیر اور سپول میں نئے میڈیکل کالجوں کی تعمیر جاری ہے۔ ان تمام اداروں کے انتظام و انصرام کے لیے پرائس واٹر ہاؤس کوپر پرائیویٹ لمیٹڈ (پی ڈبلیو سی) کے ساتھ معاہدہ کیا جائے گا، جس کے لیے 8 کروڑ 27 لاکھ روپے کی انتظامی منظوری دی گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے جدید طبی سہولیات کی فراہمی، انتظامی کارکردگی میں بہتری اور عوام کو بہتر علاج کی سہولت میسر آئے گی۔
کابینہ نے محکمہ کھیل کے تحت ریاست کا پہلا اسپورٹس سائنس سینٹر (ہائی پرفارمنس اسپورٹس ٹریننگ اینڈ انجری سنٹر) قائم کرنے کی بھی منظوری دی ہے۔ اس منصوبے پر 4 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔ اس مرکز میں کھلاڑیوں کو سائنسی بنیادوں پر تربیت، اسپورٹس میڈیسن، غذائیت، فزیوتھراپی، بحالی، نفسیاتی معاونت اور کارکردگی کے جدید تجزیے جیسی عالمی معیار کی سہولیات فراہم کی جائیں گی، تاکہ بہار کے کھلاڑی قومی اور بین الاقوامی سطح پر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں۔
اجلاس میں نوادہ ضلع کے رجولی موضع میں بہار انڈسٹریل سیکورٹی فورس (بی آئی ایس ایف) کے قیام کے لیے محکمہ داخلہ کو 43.98 ایکڑ سرکاری زمین مفت منتقل کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے صنعتی اداروں کی حفاظت کو مزید مؤثر بنایا جا سکے گا۔
کابینہ نے ہر گھر ترنگا مہم 2026 کے تحت ریاست بھر میں حب الوطنی سے متعلق مختلف پروگراموں کے انعقاد کے لیے 6 کروڑ 12 لاکھ روپے کی منظوری دی۔ اس رقم سے ترنگا کنسرٹ، ’’وندے ماترم‘‘ پر مبنی ثقافتی پروگرام، ترنگا نمائش، ترنگا ریلی، سیلفی ود ترنگا مہم، عوامی بیداری پروگرام اور دیگر تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا۔
محکمہ صحت سے متعلق ایک اور اہم فیصلے میں کابینہ نے آیورویدک میڈیکل افسران کی تقرری کے قواعد میں ترمیم کی منظوری دی۔ اب سال 2003 تک جی اے ایم ایس (گریجویٹ ان آیورویدک میڈیسن اینڈ سرجری) کی ڈگری حاصل کرنے والے امیدوار بھی تقرری کے اہل ہوں گے۔ آیوش میڈیکل افسران کی تقرری مسابقتی امتحان کے ذریعے کی جائے گی۔ یہ فیصلہ پٹنہ ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں کیا گیا ہے۔
بہار ہیلتھ سائنسز یونیورسٹی، پٹنہ کے انتظامی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے بھی کابینہ نے چھ نئی اسامیوں کی منظوری دی ہے، جن میں ایک ڈپٹی رجسٹرار، دو اسسٹنٹ رجسٹرار، ایک ڈپٹی کنٹرولر آف امتحانات اور دو اسسٹنٹ کنٹرولر آف امتحانات شامل ہیں۔
سیاحت کے فروغ کے لیے کابینہ نے وزیراعلیٰ بہار ہیلی ٹورازم اور ایئر ٹورازم سروس اسکیم 2026 کے تحت ایک ہیلی کاپٹر سروس چلانے کے لیے ماہانہ 60 لاکھ روپے کے اخراجات کی منظوری دی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے ریاست کے مذہبی اور تاریخی سیاحتی مقامات تک رسائی آسان ہوگی اور سیاحت کو فروغ ملے گا۔تعلیم کے شعبے میں کابینہ نے مشرقی چمپارن کے پپرا کوٹھی میں پانچ ایکڑ زمین 30 برس کی لیز پر کیندریہ ودیالیہ سنگٹھن کو منتقل کرنے کی منظوری دی، جہاں ایک نیا کیندریہ ودیالیہ قائم کیا جائے گا۔عدالتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمات کی جلد سماعت کے لیے پورنیہ، بھاگلپور اور گیا میں خصوصی عدالتوں کے قیام کی منظوری دی گئی۔ اس مقصد کے لیے 27 غیر گزیٹیڈ اسامیاں تخلیق کی جائیں گی۔ اسی طرح ایس سی/ایس ٹی مظالم ایکٹ کے تحت زیر التوا مقدمات کے جلد تصفیے کے لیے اضافی خصوصی عدالتوں میں 171 مختلف غیر گزیٹیڈ اسامیوں کی منظوری بھی دی گئی۔شہری بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں کابینہ نے مرکزی حکومت کی امرت-2.0 اسکیم کے تحت جمال پور واٹر سپلائی منصوبے کے لیے 122 کروڑ 22 لاکھ روپے اور مونگیر واٹر سپلائی (فیز-1) منصوبے کے لیے 177 کروڑ 72 لاکھ روپے کی انتظامی منظوری دی۔سماجی فلاح کے شعبے میں بھی اہم فیصلہ کرتے ہوئے کابینہ نے بہار کشور نیائے ایکٹ 2015 کے تحت ریاست کے آبزرویشن ہوم، اسپیشل ہوم اور دیگر اداروں میں سیکورٹی کے پیش نظر 330 ہوم گارڈ کی تعیناتی کی منظوری دی، تاکہ وہاں مقیم بچوں اور عملے کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔کابینہ کے ان فیصلوں کو ریاست میں صحت، کھیل، تعلیم، سیاحت، عدلیہ، شہری ترقی اور سماجی بہبود کے شعبوں میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
More from بہار

بہار
صنعت کاروں کو حکومت بہارہر ممکن تعاون کرے گی : سمراٹ

بہار
94 لاکھ 71 ہزار افراد کی خون کی کمی کی جانچ، 18 لاکھ سے زائد میں انیمیا کی تصدیق

بہار
اننت سنگھ و نیرج کمار کا تنازع اعلیٰ قیادت تک پہنچا

بہار
حکام کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل کیا جائے گا، شہریوں کو ڈیجیٹل کاپیاں ملیں گی: ڈاکٹر دلیپ جیسوال

بہار
بچوں کی مضبوط بنیاد سے ہی مضبوط ہوگا بہار: سمراٹ چودھری

بہار
