دربھنگہ(عرفان احمد پیدل) وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے جمعرات کو کہا کہ ریاستی حکومت کا ہدف اگلے پانچ برسوں میں بہار میں ایئر کنیکٹیویٹی کو 10گنا بڑھانا ہے ، تاکہ ریاست سے ہر سال چار سے پانچ کروڑ لوگ ہوائی سفر کر سکیں۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے دربھنگہ ایئر پورٹ کے احاطے میں منعقدہ پروگرام کا باقاعدہ شمع روشن کر کے افتتاح کیا۔ وزیر اعلیٰ نے دربھنگہ ایئر پورٹ کی سیکورٹی کی کمان سینٹرل انڈسٹریل سیکورٹی فورس کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس مسٹر پرویر رنجن کو سی آئی ایس ایف کا جھنڈا اور علامتی چابی پیش کرتے ہوئے سونپا۔پروگرام سےکو خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آج ایک تاریخی اور انتہائی اہم دن ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی اپیل کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس تقریب کا انعقاد چھوٹے پیمانے پر کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ ہندوستان کی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے ہر ممکن طریقے سے اپنا حصہ ڈالیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ زیادہ پروگرام ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے منعقد کی جائیں۔ اگر کوئی اہم واقعہ ہو تو اسے چھوٹے پیمانے پر رکھا جائے۔ وزیراعظم کی اپیل کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم عوامی نمائندوں اور انتظامی محکمے ہدایت دی ہے کہ ضروری حفاظتی اقدامات کو مدنظر رکھتے ہوئے گاڑیوں کا استعمال کم سے کم کریں ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ایندھن کی بچت ہوگی اور ملک کی معیشت مضبوط ہوگی۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ متھلا کی یہ سرزمین ہندوستان کی ثقافت کو مضبوط بناتی ہے۔ یہیں ماں جانکی کی پیدائش ہوئی تھی۔ مریادا پرشوتم بھگوان شری رام یہاں تشریف لائے۔ یہ سرزمین قربانی کی علامت ہے۔ متھلا کی روایات اوریہاں کی مصنوعات پوری دنیا تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ دنیا جس مکھانہ کو سپر فوڈ کے نام سے جانتی ہے ،اس کی پیدائش یہیں سے ہوئی ہے۔ وزیر اعظم جی اپنی تقریروں میں اکثر اس کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔ دنیا میں متھلانچل کو مکھانہ سے شناخت ملی ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ جناب نتیش کمارجی بہار سمیت متھلا کی ترقی کے لیے مسلسل کام کر تے رہے ہیں۔ 2005 سے پہلے اس پورے خطے میں خوف کا ماحول تھا۔ پٹنہ سے متھلانچل واقع جے نگر اور نرملی پہنچنے میں پہلے 10 گھنٹے لگتے تھے۔ عزت مآب اٹل بہاری واجپئی جی، وزیر اعظم جناب نریندر مودی، اور سابق وزیر اعلیٰ جناب نتیش کمار جی کے ذریعہ متھیلا میں کئے گئے ترقیاتی کاموں کی وجہ سے پورا منظر نامہ بدل گیا ہے۔ اس علاقے میں بڑی تعداد میں پل اور سڑکیں تعمیر کی گئی ہیں۔اس علاقہ میں روڈ کنیکٹیویٹی کے علاوہ ریل رابطے میں بھی بہت توسیع ہوئی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ-06 2005 میں بہار سے سالانہ ہوائی سفر کرنے والوں کی تعداد صرف 2.5 لاکھ کے قریب تھی جو اب بڑھ کر 50 لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے۔ ہمارا مقصد اگلے5 برسوں میں بہار میں ہوائی رابطہ کو 10 گنا بڑھانا ہے۔ ہم ایسا نظام بنا رہے ہیں کہ آئندہ 5 برسوں میں بہار کے 4 سے 5 کروڑ لوگ ہوائی سفر کر سکیں۔ سابق وزیر اعلیٰ جناب نتیش کمار جی نے نہ صرف بہار میں سڑکوں کا جال بچھانے کا کام کیا بلکہ ایئر پورٹ کی توسیع کے لیے بھی بہت کام کیا۔ انہوں نے بہار میں ایمس کے قیام کے لیے زمین کا انتظام بھی یقینی بنایا۔ان کے اس کام کو ہم لوگ مزید آگے لے جا رہے ہیں۔ دربھنگہ کا یہ ایئر پورٹ صرف ایک جگہ نہیں ہے بلکہ یہ متھلانچل کی مصنوعات کودنیا کی مارکٹ تک پہنچانے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ آئندہ 5 برسوں میں ریاستی حکومت یہاں بند اشوک پیپر مل کی جگہ نئی صنعت قائم کرنے کی سمت کام کرے گی۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تمام اضلاع میں ایئر ٹریفک کی توسیع کر نا ہے،وہ چاہے ایئر پورٹ کی شکل میں ہو، ہوائی پٹیوں یا ہیلی پورٹ پورٹ کی شکل میں ہو۔ مظفر پور، رکسول، سہرسہ اور بیرپور میں ایئر پورٹ کے قیام کے لیے ٹینڈر ہو گیا ہے۔ پورنیہ ایئر پورٹ پہلے ہی چالو ہو چکا ہے۔ مونگیر، اجگیبی ناتھ، بھاگلپور اور بیگوسرائے کے ایئر پورٹ کو بھی ہر حال میں چالو کر نا ہے۔ شہری ہوا بازی محکمہ اور مرکزی حکومت کے حکام کے ساتھ اگلے ہفتے ایک میٹنگ ہو نی ہے۔ دربھنگہ ایئر پورٹ کا نام بابا ودھیا پتی جی کے نام پر ہو اس کے لیے ہم وزیر اعظم جی سے گزارش کریں گے ۔ اس ایئرپورٹ کو بین الاقوامی ایئرپورٹ بنانے کے لیے بھی کام کر نا ہے۔ دربھنگہ اور متھلا بہار کا مرکزی پوائنٹ ہے۔سابق وزیر اعلیٰ جناب نتیش کمار جی کے ذریعہ کو ترقیاتی کام کیے گئے ہیں اس سے تین گنا اور زیادہ ترقیاتی کام ہوں گے تب ہی بہار ترقی یافتہ ہو گا۔ کشن گنج ضلع کے پوٹھیا انچل میں سینٹرل انڈسٹریل سیکورٹی فورس کے علاقائی ٹریننگ مرکز کے قیام کے لیے بہار حکومت نے 110 ایکڑ زمین فراہم کی ہے۔ اگرمزید زمین کی ضرورت ہو گی تو اسے مہیا کر ایا جائے گا۔ حکومت یہ یقینی دہانی کر اتی ہے کہ سنٹرل انڈسٹریل سیکورٹی فورس کو تمام ضروری سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ بہار کے لوگوں کی حفاظت ہماری ترجیح ہے۔ ہم بہار کی خوشحالی اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن طریقے سے کام کر رہے ہیں۔