جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
آخرکار بھارتیہ جنتا پارٹی کو بہار میں اس کا پہلا ’’سمراٹ‘‘ مل ہی گیا
  1. ہوم
  2. بہار
بہار

آخرکار بھارتیہ جنتا پارٹی کو بہار میں اس کا پہلا ’’سمراٹ‘‘ مل ہی گیا

Awaz E Bihar•15 اپریل، 2026 کو 06:56 PM•9 ویوز•7 منٹ پڑھیں

پٹنہ، 15 اپریل (اے بی این) سمراٹ چودھری نے بہار کے 24ویں وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لے لیا ہے اور اس کے ساتھ ہی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اپنی اس بڑی خواہش کو حاصل کر لیا ہے، جس کے پیچھے وہ طویل عرصے سے کوشاں تھی۔
بی جے پی نے 2023 میں سمراٹ چودھری کو پارٹی کا بہار ریاستی صدر بنا کر جو سیاسی سرمایہ کاری کی تھی، تین سال بعد اس کی سود سمیت وصولی ہو گئی ہے۔ 46 سال پرانی اس پارٹی کو طویل جدوجہد کے بعد بہار میں اپنا پہلا وزیر اعلیٰ مل گیا ہے۔
بہار میں نتیش کمار جب 26 سال پہلے محض سات دنوں کے لیے وزیر اعلیٰ بنے تھے، اس وقت سمراٹ چودھری مخالف راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے ٹکٹ پر پربتّا اسمبلی حلقہ سے منتخب ہو کر آئے تھے۔ اس انتخاب میں ان کے والد اور نتیش کمار کی پرانی سمتا پارٹی کے بانی اراکین میں شامل شکونی چودھری بھی مخالف خیمے میں تھے۔ سن 2000 کے انتخابات میں نتیش کی پارٹی کو صرف 34 سیٹیں ملی تھیں جبکہ بی جے پی نے 67 سیٹیں جیتی تھیں۔ اس کے باوجود اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے اپنی کابینہ میں شامل ایک اتحادی جماعت کے رہنما نتیش کمار کو ریاست کی سیاست میں وزیر اعلیٰ کے امیدوار کے طور پر پیش کیا تھا۔ واجپائی کی یہ کشادہ دلی اتحادی جماعتوں کے تئیں ان کے رویے کی مثال سمجھی گئی۔ اس تجربے میں نتیش صرف سات دن وزیر اعلیٰ رہے، لیکن بہار کے عوام کو مستقبل کے لیے ایک نیا چہرہ مل گیا۔ بعد میں نومبر 2005 میں نتیش کمار وزیر اعلیٰ بنے اور 16 جون 2013 تک بی جے پی کی حمایت سے اس عہدے پر برقرار رہے۔
یہ وہی دور تھا جب سمراٹ چودھری سیاست کے ایک طالب علم کے طور پر ابھر رہے تھے۔ سن 2000 میں پربتّا اسمبلی سیٹ سے پہلی بار راشٹریہ جنتا دل کے ٹکٹ پر رکن اسمبلی بننے کے بعد وہ 2005 کا انتخاب ہار گئے تھے، لیکن 2010 میں واپسی کرتے ہوئے ایک بار پھر اسی نشست سے جیت کر اسمبلی پہنچے۔ 2014 میں انہوں نے آر جے ڈی کے ساتھ اپنی طویل سیاسی وابستگی ختم کر دی اور نتیش کمار کی جنتا دل (یونائیٹڈ) میں شامل ہو گئے۔ اس وقت انہیں وزیر اعلیٰ جیتن رام مانجھی کی کابینہ میں شہری ترقی اور رہائش کے وزیر کا عہدہ ملا۔ اس سے قبل 1999 میں وہ رابڑی دیوی کی کابینہ میں بھی شامل رہ چکے تھے، تاہم وہ دور مختصر تھا۔
جب سمراٹ چودھری جنتا دل (یونائیٹڈ) میں آئے تو بہار کی سیاست ایک تجرباتی دور سے گزر رہی تھی۔ سن 2014 کے لوک سبھا انتخابات کے لیے بی جے پی نے نریندر مودی کو وزیر اعظم کا چہرہ بنایا، جس کے خلاف نتیش کمار نے 2013 میں ہی اتحاد سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ 2014 میں نریندر مودی وزیر اعظم بنے اور یہیں سے بی جے پی نے بہار میں اپنے لیے وزیر اعلیٰ کے چہرے کی تلاش شروع کی۔ اس سلسلے میں پارٹی نے سشیل مودی پر بھی داؤ لگایا، لیکن نتیش کمار کے دوبارہ قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) میں شامل ہونے کے بعد ان کی حیثیت بہار کابینہ میں دوسرے نمبر تک محدود ہو گئی۔
جس بی جے پی نے 2000 سے 2013 تک مضبوطی سے نتیش کمار کا ساتھ دیا تھا، وہی اب مسلسل ایسے متبادل کی تلاش میں تھی جو بہار میں وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے اس کا چہرہ بن سکے اور نتیش کمار کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے عوامی بنیاد تیار کر سکے۔ انہی حالات میں سمراٹ چودھری نے 2018 میں جنتا دل (یونائیٹڈ) چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کر لی۔ اسی سال پارٹی نے انہیں بہار میں ریاستی نائب صدر بھی بنا دیا۔
سمراٹ چودھری کی پیدائش 16 نومبر 1968 کو ضلع مونگیر کے تاراپور کے گاؤں لکھن پور میں ہوئی۔ ان کا ابتدائی نام راکیش چودھری تھا، جسے بعد میں انہوں نے بدل کر سمراٹ چودھری رکھ لیا۔ ان کے والد شکونی چودھری کشواہا سماج کے بڑے چہرے اور ریاست کے بااثر رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔ شکونی چودھری پہلی بار 1985 میں تاراپور اسمبلی سیٹ سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ یہی وہ سال تھا جب نتیش کمار بھی پہلی بار ہرنوت سے اسمبلی انتخاب جیتے تھے۔ شکونی چودھری اس کے بعد سات بار رکن اسمبلی اور ایک بار رکن پارلیمان بنے۔ 1998 میں جب وہ کھگڑیا لوک سبھا سیٹ سے ایم پی بنے، تو ان کی روایتی تاراپور سیٹ سے ان کی اہلیہ اور سمراٹ چودھری کی والدہ پاروتی دیوی رکن اسمبلی منتخب ہوئیں۔
سمراٹ چودھری کی سیاسی تربیت مختلف شخصیات کے ساتھ ہوئی۔ 1990 میں سیاست میں قدم رکھنے کے بعد 2014 میں راشٹریہ جنتا دل چھوڑنے سے پہلے انہوں نے طویل عرصہ لالو پرساد کے ساتھ گزارا۔ لالو پرساد کے ساتھ سیاسی تربیت حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اگلے چار سال نتیش کمار کے ساتھ گزارے اور اس کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کی سیاسی بھٹی میں تپ کر ایک مضبوط لیڈر کے طور پر ابھرے۔
نتیش کمار کی جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) میں شامل ہونے کے بعد 2014 میں وہ قانون ساز کونسل (ودھان پریشد) کے رکن بنے، جبکہ اگلی مدت 2020 میں بی جے پی نے انہیں دوبارہ ودھان پریشد میں بھیجا۔
2020 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو 74 اور جے ڈی یو کو صرف 43 نشستیں ملیں، اس کے باوجود وزیر اعلیٰ کا عہدہ نتیش کمار کے پاس ہی رہا۔ سیاسی مبصرین کا کہنا تھا کہ بی جے پی کے پاس جارحانہ قیادت کی کمی ہے۔ اس کے بعد پارٹی نے بہار کے مطابق ذات پات کے مساوات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک جارحانہ لیڈر کی تلاش شروع کی۔
اسی دوران جب جے ڈی یو اور بی جے پی کے درمیان وزیر اعلیٰ کے عہدے کو لے کر کشمکش جاری تھی، 9 اگست 2022 کو نتیش کمار نے دوبارہ این ڈی اے سے الگ ہو کر مہاگٹھ بندھن میں شمولیت اختیار کر لی۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں سے بی جے پی نے اپنے لیے ایک مستقل وزیر اعلیٰ کے چہرے کی تلاش شروع کی۔ پارٹی نے 2021-22 میں نتیش کابینہ میں پنچایتی راج کے وزیر رہنے والے اور اگست 2022 سے بہار ودھان پریشد میں اپوزیشن کے لیڈر سمراٹ چودھری کو 23 مارچ 2023 کو سنجے جیسوال کی جگہ ریاستی صدر بنا دیا۔ اس تبدیلی پر بہار کی سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی نے طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ "بی جے پی اب بنیوں کی پارٹی نہیں رہی۔"
درحقیقت اس تبدیلی کے ساتھ بی جے پی سمراٹ چودھری کی شکل میں ایسے رہنما کو سامنے لائی جو کشواہا برادری کے بڑے لیڈر شکونی چودھری کے بیٹے ہیں۔
شکونی چودھری کبھی لالو پرساد کے یادو ووٹ بینک کے خلاف کھڑے نتیش کمار کے "لو (کُرمی) اور کُش (کوئری)" سماجی اتحاد کے علمبردار رہے تھے۔ سمراٹ چودھری کو سامنے لا کر بی جے پی نے نہ صرف نتیش کمار کے کوئری-کُرمی سماجی اتحاد میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کی بلکہ اس تاثر کو بھی کمزور کرنے کی کوشش کی کہ پارٹی صرف اعلیٰ ذاتوں کی نمائندہ ہے۔
سمراٹ چودھری نے 2023 میں بی جے پی کے ریاستی صدر بنتے ہی اپنے جارحانہ تیور دکھانے شروع کر دیے۔ انہوں نے سر پر موریٹھا (پگڑی) باندھ کر اعلان کیا کہ یہ پگڑی تبھی اترے گی جب بہار میں نتیش کمار کو وزیر اعلیٰ کے عہدے سے ہٹا دیا جائے گا۔ تاہم اگلے ہی سال 2024 میں جے ڈی یو اور بی جے پی دوبارہ ساتھ آ گئے اور سمراٹ چودھری کو نتیش کابینہ میں شامل کر کے نائب وزیر اعلیٰ بنا دیا گیا۔ بعد ازاں انہوں نے سریو ندی میں اشنان کے دوران اپنی پگڑی یہ کہتے ہوئے اتار دی کہ انہوں نے قسم مہاگٹھ بندھن کے وزیر اعلیٰ کو ہٹانے کی کھائی تھی۔
شیئر کریں:

More from بہار

صنعت کاروں کو حکومت بہارہر ممکن  تعاون کرے گی : سمراٹ
بہار

صنعت کاروں کو حکومت بہارہر ممکن تعاون کرے گی : سمراٹ

1 اکتوبر، 2026
94 لاکھ 71 ہزار افراد کی خون کی کمی کی جانچ، 18 لاکھ سے زائد میں انیمیا کی تصدیق
بہار

94 لاکھ 71 ہزار افراد کی خون کی کمی کی جانچ، 18 لاکھ سے زائد میں انیمیا کی تصدیق

29 ستمبر، 2026
اننت سنگھ و نیرج کمار کا تنازع اعلیٰ قیادت تک پہنچا
بہار

اننت سنگھ و نیرج کمار کا تنازع اعلیٰ قیادت تک پہنچا

29 ستمبر، 2026
حکام کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل کیا جائے گا، شہریوں کو ڈیجیٹل کاپیاں ملیں گی: ڈاکٹر دلیپ جیسوال
بہار

حکام کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل کیا جائے گا، شہریوں کو ڈیجیٹل کاپیاں ملیں گی: ڈاکٹر دلیپ جیسوال

29 ستمبر، 2026
بچوں کی مضبوط بنیاد سے ہی مضبوط ہوگا بہار: سمراٹ چودھری
بہار

بچوں کی مضبوط بنیاد سے ہی مضبوط ہوگا بہار: سمراٹ چودھری

29 ستمبر، 2026
17 برسوں سے خدمات انجام دے رہے تعلیم سیوک سڑک پر، گردنی باغ میں سات روزہ دھرنا
بہار

17 برسوں سے خدمات انجام دے رہے تعلیم سیوک سڑک پر، گردنی باغ میں سات روزہ دھرنا

29 ستمبر، 2026