بانکی پور اسمبلی ضمنی انتخاب: پولنگ مکمل، ووٹروں کی سنیں تو آسان نہیں ہے ڈگر پنگھٹ کی
Awaz E Bihar••36 ویوز•5 منٹ پڑھیں
پٹنہ میں بانکی پور اسمبلی ضمنی انتخابات میں مختلف سیاسی جماعتوں کی آپسی کشمکش کے درمیان جمعرات کو پولنگ مکمل ہو گئی اور پولنگ مراکز سے ووٹ ڈال کر باہر نکلنے والے ووٹروں کا ملا جلا ردعمل اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ آسان نہیں ہے ڈگر پنگھٹ کی۔پولنگ اسٹیشن نمبر 36، کڈزی پری اسکول، بورنگ کنال روڈ پر ایک منفرد ووٹر سے ملاقات ہوئی۔ آزادی کے بعد تقریباً ہر انتخاب میں حصہ لے چکے 95 سالہ ڈاکٹر گوکولانند سہائے نے 'یواین آئی' سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سنا ہے بانکی پور میں انتخابی مہم چلانے والوں کی فوج اتری ہے، لیکن میرے جیسے بزرگ کو کوئی پرچی دینے بھی نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ حکومت سے خفا تو نہیں ہیں، لیکن امید کرتے ہیں کہ وہ بزرگوں کا بھی خیال رکھے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی عمر اور جسمانی مجبوری کی وجہ سے ان کا باہر نکلنا بہت کم ہو گیا ہے اور انہیں سمجھ نہیں آتا کہ ایمپلائز پروویڈنٹ فنڈ کے پاس پھنسے ہوئے لاکھوں روپے وہ کیسے نکالیں۔ بورنگ روڈ کی ہی رہنے والی پٹنہ یونیورسٹی سے پوسٹ گریجویٹ سریتا سنگھ نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو اپنا امیدوار سوچ سمجھ کر منتخب کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندے کو پڑھا لکھا اور زبان کا پکا ہونا چاہیے، جو بڑے لیڈران کی کٹھ پتلی بننے کے بجائے عوام کی آواز بنے۔محترمہ سنگھ نے کہا کہ کسی بھی پارٹی اور نظریے سے ہٹ کر انہوں نے سب سے اہل امیدوار کو اپنا ووٹ دیا ہے۔ پولنگ اسٹیشن 4، شمالی حصہ، راجہ پل میں اپنا ووٹ ڈالنے آئی رمپی نے کہا کہ وہ ترقی کے نام پر ووٹ ڈال رہی ہیں، انہوں نے کہا کہ جو ترقی یافتہ بہار کے تصور کو عملی جامہ پہنائے گا، وہ اسی کے ساتھ ہیں۔ بانکی پور گرلز ہائی اسکول میں چار پولنگ مراکز پر ووٹنگ جاری تھی، لیکن ووٹروں میں جوش و خروش کی کمی دیکھی جا رہی تھی، تبھی نظر جنریشن-زی ادرتا پر پڑی۔ بی بی اے (مینجمنٹ) کی پڑھائی کر رہی پہلی بار کی ووٹر آدرتا نے بتایا کہ وہ فنانس میں سپیشلائزیشن کی ڈگری حاصل کرنا چاہتی ہے۔ گھر کی مالی حالت ٹھیک نہیں ہے، اس لیے وہ بی بی اے کے بعد پہلے ملازمت تلاش کریں گی، اس کے بعد کچھ پیسے جمع کر کے ایم بی اے میں داخلہ لیں گی۔ آدرتا نے صاف لفظوں میں کہا کہ موجودہ حکومت کے پاس نوجوانوں کو مواقع دینے کے لیے کوئی خاص پروگرام نہیں ہے اور مسابقتی امتحانات کی شفافیت بھی شک کے دائرے میں ہے۔ اس نے واضح طور پر کہا کہ اس کا ووٹ حکومت کے خلاف اور ایک پڑھے لکھے اور اہل امیدوار کو گیا ہے۔ اسی پولنگ اسٹیشن پر کارپوریٹ سیکٹر میں ملازمت کرنے والے منیش نے کہا کہ انہیں برسرِ اقتدار پارٹی کا امیدوار پسند نہیں ہے، لیکن پارٹی سے وابستگی کی وجہ سے ان کا ووٹ انہی کے حق میں گیا ہے۔ سنیل کمار گپتا ایک دکان میں سیلزمین ہیں، وہ پورے خاندان کے ساتھ راشٹریہ جنتا دل (آرجے ڈی) کی امیدوار ریکھا گپتا کو ووٹ دینے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر کوئی اپنی ذات کے ساتھ ہے اور وہ بھی اس سے مختلف نہیں ہیں۔ محترمہ گپتا کی جیت کے امکانات پر انہوں نے کہا کہ کبھی کبھی دو کی لڑائی میں تیسرا جیت جاتا ہے۔ اس کے بعد ملاقات ایک جوڑے، سنیتا اور مدن لال سے ہوتی ہے۔ اہلیہ سنیتا زیادہ کھل کر بات کرتی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی پارٹی یا نمائندے کو مسلسل موقع نہیں دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندوں کو کام کرنے کی عادت ڈالنے کے لیے ہر پانچ سال بعد تبدیلی ضروری ہے۔ گاندھی میدان میں نصب گاندھی جی کے مجسمے کے قریب ہی دارالحکومت کا مشہور سینٹ زیویئرز اسکول ہے، جہاں سے تعلیم حاصل کرنے والے پرشانت کمار کبھی انڈین سول سروسز کے امتحان میں پورے ملک میں پہلے نمبر پر آئے تھے۔ کرکٹر صبا کریم نے بھی اسی اسکول سے تعلیم حاصل کی تھی۔ اس اسکول کے پولنگ سینٹر پر بوتھ لیول آفیسر (بی ایل او) اور پولیس اہلکار زیادہ جبکہ ووٹرز کم نظر آ رہے ہیں۔ سست روی سے جاری پولنگ کے دوران انل کمار سنگھ نے کہا کہ وہ گزشتہ 45 سالوں سے بی جے پی کے حامی ہیں، لیکن اس بار انہیں اپنی پارٹی کا امیدوار پسند نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اب سَوَرن مخالف پارٹی بن گئی ہے، اس لیے وہ اب اس کے ساتھ نہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا ووٹ ایک ایسے امیدوار کے حق میں گیا ہے جو عوام اور حکومت کے سامنے کھل کر اپنی بات رکھتا ہے۔ آج ووٹنگ میں حصہ لینے والے پیشے سے تاجر سنجیو نے کہا کہ حکومت کو جھٹکا پہلے ہی لگ چکا ہے، تبھی تو اتنی بڑی تعداد میں رہنماؤں کو انتخابی مہم میں اتارا گیا ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے کہا کہ وہ حکومت کے ساتھ ہیں۔ دوسری طرف پیشے سے استاد نولیش کمار روی نے کہا کہ انہوں نے امیدوار نہیں بہتر سیاسی پارٹی کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ بہرحال، ووٹروں کی مختلف ترجیحات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ بانکی پور کی راہ کسی بھی پارٹی کے لیے آسان نہیں ہے اور حتمی فیصلے کے لیے تین اگست تک انتظار کرنا ہو گا۔