باپو ٹاور مہاتما گاندھی کی مستقل وراثت و ان کی یادگاروں کا جیتا جاگتا ثبوت ہے: سمراٹ چودھری
Awaz E Bihar••3 ویوز•5 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 19 اپریل (اے بی این) وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے اتوار کے روز کہا کہ گردنی باغ میں تعمیر کیا گیا 'باپو ٹاور' مہاتما گاندھی کی مستقل وراثت اور ان کی یادگاروں کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ وزیر اعلیٰ چودھری نے آج گردنی باغ میں باپو ٹاور کا دورہ کیا۔ انہوں نے ٹاور کی گراؤنڈ فلور سے لے کر پانچویں منزل تک کی مختلف گیلریوں کا معائنہ کیا اور وہاں موجود نمائشوں اور انتظامات کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کیں۔ وزیر اعلیٰ چودھری نے باپو ٹاور پہنچ کر وہاں نصب قوم کے معمار مہاتما گاندھی کے مجسمے پر پھول چڑھائے اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ باپو ٹاور بہت ہی شاندار بنا ہے، جو لوگوں کے لیے دیدنی بھی ہے اور مفید بھی۔ نئی نسل اور ملک کے دیگر حصوں سے آنے والے لوگ یہاں آکر باپو کی سوانح عمری، ان کے نظریات اور ان کے اصولوں کو بہتر طریقے سے سمجھ سکیں گے۔ یہاں باپو کی زندگی سے جڑے تاریخی واقعات، گاندھی جی کے افکار، تحریکِ آزادی میں ان کا کردار، بہار سے ان کی وابستگی اور ان کے مثالی اصولوں کو بہترین انداز میں نمایاں کر کے پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے حکام کو ہدایت دی کہ باپو ٹاور کے احاطے اور اس کے گردونواح میں شجرکاری اور ہریالی کو مزید فروغ دیا جائے۔ اپنے دورے کے دوران مسٹر چودھری نے گراؤنڈ فلور پر بنے اورینٹیشن ہال میں 'ٹرن ٹیبل تھیٹر شو کا بھی جائزہ لیا۔ عمارت کی مختلف منزلوں اور پانچ ریمپوں کے معائنے کے دوران محکمہ تعمیرات کے سکریٹری کمار روی نے وزیر اعلیٰ کو گاندھی جی کی زندگی سے متعلق معلومات، میورلز، کٹ آؤٹس، اسکرین پروجیکٹر اور دیگر نمائشوں کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔ محکمہ تعمیرات کے سکریٹری مسٹر روی نے بتایا کہ باپو ٹاور میں دورے کے لیے آنے والے اسکولی بچوں اور گروپوں کو بلا معاوضہ (مفت) داخلے کی اجازت ہے۔ وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے معائنے کے دوران آڈیٹوریم، ویٹنگ روم، لاؤنج، باپو کے نظریات کو عوام میں عام کرنے کے لیے بنائی گئی گیلری، ریسرچ سینٹر، زائرین کی سہولیات اور دیگر ڈھانچوں کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے مختلف ڈیجیٹل نمائشوں کا بھی مشاہدہ کیا۔ محکمہ تعلیم کی جانب سے تمام اسکولوں میں پڑھنے کے لیے تیار کردہ کتابیں 'باپو کی پاتی اور 'موہن سے مہاتما کو بھی بچوں کی آسانی کے لیے ڈیجیٹل شکل میں پیش کیا گیا ہے، جس کا وزیر اعلیٰ مسٹر چودھری نے معائنہ کیا۔ وزیر اعلیٰ چودھری نے حکام کو ہدایت دی کہ اسکولوں کے تعلیمی دوروں کے پروگرام میں بچوں کے لیے باپو ٹاور، بہار میوزیم، پٹنہ میوزیم اور سائنس سٹی کا ایک روٹ بنا کر ان کا دورہ کرایا جائے۔ انہوں نے محکمہ تعمیرات کے سکریٹری کو ہدایت دی کہ محکمہ سیاحت اور محکمہ فن و ثقافت کے ساتھ تال میل قائم کر کے باپو ٹاور میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کے آنے کی سہولت یقینی بنائیں، تاکہ لوگ باپو سے متعلق کاموں، ان کے افکار اور اصولوں کے بارے میں اچھی طرح جان سکیں۔ وزیر اعلیٰ چودھری نے باپو کی سوانح عمری، ان کے اصولوں و کاموں اور بہار کی تاریخِ عظمت پر مبنی فلم بھی دیکھی۔ مسٹر چودھری نے میگزین 'ستیہ گرہ- باپو ٹاور کی اشاعت' کا افتتاح کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسے ڈیجیٹل بھی کرایا جائے تاکہ عام لوگ آسانی سے اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ قابلِ ذکر ہے کہ باپو ٹاور کو 'جی پلس سکس' (G 6) طرز پر تعمیر کیا گیا ہے، جس کے دو اہم حصے ہیں: ایک مستطیل عمارت اور دوسری مخروطی عمارت۔ مستطیل عمارت میں تین نمائشی گیلریاں، آڈیٹوریم، عارضی نمائش گاہ، دفاتر، ویٹنگ روم، میوزیم شاپ اور کیفے ٹیریا شامل ہیں، جہاں پہلی گیلری میں مہاتما گاندھی کی ابتدائی زندگی، لندن اور جنوبی افریقہ میں قیام اور ہندوستان واپسی کی کہانی بیان کی گئی ہے، دوسری گیلری میں ان کے تخلیقی پروگراموں اور تحریکِ آزادی میں ان کی قیادت کو اجاگر کیا گیا ہے، جبکہ تیسری گیلری میں چمپارن صد سالہ تقریبات کے دوران منعقدہ مختلف پروگراموں کی معلومات پیش کی گئی ہیں، جن میں 'گاندھی درشن'، 'آزادی پسندوں کا احترام'، 'ہیریٹیج واک' اور 'موہن سے مہاتما' (پپٹ شو) نمایاں ہیں، اس کے ساتھ ہی بہار حکومت کی مہمات جیسے مکمل نشہ بندی، کم عمری کی شادی پر پابندی، جہیز کے خاتمے اور لڑکیوں کی تعلیم سے متعلق معلومات بھی شامل کی گئی ہیں۔ مخروطی عمارت 102 فٹ بلند ہو کرباپو ٹاور کو نہایت دلکش اور شاندار بناتی ہے، جس کے بیرونی حصے پر مہاتما گاندھی کی شبیہ نقش کی گئی ہے، جبکہ اس عمارت کے اندر پانچ ریمپ بنائے گئے ہیں جہاں گاندھی جی کی زندگی کے مختلف ادوار کو ترتیب وار پیش کیا گیا ہے۔ پہلے ریمپ (پانچویں سے چوتھی منزل) میں چمپارن ستیہ گرہ کی داستان اور ان کی بہار آمد دکھائی گئی ہے، دوسرے ریمپ (چوتھی سے تیسری منزل) میں دوسری جنگِ عظیم کے اثرات اور 'بھارت چھوڑو تحریک' میں بہار کے کردار کو اجاگر کیا گیا ہے، تیسرے ریمپ (تیسری سے دوسری منزل) میں گاندھی-جناح مذاکرات، شملہ کانفرنس، 1946 کے انتخابات، کلکتہ کے فسادات اور نوآکھالی کے دورے کو پیش کیا گیا ہے، چوتھے ریمپ (دوسری سے پہلی منزل) میں بہار میں ان کی سرگرمیاں، دعائیہ اجتماعات، لارڈ ماؤنٹ بیٹن سے ملاقات، کشمیر کا سفر اور تقسیمِ ہند سے متعلق مذاکرات شامل ہیں، جبکہ پانچویں ریمپ (پہلی منزل سے گراؤنڈ فلور) میں گاندھی جی کو بطور ترغیب اور ان کے اصولوں پر مبنی حلف کے تصور کو نمایاں کیا گیا ہے۔ زائرین کی سہولت کے لیے گراؤنڈ فلور پر 60 افراد کی گنجائش والا ایک 'اورینٹیشن ہال' بنایا گیا ہے، جہاں 'ٹرن ٹیبل' تھیٹر شو کے ذریعے باپو ٹاور پر مبنی فلم دکھائی جائے گی۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ کے سکریٹری کمار روی، محکمہ داخلہ کے خصوصی افسر سنجے کمار سنگھ، ڈاکٹر گوپال سنگھ، ضلع مجسٹریٹ ڈاکٹر تیاگ راجن ایس ایم، سینئر ایس پی کارتِکیہ کے شرما اور باپو ٹاور کے ڈائریکٹر سمیت دیگر اعلیٰ حکام موجود تھے۔