پٹنہ، 4 اگست:(اے بی این ) حکومت نے کھاد کی ذخیرہ اندوزی، کالا بازاری اور مقررہ قیمت سے زیادہ نرخ پر فروخت کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے مشرقی چمپارن (موتیہاری) میں بڑے پیمانے پر چھاپہ مہم چلائی ہے۔ کارروائی کے دوران چھ کھاد فروشوں اور ایک بیج و کیڑے مار ادویات کے تاجر کا لائسنس معطل کر دیا گیا، جبکہ کئی دیگر دکانوں سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔ محکمہ زراعت کے ڈائریکٹر مکیش کمار لال نے موتیہاری کے مشترکہ زرعی بھون میں جائزہ اجلاس کی صدارت کے بعد مختلف کھاد اور بیج فروخت کرنے والے مراکز کا اچانک معائنہ کیا۔ بعد ازاں محکمہ زراعت کی مشترکہ ٹیم اور اڑن دستے نے ضلع کے مختلف علاقوں میں بیک وقت چھاپے مار کر بے ضابطگیوں کی جانچ کی۔وزیر زراعت وجے کمار سنہا نے کارروائی کو "زیرو ٹالرنس پالیسی" کا حصہ قرار دیتے ہوئے ضلع زرعی افسر، موتیہاری (مشرقی چمپارن) کو فوری اثر سے پٹنہ ہیڈکوارٹر میں رپورٹ کرنے کی ہدایت دی۔ ساتھ ہی معاون ڈائریکٹر (فصلات) مرنال شاستری کو ضلع زرعی افسر کا اضافی چارج سونپ دیا گیا ہے۔ وزیر نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ ضلع میں باقاعدگی سے سخت چھاپہ مہم جاری رکھی جائے تاکہ کسانوں کو مقررہ قیمت پر وافر مقدار میں کھاد دستیاب ہو اور ذخیرہ اندوزی، کالا بازاری یا زائد قیمت پر فروخت جیسے معاملات پر مؤثر روک لگائی جا سکے۔ وجے کمار سنہا نے واضح کیا کہ حکومت کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے پوری طرح سنجیدہ ہے اور کھاد کی تقسیم میں کسی بھی قسم کی بے ضابطگی یا غیر قانونی سرگرمی میں ملوث افراد اور اداروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی آئندہ بھی بلا امتیاز جاری رہے گی۔