بہار تاریخی اعتبار سے مالا مال، یہاںدیکھنے کیلئے بہت سے مقامات ہیں:ارکان پارلیمنٹ
Awaz E Bihar••41 ویوز•4 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 24 اگست لوک سبھا کی پارلیمانی ا سٹینڈنگ کمیٹی برائے ٹرانسپورٹ، سیاحت اور ثقافت کے تقریباً ایک درجن معزز ممبران پارلیمنٹ نے پیر کو پٹنہ کا دورہ کیا تاکہ بہار کے تاریخی مقامات کو دیکھا جا سکے اور اس کے کام کاج کو قریب سے سمجھ سکیں۔ یہ کمیٹی بہار کے مطالعاتی دورے پر ہے۔ اس گروپ میں گجرات، مغربی بنگال، مدھیہ پردیش، اتر پردیش، تمل ناڈو، جموں و کشمیر، بہار اور دیگر ریاستوں کے ممبران پارلیمنٹ شامل تھے۔ انہوں نے پٹنہ کے بیلی روڈ پر واقع تاریخی بہار میوزیم کا دورہ کیا اور اس کی بہت تعریف کی۔ پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین جے ڈی یو کے بہار سے رکن پارلیمنٹ سنجے جھا ہیں۔ سارن کے ایم پی راجیو پرتاپ روڈی اور سیتامڑھی کے ایم پی دیوش چندر ٹھاکر کی قیادت میں ٹیم نے بہار کا بھی دورہ کیا۔ بہار میوزیم کا قریبی دورہ۔ بڑی عمارت کی دیواروں پر ہزاروں سال پرانے نمونے، مجسمے اورباقیات کو صاف ستھرا دیکھ کر، مختلف ریاستوں کے اراکین پارلیمنٹ نے کہا کہ یہ سرزمین مالا ماہے اور یہاں اس کا اثر واضح ہے۔ مغربی بنگال کے مدنا پور لوک سبھا حلقہ سے رکن پارلیمنٹ جون مالیا نے اپنے ہی انداز میں کہا’آیئے نہ ہمرا بہار میں ‘ان کے اس انداز کا ساتھ دیگر ارکان پارلیمنٹ نے بھی اسی طرح سے دہرایا۔ دورہ کرتے ہوئے ارکان پارلیمنٹ نے کہا کہ بہار کا ہر گوشہ تاریخ سے مالا مال ہے۔ یہاں گھومنے اور علم میں اضافہ کرنے کے لیے ان گنت مقامات موجود ہیں۔ بہار میوزیم اب بین الاقوامی عجائب گھروں کا مقابلہ کر رہا ہے۔ یہاں جو نمونے محفوظ ہیں وہ کہیں اور نایاب ہیں۔ مزید سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ کرنے کے لیے میوزیم کا دورہ کرنا چاہیے۔ قبل ازیں ممبران پارلیمنٹ کے اس گروپ نے پٹنہ کے تاج ہوٹل میں مختلف محکموں کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کی۔ اس کے بعد انہوں نے پٹنہ کی تاریخی خدا بخش خان لائبریری کا دورہ کیا، جہاں قدیم مخطوطات اور علم کے خزانے نے سب کو مسحور کر دیا۔ مغربی بنگال کے ایم پی جون مالیا نے اپنا تجربہ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ یہ جگہ فن اور تاریخ سے محبت کرنے والوں کے لیے مثالی ہے۔ یہاں تاریخ کو اس طرح محفوظ کیا گیا ہے کہ آنے والی نسلیں اپنی جڑوں کو جان اور سمجھ سکیں۔ انہوں نے میوزیم کی تعمیر کے لیے سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بہار آنے کی ترغیب دیں گی۔ مشہور کمپیوٹر انجینئر، سماجی کارکن، انفوسس فاؤنڈیشن کے شریک بانی، اور راجیہ سبھا کی رکن پارلیمنٹ پدم شری سودھا مورتی، نے بہار کی سڑکوں، بنیادی ڈھانچے اور فن میں ترقی کی تعریف کی۔ انہوں نے ذاتی طور پر ویشالی، سیتامڑھی، ماں سیتا کی جائے پیدائش اور کیسریا جیسے تاریخی مقامات کا دورہ کرکے بہار کو مزید گہرائی سے تلاش کرنے کی اپنی خواہش کا اظہار کیا۔اس موقع پر ایم پی دیویش چندر ٹھاکر نے کہا کہ پہلے بہار کے تعلق سے لوگوں میں جو خوف تھا وہ اب ختم ہو گیا ہے۔ ایک وقت تھا جب لوگ یہاں سے ہجرت کرتے تھے لیکن اب لوگ سیاحت کے لیے آرہے ہیں۔ بہار ترقی کی نئی راہ پر گامزن ہے۔ گجرات کے راجیہ سبھا ایم پی کیشردیو سنگھ نے میوزیم کو جدیدیت اور تاریخ کے انوکھے سنگم کی مثال قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں سال کی تاریخ اتنی خوبصورتی سے محفوظ ہے کہ آج بھی زندہ دکھائی دیتی ہے۔ بہار کی سرزمین سے تمام مذاہب کا گہرا تعلق ہے جس کی ایک جھلک یہاں صاف نظر آتی ہے۔ اس ریاست کے پاس دنیا کو پیش کرنے اور دکھانے کے لیے بہت کچھ ہے۔ انہوں نے سبھی پر زور دیا کہ وہ ہندوستان کی بھرپور تاریخ اور ثقافت کو جاننے اور سمجھنے کے لیے بہار کا دورہ کریں۔ میوزیم کا دورہ کرنے والوں میں اتر پردیش کے ایم پی آر کے چودھری، جموں و کشمیر کے ایم پی میاں الطاف احمد، عمران پرتاپ گڑھی، تمل ناڈو کے ایم پی ایس کلیان سندرم اور دیگر ممبران پارلیمنٹ شامل تھے۔ کمیٹی کے ارکان نے اظہار خیال کیا کہ بہار صرف ماضی کی یاد نہیں ہے بلکہ حال کے امکانات کی علامت ہے۔ تاریخی مقامات، بھرپور ثقافت اور بدلتے ہوئے مناظر نے ان میں ریاست کے لیے گہرا احترام پیدا کیا۔ اس موقع پر وزارت ثقافت، مرکزی حکومت اور حکومت بہار کے متعلقہ محکموں کے سینئر افسران موجود تھے۔