ریزرویشن پر مرکزی حکومت کی سازش بے نقاب، خواتین کو ان کے حقوق سے محروم کرنے کی کوشش: دیپیکا پانڈے
Awaz E Bihar••10 ویوز•3 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 21 اپریل (اے بی این)۔ جھارکھنڈ حکومت کی وزیر دیپیکا پانڈے سنگھ نے ریاستی کانگریس ہیڈکوارٹر صداقت آشرم میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی حکومت پر خواتین کے ریزرویشن کے نفاذ میں جان بوجھ کر تاخیر کرنے اور ائینی عمل کی دھجیاں اڑانے کے سنگین الزامات لگائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ناری شکتی وندن ایکٹ میں ترمیم کر کے سازش کر رہی ہے۔ اس قانون کو تین سال تک نوٹیفائی نہیں کیا گیا اور اب اس میں ترمیم کی باتیں کی جا رہی ہیں جو کہ سراسر غیر ا?ئینی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی ایسے قانون میں ترمیمی بل پیش کیا جا رہا ہے جس کی ابھی تک اطلاع نہیں دی گئی۔ دیپیکا پانڈے سنگھ نے کہا کہ یہ خواتین کو ان کے حقوق سے محروم کرنے کی سوچی سمجھی سازش ہے۔ جب خواتین کو ان کے حقوق دینے کی بات آتی ہے تو مردم شماری اور حد بندی جیسی شرائط کیوں ڈالی جا رہی ہیں؟ خواتین کو وہ ریزرویشن کیوں نہیں دیا جا رہا ہے جسے پارلیمنٹ نے تین سال پہلے منظور کیا تھا؟ انہوں نے سوال کیا کہ خواتین کے ریزرویشن کی آڑ میں حد بندی کیوں کی جا رہی ہے اور مردم شماری کے بہانے خواتین کے ریزرویشن کو کیوں روکا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں ماحول بدل رہا ہے اور خواتین اپنے حقوق کے لیے لڑنے کے لیے تیار ہیں۔ دیپیکا پانڈے سنگھ نے کہا کہ بی جے پی ذات پرمبنی مردم شماری سے خوفزدہ ہے کیونکہ وہ جانتی ہے کہ ای بی سی، او بی سی، ایس سی اور ایس ٹی کی خواتین اپنے حقوق کا مطالبہ کریں گی۔انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت خواتین ریزرویشن کے نام پر خواتین کو دھوکہ دے رہی ہے اور خواتین ریزرویشن کے بجائے مودی ریزرویشن نافذ کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں خواتین کے خلاف جرائم کے واقعات مسلسل رپورٹ ہو رہے ہیں۔ منی پور، اناو? اور ہاتھرس جیسے واقعات کے دوران حکومت کی خاموشی سوال اٹھاتی ہے۔بہار پردیش کانگریس کے صدر راجیش رام نے کہا کہ وزیر اعظم خود 2023 میں کانگریس پارٹی کی حمایت سے منظور ہونے والے خواتین ریزرویشن بل کو لے کر ملک میں کنفیوڑن پھیلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی پارلیمانی پارٹی کی لیڈر سونیا گاندھی نے اس بل کا پرزور خیر مقدم کیا ہے، اور کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے اس کے لیے سازگار ماحول بنایا ہے۔راجیش رام نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی تین سال تک اس قانون پر بیٹھے رہے اور اب کنفیوڑن پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کنفیوڑن پھیلانے کے بجائے وزیر اعظم ایک خاتون کو ملک کا وزیر اعظم مقرر کرنے میں پہل کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بہار کے وزیر اعلی سمراٹ چودھری بھی اس معاملے پر کنفیوڑن پھیلا رہے ہیں۔ راجیش رام نے الزام لگایا کہ یہ لوگ حکومت چلانا نہیں جانتے اور عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔