وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری نے سیلاب متاثرہ علاقوں کا فضائی سروے کرکے صورتحال اور راحت و بچاؤ کے کاموں کا جائزہ لیا
Awaz E Bihar••42 ویوز•3 منٹ پڑھیں
وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری نے جمعہ کو ریاست میں سیلاب کی موجودہ صورتحال کا فضائی سروے کیا۔ فضائی سروے کے دوران وزیرِ اعلیٰ مسٹر چودھری نے گنگا ندی اور اس کی معاون ندیوں کی سطحِ آب، دیارا اور نشیبی علاقوں میں پیدا ہوئی صورتحال اور متاثرہ علاقوں میں راحت و بچاؤ کے کاموں کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ فضائی سروے کے بعد وزیرِ اعلیٰ نے لوک سیوک آواس واقع 'سنکلپ' آڈیٹوریم میں افسران کے ساتھ اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کرکے سیلاب کی صورتحال، سطحِ آب، پشتوں کی صورتحال، راحت و بچاؤ کے کاموں اور متاثرہ علاقوں میں کیے جا رہے کاموں کی معلومات حاصل کیں۔ وزیرِ اعلیٰ نے افسران کو فوری طور پر مرمتی کام کرانے اور حساس علاقوں کی مسلسل نگرانی کرنے کی ہدایت دی۔ وزیرِ اعلیٰ نے افسران کو پوری مستعدی کے ساتھ راحت و بچاؤ کے کام انجام دینے اور متاثرہ لوگوں تک ضروری امداد جلد پہنچانے کی ہدایت دی۔ اجلاس میں بہار ویدر سروس سینٹر کے افسر نے بتایا کہ موجودہ موسمی پیش گوئی کے مطابق آنے والے ہفتے میں شدید بارش کا کوئی امکان نہیں ہے۔ آبی وسائل محکمہ کے سکریٹری ڈاکٹر چندرشیکھر سنگھ نے بتایا کہ سون ندی کی سطحِ آب میں آئندہ دنوں کمی آنے کا امکان ہے۔ گنگا ندی کی سطحِ آب میں بھی آئندہ دنوں میں کمی کا رجحان رہنے کا اندازہ ہے۔ پریاگ راج میں گنگا کی سطحِ آب میں کمی کا رجحان شروع ہو چکا ہے، جس کا اثر آگے بہار میں بھی دیکھنے کو ملے گا۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ محکمہ کے پرنسپل سکریٹری سنتوش کمار مل نے بتایا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں راحت اور بچاؤ کا کام پوری چوکسی اور مستعدی کے ساتھ جاری ہے۔ متاثرہ علاقوں میں سیلاب راحت کیمپوں اور کمیونٹی کچن مراکز کے ذریعے لوگوں کو کھانا فراہم کیا جا رہا ہے۔ ایس او پی کے مطابق کاموں کو بہتر طریقے سے انجام دیا جا رہا ہے۔ تمام ضلع مجسٹریٹ پوری طرح الرٹ ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 27 ایس ڈی آر ایف اور 09 این ڈی آر ایف ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔ ضرورت کے مطابق ایس ڈی آر ایف اور این ڈی آر ایف ٹیموں کے ذریعے لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانے اور راحت کے کاموں کو مؤثر طریقے سے انجام دینے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ جائزے کے دوران وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی شناخت کرکے ان کی فہرست تیار کریں اور انہیں فوری طور پر ضروری راحت فراہم کی جائے۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کسی بھی متاثرہ خاندان کو امداد کے لیے غیر ضروری انتظار نہ کرنا پڑے۔ انتظامیہ کی جانب سے ایسے انتظامات اور مثبت تعاون کا مظاہرہ ہو کہ لوگوں میں کسی طرح کا خوف اور افراتفری کا ماحول پیدا نہ ہو۔ انتظامیہ کو پوری حساسیت کے ساتھ لوگوں کے درمیان رہ کر راحت اور بچاؤ کے کاموں کو ترجیح دینی ہے۔ متاثرہ علاقوں میں ضلع انتظامیہ، ایس ڈی آر ایف اور این ڈی آر ایف کے ساتھ بہتر تال میل قائم کرکے ضرورت کے مطابق فوری کارروائی کی جائے۔