بچوں کا مستقبل نشے سے نہیں، مواقع سے وابستہ ہو: جسٹس سوریہ کانت
Awaz E Bihar••16 ویوز•4 منٹ پڑھیں
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس سوریہ کانت نے ہفتہ کو کہا کہ بچوں اور نوعمروں میں بڑھتے ہوئے نشے کے رجحان کو صرف صحت کا مسئلہ سمجھ کر نہیں چھوڑا جا سکتا اور اسے بچوں کے تحفظ کا ایک اہم مسئلہ مانتے ہوئے ان کی حساس اور ہمہ جہت ترقی کے لیے نظام وضع کرنے کے ساتھ تعلیم، اعتماد اور خود اعتمادی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ بہار لوک بھون میں آج 'پاٹلی پترا پرگیہ پرواہ' کے لیکچر میں 'چائلڈہُڈ بیونڈ ڈرگس: پروٹیکشن، کیئر اینڈ ری انٹیگریشن' کے موضوع پر منعقد پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ہندوستان کے چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ نشے کی گرفت میں آئے بچے کو صرف اس کی پریشانی یا غلطی کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ اس کے پیچھے کے حالات کو سمجھنا اور اسے معمول کی زندگی میں واپس آنے کا موقع دینا معاشرے اور نظام کی ذمہ داری ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے حالیہ لینسیٹ مطالعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں کم از کم ہر 5 میں سے ایک نوجوان کے نشے کے درمیانے سے زیادہ خطرے میں ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔ یہ صورت حال بچوں کی حفاظت اور ان کے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت کو واضح کرتی ہے۔ جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ نشے کے خلاف لڑائی صرف قانون بنانے یا کارروائی کرنے تک محدود نہیں رہ سکتی۔ بچوں کو نشے کی طرف جانے سے روکنے کے لیے بیداری، تعلیم، بہتر خاندانی ماحول اور بروقت مدد یکساں طور پر ضروری ہے۔ معاشرے کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ نشے کی زد میں آیا کوئی بھی بچہ اپنے مستقبل سے محروم نہ ہو۔ جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ نشے کے مسئلے سے دوچار بچوں کے لیے 'بچوں کے تئیں حساس' نقطہ نظر اپنانا ہوگا۔ علاج اور بازآبادکاری کا مقصد صرف بچے کو نشے سے دور کرنا نہیں، بلکہ اس کی جسمانی اور ذہنی صحت کے ساتھ اس کی عزت اور خود اعتمادی کی بھی حفاظت کرنا ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بازآبادکاری کا حقیقی مطلب ایسے حالات پیدا کرنا ہے، جن میں بچہ دوبارہ وہ بچپن جی سکے، جس پر اس کا حق ہے-تعلیم، رشتے، کھیل، اعتماد اور موجودہ مشکلات سے آگے ایک بہتر مستقبل کی امید۔ انہوں نے اس سمت میں خاندان، اسکول، معاشرے، عدالتی نظام اور حکومت کے درمیان بہتر تال میل کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے خطاب کا بنیادی پیغام یہی رہا کہ نشے سے متاثرہ بچے کو معاشرے سے الگ کرنے کے بجائے اسے تحفظ اور تعاون کے ساتھ سماج کی مرکزی دھارا میں واپس لانے کی کوشش ہونی چاہیے۔ اس سے پہلے بہار کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) سید عطا حسنین نے موضوع کا تعارف کراتے ہوئے بچوں کے محفوظ، صحت مند اور روشن مستقبل کے لیے معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری کو اجاگر کیا۔ پروگرام کا موضوع بچوں کو نشے سے بچانے کے ساتھ ساتھ انہیں تحفظ، نگہداشت اور بازآبادکاری کے ذریعے معمول کی زندگی میں واپس لانے سے متعلق تھا۔گورنر حسنین نے 14 مارچ 2026 کو بہار کے گورنر کی حیثیت سے حلف لیا تھا۔ بہار لوک بھون کی سرکاری معلومات کے مطابق انہیں ہندوستانی فوج میں تقریباً 4 دہائیوں کا تجربہ رہا ہے اور وہ اسٹریٹجک اور سلامتی کے معاملات پر تحریر اور عوامی مباحث کے لیے بھی جانے جاتے ہیں۔ پروگرام میں بچوں کے حقوق، نشے سے آزادی، بازآبادکاری اور سماجی بحالی سے متعلق مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا۔ 'پاٹلی پترا پرگیہ پرواہ' کے ذریعے ایسے موضوعات پر مباحثے کی روایت کو آگے بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس پروگرام میں پٹنہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وی کامیشور راؤ، بہار حکومت کے چیف سکریٹری پرتَیَے امرت، گورنر کے ایڈیشنل چیف سکریٹری دیپک کمار سنگھ اور عدالتی و انتظامی شعبے کے کئی سینئر افسران اور معزز شخصیات موجود تھیں۔