2030 کے ترقیاتی اہداف کے لیے ضلعی سطح پر ٹھوس کارروائی ضروری: ڈاکٹر این وجے لکشمی
Awaz E Bihar••22 ویوز•3 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 28 ستمبر: بہار کے 13 پسماندہ ترقیاتی اضلاع میں صنفی مساوات، بچوں کے حقوق اور سماجی و رویّاتی تبدیلی کو ترقیاتی ترجیحات سے جوڑنے کے مقصد سے دو روزہ صلاحیت سازی پروگرام پیر کو پٹنہ کے ہوٹل دی پناش، آر بلاک میں شروع ہوا۔ محکمہ منصوبہ و ترقی نے یونیسف کے تکنیکی تعاون سے یہ پروگرام منعقد کیا ہے، جو 29 ستمبر تک جاری رہے گا۔پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے محکمہ منصوبہ و ترقی کی ایڈیشنل چیف سکریٹری ڈاکٹر این وجے لکشمی نے کہا کہ 2030 کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے اب ضلعی سطح پر واضح ترجیحات اور ٹھوس عملی منصوبے کے ساتھ آگے بڑھنے کا وقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنفی مساوات صرف ایک یا چند محکموں کی ذمہ داری نہیں، بلکہ پورے سرکاری نظام کو باہمی تال میل کے ساتھ اس سمت میں کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آج کا دور اطلاعات اور ٹیکنالوجی کا ہے، لیکن سماجی رویوں اور ذہنیت میں تبدیلی بھی ناگزیر ہے۔ محض معلومات اور بیداری پیدا کرنے سے مطلوبہ تبدیلی نہیں آئے گی، بلکہ خواتین اور نوعمر لڑکیوں سے متعلق مسائل کے پس پشت موجود سماجی تصورات، رویوں اور ادارہ جاتی رکاوٹوں پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ڈاکٹر وجے لکشمی نے خواتین کے تحفظ، ان کے خلاف تشدد کے خاتمے اور کام کی جگہ پر موجود عدم مساوات کو بھی اہم چیلنج قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک نصف آبادی ترقی کی دوڑ میں آگے نہیں بڑھے گی، ترقی یافتہ معاشرے کا خواب مکمل طور پر شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے انتظامیہ میں حساسیت اور جذباتی فہم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے افسران سے کہا کہ وہ صرف منصوبوں کے ظاہری نتائج اور اعداد و شمار تک محدود نہ رہیں، بلکہ یہ بھی دیکھیں کہ سرکاری اقدامات سے عوام کی زندگی میں حقیقی تبدیلی کتنی آئی ہے۔ دو روزہ پروگرام میں صحت و تغذیہ، تعلیم، زراعت و آبی وسائل، بنیادی ڈھانچے، مالی شمولیت اور ہنرمندی کی ترقی جیسے شعبوں کے اشاریوں کو پائیدار ترقیاتی اہداف سے مربوط کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ شرکا کو اپنے اضلاع کے اہم صنفی مسائل کی نشاندہی، دستیاب اعداد و شمار کے تجزیے اور مسائل کی بنیادی وجوہات کا جائزہ لینے کی عملی تربیت بھی دی جا رہی ہے۔پروگرام کا مقصد ہر ضلع کے لیے ترجیحی صنفی مسائل کی بنیاد پر ضلعی عملی منصوبہ تیار کرنا ہے، جس میں متعلقہ محکموں کی ذمہ داریاں، اہداف، باہمی تال میل اور جائزے کا طریقۂ کار شامل ہوگا۔ اس سلسلے میں پنچایتوں کو مقامی سطح پر تبدیلی کے شراکت دار بنانے اور عوامی شرکت کو فروغ دینے پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔پروگرام میں محکمہ منصوبہ و ترقی کے سکریٹری کنول تنوج، ایڈیشنل سکریٹری شیام بہاری مینا، یونیسف کے ابھے کمار، ڈائریکٹر معاشیات و شماریات ڈاکٹر این۔ ایچ۔ شوانی، ڈپٹی ڈائریکٹر شپرا سمیت مختلف محکموں اور 13 پسماندہ ترقیاتی اضلاع سے آئے افسران موجود تھے۔