رام مندر کی تعمیر کا کریڈٹ لینے والے مودی چندہ چوری پر کیوں اختیار کررکھی ہے خاموشی : کانگریس
Awaz E Bihar••0 ویوز•4 منٹ پڑھیں
کانگریس نے کہا ہے کہ بڑی تعداد میں رام بھکتوں نے ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لیے چندہ دیا اور اپنے عقیدت کے مطابق ہر طرح سے عطیہ دیا، لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی مندر کی تعمیر کا کریڈٹ تو لیتے ہیں، لیکن جب عوام کے عطیہ کے پیسے کی چوری ہوتی ہے تو خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ کانگریس کی ترجمان ڈاکٹر راگنی نائک نے جمعہ کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ بی جے پی کی حکومت میں جو بھی گھوٹالے ہوتے ہیں، ان میں بڑی مچھلیاں تو نکل جاتی ہیں، لیکن چھوٹی مچھلیوں کو پھنساکر معاملے کو الجھانے کی کوشش شروع ہو جاتی ہے۔ ملک کے عوام نے سچے دل سے رام مندر کے لیے عطیہ دیا تھا، لیکن خود کو رام بھکت کہنے والوں کے گروہ نے اس عطیہ اور چندے کی ہی چوری کر دی۔ انہوں نے رام مندر کا چندہ چوری کرنے والے کو سب سے بڑا ادھرمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ رام اتنے بابرکت ہیں کہ ان کے نام کے صرف پڑھنے سے ہی سارے گناہ مٹ جاتے ہیں، مصیبتیں دور ہو جاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال میں سوچنے والی بات یہ ہے کہ پتت پاون مریادا پرشوتم رام کے ساتھ دھوکہ دہی کرنے والے کتنے بڑے ادھرمی ہوں گے۔ ووٹ چوری، سیٹ چوری کے بعد اب چڑھاوام چوری نے ہر ہندوستانی کے دل کو چھلنی کیا ہے۔ اس لیے آج چڑھاوام چوری سے جڑے ہر شخص کو کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔ پھر چاہے وہ کوئی چھوٹا موٹا شخص ہو، چمپت رائے ہوں یا خود نریندر مودی ہی کیوں نہ ہوں۔ کانگریس ترجمان نے کہا کہ حکومت اس معاملے کو رفع دفع کرانا چاہتی ہے، اس لیے کہا جا رہا ہے کہ چمپت رائے نے استعفیٰ دے دیا، کئی لوگوں کو پکڑا گیا اور کئی کے خلاف مقدمہ درج کر دیا گیا ہے، معاملے کی ایس آئی ٹی سے جانچ کرائی گئی ہے۔ مشکل یہ ہے کہ جس وزیر اعظم نے پارلیمنٹ میں رام مندر ٹرسٹ کا اعلان کیا اور اس کے ارکان کو مقرر کیا، مندر کا سنگ بنیاد رکھا، پرچم کشائی کی اور مندر میں پران پرتشٹھا کرائی ہے، لیکن اب کہتے ہیں کہ چندہ چوری کی انہیں کوئی معلومات نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب اتنی بڑی لوٹ ہوئی اور ریاست کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور ملک کے وزیر اعظم مودی کہتے ہیں کہ انہیں چندہ چوری کی معلومات ہی نہیں ہے، تو اس سے بڑی حیرت کی بات اور کیا ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اس پورے معاملے کی کرونولوجی (ترتیب) کو سمجھاتے ہوئے بتایا کہ ایودھیا میں قابل احترام شنکراچاریوں کا ٹرسٹ پہلے سے تھا۔ پھر جب سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا تو اس ٹرسٹ نے حکومت اور کورٹ کو لکھ کر کہا کہ ہم مندر کی تعمیر کروا سکتے ہیں۔ مگر مودی حکومت نہیں مانی اور شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر ٹرسٹ نام کا نیا ٹرسٹ بنایا، جو مندر سے جڑے ہر کام کا انتظام دیکھتا ہے۔ رام مندر کے اس نئے ٹرسٹ میں بی جے پی اور آر ایس ایس سے جڑے لوگ شامل کیے گئے اور مودی حکومت نے ٹرسٹ کو آر ٹی آئی کے دائرے سے باہر رکھا۔ ایسے میں سوال ہے کہ کیا اس ٹرسٹ میں بی جے پی اور آر ایس ایس سے جڑے لوگوں کو اس نیت کے ساتھ بھرتی کیا گیا تھا، تاکہ بڑا گھوٹالہ کیا جا سکے۔ ڈاکٹر نائک نے کہا کہ پربھو شری رام کے مندر میں 40 دن میں 70 بار چوری ہوئی۔ بی جے پی حکومت نے دباؤ میں آکر خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی، لیکن کیا وجہ ہے کہ ایس آئی ٹی کی رپورٹ عام نہیں کی جا رہی۔ آخر کسے بچانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مسٹر مودی نے رام مندر کا خوب کریڈٹ لیا، لیکن آج چڑھاوام چوری پر وہ خاموش ہیں۔ جب کریڈٹ لیا ہے تو چوری کی ذمہ داری بھی لینی ہوگی۔ یہ عوام کے ساتھ دھوکہ ہے۔