بغیر کسی وجہ کے مریضوں کو بڑے اسپتالوں میں ریفر نہ کریں:نشانت
Awaz E Bihar••10 ویوز•4 منٹ پڑھیں
پٹنہ 11،جولائی (اے بی این)ریاست میں سرکاری طبی خدمات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے محکمہ صحت نے تمام سرکاری صحت کے اداروں کے لیے ریفرل سسٹم کو مضبوط بنانے کے لیے تفصیلی رہنما خطوط جاری کیے ہیں۔ یہ پہل سات نشچے -3 کے تحت "قابل رسائی صحت، محفوظ زندگی" کے عہد کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اس کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ مریضوں کو ان کے قریبی سرکاری طبی اداروں میں معیاری علاج تک رسائی حاصل ہو اور غیر ضروری ریفر کو روکا جاسکے جائزہ میٹنگوں کے دوران، وزیر صحت جناب نشانت نے واضح طور پر ہدایت دی ہے کہ بغیر کسی وجہ کے مریضوں کو اعلیٰ اسپتالوں میں ریفر نہ کیا جائے۔ وزیر صحت کے مطابق ضلعی ہسپتالوں اور دیگر سرکاری صحت کے اداروں میں دستیاب وسائل، ماہر ڈاکٹروں اور جدید سہولیات کے زیادہ سے زیادہ استعمال کو یقینی بنایا جائے، تاکہ عوام کو ان کے اپنے اضلاع میں صحت کی بہتر سہولیات میسر آسکیں۔ محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ نئی ہدایات ان رہنما خطوط کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے کی جانب ایک اہم اقدام ہے۔ محکمہ صحت کے سکریٹری مسٹر کمار روی کے ذریعہ جاری کردہ ہدایات کے مطابق، تمام سول سرجنوں پر لازم ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ مریضوں کو مقامی طور پر بہترین طبی نگہداشت حاصل ہو اور ضرورت پڑنے پر ہی انہیں بڑے اسپتالوں میں ریفر کیا جائے۔ اس انتظام کے تحت، OPD، IPD، اور ایکسیڈنٹ اور ایمرجنسی میں آنے والے تمام مریضوں کے علاج کے پورے عمل کو BHAVYA (بہار ہیلتھ ایپلی کیشن ویژنری یوجنا فار آل) پورٹل کے ذریعے ڈیجیٹل طور پر ریکارڈ کیا جائے گا۔ مریض کا رجسٹریشن، طبی مشاورت، ٹیسٹ، ادویات، ریفرل اور علاج سے متعلق تمام تفصیلات BHAVYA پورٹل پر دستیاب ہوں گی۔ داخل مریضوں کا ABHA آئی ڈی بنا کر ان کا الیکٹرانک ہیلتھ ریکارڈ (EHR) تیار کیا جائے گا، جس سے مستقبل کے علاج کو مزید قابل رسائی اور موثر بنایا جائے گا۔ ہدایات میں تمام ضلعی اسپتالوں میں سات دنوں کے اندر ICU اور 24x7 ایمرجنسی سروسز کے موثر طریقہ سے چلانے ڈاکٹروں اور پارا میڈیکل اسٹاف کے BHAVYA پورٹل پررجسٹریشن، ڈیوٹی روسٹروں کی آن لائن انٹری، اور تمام دستیاب طبی سہولیات کے بارے میں تازہ ترین معلومات درج کر نے کو ضروری قرار دیا گیا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی کسی مریض کو ریفر کرنے سے پہلے، متعلقہ ڈاکٹر کو یقینی بنانا ہو گا کہ ضروری طبی سہولت اس ادارہ میں دستیاب نہیں ہے۔ ہر ریفرل کے لیے واضح وجہ لازمی ہوگی، اور مریض کے پیسنٹ جرنی کو BHAVYA پورٹل پر مکمل طور پر اپ ڈیٹ کر تے ہوئے مریض یا ان کے اہل خانہ کو کمپیوٹرائزڈ کاپی فراہم کی جائے گی۔ نازک مریضوں کو ریفر کرنے سے پہلے ان کو مستحکم کرنے اور انہیں سرکاری ALSA/BLSA ایمبولینسوں میں بھیجنے کی ہدایات بھی دی گئی ہیں۔ ریفرل سسٹم کی نگرانی کے لیے، ہر ضلع میں ایک ضلعی سطح کی نگرانی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جس کی صدارت ضلعی افسر کوکرتا ہے۔ یہ کمیٹی ریفرل کیسز کا باقاعدگی سے جائزہ لے گی اور اس بات کو یقینی بنائے گی کہ غیر ضروری ریفر کو روکنے کے لیے ضروری کارروائی کی جائے۔ ریاستی سطح پر ایک نوڈل افسر کو بھی نامزد کیا گیا ہے، جو تمام اضلاع کے ساتھ باقاعدگی سے جائزہ لیں گے اور نظام کی مسلسل نگرانی کریں گے۔محکمہ صحت نے واضح کیا ہے کہ مستقبل میں ان رہنما خطوط پر موثر عمل درآمد سے مریضوں کو ان کے قریبی سرکاری اسپتالوں میں بہتر اور بروقت علاج کی سہولت ملے گی، سرکاری صحت کے اداروں کی کارکردگی میں اضافہ ہوگا اور ریاست کے ریفرل سسٹم کو مزید شفاف، جوابدہ اور مضبوط بنایا جائے گا۔