جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
احتجاج کے دوران طلبہ پر لاٹھیاں برسائی گئی، ڈاک بنگلہ چوراہا میدانِ جنگ میں تبدیل کئی زخمی، ایس پی بھی پتھر کی زد میں
  1. ہوم
  2. بہار
بہار

احتجاج کے دوران طلبہ پر لاٹھیاں برسائی گئی، ڈاک بنگلہ چوراہا میدانِ جنگ میں تبدیل کئی زخمی، ایس پی بھی پتھر کی زد میں

Awaz E Bihar•28 ستمبر، 2026 کو 07:26 PM•15 ویوز•4 منٹ پڑھیں

پٹنہ، 28 ستمبر:(اے بی این ) راجدھانی پٹنہ میں پیر کو مختلف مطالبات کو لے کر سڑک پر اترے طلبہ، کسانوں اور مزدور تنظیموں کے احتجاج کے دوران زبردست ہنگامہ برپا ہوگیا۔ گاندھی میدان سے لوک بھون مارچ کے لیے نکلے مظاہرین کو ڈاک بنگلہ چوراہے کے قریب روکنے کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ ہوگئی۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پہلے واٹر کینن کا استعمال کیا، اس کے بعد لاٹھی چارج کیا۔ کارروائی کے دوران متعدد طلبہ و طالبات زخمی ہوئے، جبکہ کئی کے بے ہوش ہونے کی بھی اطلاع ہے۔ پولیس نے بڑی تعداد میں مظاہرین کو حراست میں لیا۔ پیر کی صبح مختلف بائیں بازو کی طلبہ، کسان اور مزدور تنظیموں سے وابستہ افراد گاندھی میدان میں جمع ہوئے۔ تقریباً دوپہر 12 بجے مجوزہ لوک بھون مارچ شروع ہونا تھا، تاہم مظاہرین مقررہ وقت سے پہلے ہی آگے بڑھنے لگے۔ پولیس نے انہیں روکنے کے لیے مختلف مقامات پر بیریکیڈنگ کر رکھی تھی۔مظاہرین گاندھی میدان سے جے پی گولمبر کی جانب بڑھے، جہاں پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش کی۔ اس دوران مظاہرین نے بیریکیڈ توڑ دیا اور پولیس سے الجھ گئے۔ بعد ازاں مارچ ڈاک بنگلہ چوراہے کی جانب بڑھا، جہاں پولیس نے مزید سختی کی۔
ڈاک بنگلہ چوراہے پر حالات قابو سے باہر ہوتے دیکھ کر پولیس نے تقریباً 12:50 بجے واٹر کینن کا استعمال کیا۔ اس کے باوجود مظاہرین پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہوئے اور بیریکیڈ ہٹانے کی کوشش جاری رکھی۔ تقریباً 1:15 بجے مظاہرین نے دوبارہ بیریکیڈ توڑ کر آگے بڑھنے کی کوشش کی، جس کے بعد پولیس نے لاٹھی چارج شروع کردیا۔پولیس کارروائی میں نرسنگ اور پیرا میڈیکل کے متعدد طلبہ و طالبات بھی زد میں آئے۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے انہیں دوڑایا۔ کئی طلبہ زخمی ہوئے، جبکہ بعض طلبہ و طالبات کے بے ہوش ہونے کی بھی اطلاع ہے۔ زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال بھیجا گیا۔
احتجاج میں نرسنگ اور پیرا میڈیکل کے طلبہ کی بڑی تعداد بھی شامل تھی۔ رپورٹ کے مطابق بہار اسٹیٹ ہیلتھ سائنس یونیورسٹی کے مختلف کالجوں کے تقریباً 80 فیصد نرسنگ اور پیرا میڈیکل طلبہ امتحان میں فیل ہوئے ہیں۔ طلبہ اسی معاملے کو لے کر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو ہٹانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ڈاک بنگلہ چوراہے پر پولیس کارروائی کے دوران کئی طلبہ کی طبیعت بگڑ گئی۔ ایک نرسنگ طالبہ کی حالت زیادہ خراب ہونے کی اطلاع ہے۔ بتایا گیا کہ اسے پہلے سے دل سے متعلق پریشانی تھی اور پولیس کارروائی کے دوران اس کے سینے میں لاٹھی لگنے کے بعد اس کی حالت بگڑ گئی، جس کے بعد اسے ایمبولینس کے ذریعے اسپتال بھیجا گیا۔ایک طالب علم پولیس سے بچنے کے لیے اے ٹی ایم میں داخل ہوگیا، جہاں وہ بے ہوش ہوگیا۔ اسے بھی علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ ایک طالبہ سڑک پر گر کر بے ہوش ہوگئی، جبکہ دیگر کئی طالبات کی حالت بگڑنے کے بعد انہیں اسپتال لے جایا گیا۔
احتجاج کے دوران مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کی بھی اطلاع ہے۔ ایک پتھر پٹنہ دیہی ایس پی کومل مینا کے ہیلمٹ سے ٹکرایا۔ رپورٹ کے مطابق ہیلمٹ پہننے کی وجہ سے ان کے سر پر سنگین چوٹ نہیں آئی، تاہم انہیں پتھر لگنے کی بات سامنے آئی ہے۔ ایک خاتون صحافی کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔پتھراؤ کے بعد پولیس نے دوبارہ لاٹھی چارج کرتے ہوئے مظاہرین کو پیچھے دھکیل دیا اور متعدد افراد کو حراست میں لے لیا۔ حراست میں لیے گئے مظاہرین کو بسوں میں بٹھا کر پولیس ساتھ لے گئی۔
گاندھی میدان سے شروع ہونے والااحتجاج تقریباً پانچ گھنٹے کی گہماگہمی کے بعد ڈاک بنگلہ چوراہے پر منتشر ہوا۔ دوپہر تقریباً 2:40 بجے پولیس نے ڈاک بنگلہ چوراہے کو خالی کرانے کی کارروائی شروع کی۔ مظاہرین کو مختلف راستوں سے پیچھے دھکیلا گیا۔ پولیس کارروائی سے بچنے کے لیے طلبہ و طالبات سمیت متعدد مظاہرین ادھر ادھر بھاگتے رہے۔تقریباً 3 بجے ڈاک بنگلہ چوراہے کو مکمل طور پر خالی کرا لیا گیا۔ اس دوران علاقے میں افراتفری کی صورت حال بنی رہی۔
یہ مارچ بائیں بازو سے وابستہ مختلف طلبہ، کسان اور مزدور تنظیموں کی جانب سے نکالا گیا تھا۔ مظاہرین کے مطالبات میں سیلاب متاثرین کو راحت اور معاوضہ، نئی کھاد پالیسی، نئی تعلیمی پالیسی، مہنگائی، بے روزگاری، خواتین کے ریزرویشن سمیت مختلف مسائل شامل تھے۔اس احتجاج میں آل انڈیا کسان سبھا، آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن، آل انڈیا یوتھ فیڈریشن، آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس، بھارتیہ مہیلا سنگھ، آشا سنگھ، رسوئیا سنگھ، آنگن باڑی سیوک و سہائیکا سنگھ، تعمیراتی مزدور سنگھ اور بہار اسٹیٹ کونسل سمیت مختلف تنظیموں کے کارکن شریک ہوئے۔احتجاج کے دوران پولیس کارروائی، طلبہ کے زخمی ہونے، پتھراؤ اور بڑی تعداد میں مظاہرین کی گرفتاری کے بعد پٹنہ میں کئی گھنٹوں تک کشیدگی اور افرا تفری کا ماحول بنا رہا۔
شیئر کریں:

More from بہار

94 لاکھ 71 ہزار افراد کی خون کی کمی کی جانچ، 18 لاکھ سے زائد میں انیمیا کی تصدیق
بہار

94 لاکھ 71 ہزار افراد کی خون کی کمی کی جانچ، 18 لاکھ سے زائد میں انیمیا کی تصدیق

29 ستمبر، 2026
اننت سنگھ و نیرج کمار کا تنازع اعلیٰ قیادت تک پہنچا
بہار

اننت سنگھ و نیرج کمار کا تنازع اعلیٰ قیادت تک پہنچا

29 ستمبر، 2026
حکام کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل کیا جائے گا، شہریوں کو ڈیجیٹل کاپیاں ملیں گی: ڈاکٹر دلیپ جیسوال
بہار

حکام کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل کیا جائے گا، شہریوں کو ڈیجیٹل کاپیاں ملیں گی: ڈاکٹر دلیپ جیسوال

29 ستمبر، 2026
بچوں کی مضبوط بنیاد سے ہی مضبوط ہوگا بہار: سمراٹ چودھری
بہار

بچوں کی مضبوط بنیاد سے ہی مضبوط ہوگا بہار: سمراٹ چودھری

29 ستمبر، 2026
17 برسوں سے خدمات انجام دے رہے تعلیم سیوک سڑک پر، گردنی باغ میں سات روزہ دھرنا
بہار

17 برسوں سے خدمات انجام دے رہے تعلیم سیوک سڑک پر، گردنی باغ میں سات روزہ دھرنا

29 ستمبر، 2026
اے ڈی ایم سپلائی و اہلیہ کے کئی بینک کھاتے سیل ہوں گے
بہار

اے ڈی ایم سپلائی و اہلیہ کے کئی بینک کھاتے سیل ہوں گے

29 ستمبر، 2026