خدا بخش لائبریری میں افکارِ گاندھی پر قومی سیمینار
پٹنہ، 29 ستمبر: گورنر بہار لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) سید عطا حسنین نے کہا ہے کہ بہار کا سماج ایک سلجھا ہوا اور باہمی میل جول پر یقین رکھنے والا سماج ہے، یہی سماجی استحکام ریاست کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ گاندھی جی نے بھی بہار کے سماجی مزاج کو محسوس کیا تھا۔ جسے من کی شانتی درکار ہو، اسے بہار آنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سماجی استحکام کسی بھی ترقی یافتہ ملک کے لیے ناگزیر ہے اور وکست بھارت کی تعمیر میں بہار کا اہم کردار ہوگا۔وہ منگل کو خدا بخش لائبریری میں مہاتما گاندھی کی 29 ستمبر 1925 کو لائبریری آمد کے 100 سال مکمل ہونے کے موقع پر منعقدہ دو روزہ قومی سیمینار کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ سیمینار کا موضوع ’’مہاتما گاندھی کا نظریۂ زبان، ادب اور ثقافت‘‘ رکھا گیا ہے۔گورنر نے خدا بخش لائبریری کو ’’نالج سوسائٹی کی علامت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا میں اس نوعیت کی لائبریریاں بہت کم دیکھنے کو ملتی ہیں۔ نادر مخطوطات اور قدیم کتابوں کو محفوظ رکھنا ایک بڑا چیلنج ہے، تاہم خدا بخش لائبریری نے اپنے قیمتی علمی ورثے کو نہایت سلیقے اور اہتمام کے ساتھ محفوظ رکھا ہے۔ اس تاریخی سیمینار کا افتتاح گورنر بہار اور خدا بخش لائبریری بورڈ کے چیئرمین سید عطا حسنین نے شمع روشن کرکے کیا۔ اس موقع پر لائبریری کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد زاہد الحق نے مہمانانِ گرامی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ 29 ستمبر 1925 کو گاندھی جی کی خدا بخش لائبریری آمد ادارے کے لیے ایک تاریخی اور قیمتی اثاثہ ہے۔ آج اس تاریخی لمحے کی صد سالہ یاد منائی جا رہی ہے، جو لائبریری کے علمی مزاج کے عین مطابق ہے۔ پروفیسر رام وچن رائے، چیئرمین بہار قانون ساز کونسل نے کہا کہ خدا بخش لائبریری میں گاندھی جی کی آمد نے اسے ایک طرح سے ’’تیرتھ‘‘ بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زبان، ادب اور ثقافت ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ گاندھی جی دیسی بھاشاؤں کے حامی اور ہندوستانی زبان کے وکیل تھے۔ سابق چیف سکریٹری حکومتِ بہار عامر سبحانی نے سیمینار کے انعقاد کو ڈاکٹر محمد زاہد الحق کی قابلِ قدر علمی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ خدا بخش لائبریری میں گاندھی جی کی آمد نیک فال ثابت ہوئی اور یہ تاریخی واقعہ اب لائبریری کی تاریخ کا مستقل حصہ بن چکا ہے۔ اس موقع پر خدا بخش لائبریری جرنل کے جنوری تا دسمبر 2025 کے مشترکہ شمارے کا اجرا بھی عمل میں آیا۔ شمارے کی نمایاں خصوصیت اردو کے ادبی رسائل کی تاریخ میں پہلی مرتبہ شائع ہونے والا ’’کلیم الدین احمد خصوصی نمبر‘‘ ہے، جس میں اردو، ہندی، انگریزی اور فارسی زبانوں کے مضامین شامل ہیں۔ افتتاحی اجلاس کے بعد اروند موہن نے کلیدی خطبہ پیش کیا، جس میں انہوں نے زبان، ادب اور ثقافت کے حوالے سے گاندھی جی کے تصورات اور افکار کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ اجلاس کی صدارت پروفیسر رام وچن رائے نے کی۔سیمینار کے پہلے سیشن کا موضوع ’’گاندھی جی کا نظریۂ ادب‘‘ تھا، جس کی صدارت ابھے کمار ٹھاکر، آئی آر ایس، پرنسپل کمشنر، انکم ٹیکس، پٹنہ اور پروفیسر صفدر امام قادری، سابق صدر شعبۂ اردو، کالج آف کامرس نے کی۔ سیشن میں گاندھی جی کے نظریۂ ادب، نئی تعلیم، اخلاقی و روحانی فکر اور حقیقت پر مبنی ادب سمیت مختلف پہلوؤں پر مقالے پیش کیے گئے۔دوسرے سیشن میں ’’گاندھی کا نظریۂ سماج‘‘ کے موضوع پر دانشوروں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ سیشن کی صدارت پروفیسر اودھیش پردھان اور پروفیسر گیان دیو منی ترپاٹھی نے کی۔ مختلف مقررین نے گاندھی جی کے سماجی تصورات اور ان کی معنویت پر روشنی ڈالی۔ دونوں سیشنوں میں ریسرچ اسکالروں اور دانشوروں نے سوالات بھی کیے، جن کے مقررین نے تفصیلی جوابات دیے۔سیمینار کا دوسرا مرحلہ 30 ستمبر کو ہوگا، جس میں تعلیم، ثقافت اور زبان کے تعلق سے گاندھی جی کے نظریات و تصورات پر مزید تین سیشنوں میں تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔