بہار میں سیلاب کی تباہی برقرار، 13 اضلاع کے 77 بلاکس میں 29 لاکھ سے زائد آبادی متاثر
Awaz E Bihar••74 ویوز•4 منٹ پڑھیں
پٹنہ:(اے بی این ) بہار میں سیلاب کی صورتحال بدستور سنگین بنی ہوئی ہے۔ گنگا سمیت کئی بڑی ندیاں خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں اور سیلابی پانی تیزی سے نئے علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ 13 اضلاع کے 77 بلاکس کی 438 پنچایتوں کی 29.13 لاکھ سے زیادہ آبادی سیلاب سے متاثر ہوئی ہے۔ متعدد مقامات پر سڑکیں، رابطہ راستے، کھیت اور رہائشی علاقے زیرآب آنے سے عام زندگی بری طرح متاثر ہے۔ رپورٹ کے مطابق گنگا کی صورتحال سب سے زیادہ تشویشناک ہے۔ پٹنہ کے گاندھی گھاٹ پر پانی کی سطح خطرے کے نشان سے اوپر پہنچنے کے ساتھ ہی سابقہ بلند ترین سطح کا ریکارڈ بھی متاثر ہوا ہے۔ بھاگلپور، منگیر، کہل گاؤں اور سلطان گنج سمیت متعدد مقامات پر گنگا کا پانی خطرناک سطح تک پہنچ گیا ہے۔دوسری جانب گنڈک، کوسی، بوڑھی گنڈک، پون پون اور گھاگھرا سمیت کئی ندیاں بھی مختلف مقامات پر خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں۔ اس کے نتیجے میں دریائی اور نشیبی علاقوں میں رہنے والی بڑی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ بھاگلپور ضلع میں سیلابی صورت حال انتہائی تشویشناک ہے۔ این ایچ-80 پر پانی جمع ہونے کے باعث بھاگلپور-سلطان گنج کے درمیان گاڑیوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے۔ کئی علاقوں میں سیلابی پانی گھروں اور سڑکوں تک پہنچ گیا ہے، جبکہ لوگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے کشتیوں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔ضلع کے دریائی علاقوں میں پانی کی تیز رفتار آمد نے انتظامیہ کے لیے بھی چیلنج بڑھا دیا ہے۔ حساس مقامات پر امدادی اور بچاؤ ٹیموں کو الرٹ رکھا گیا ہے۔ سیلاب نے دارالحکومت پٹنہ کے دیہی علاقوں کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ گنگا، پون پون اور دیگر ندیوں کے پانی میں اضافے کے بعد ضلع کے 11 بلاکس کی 44 پنچایتیں سیلاب سے گھری ہوئی ہیں۔ کئی مقامات پر سڑکوں پر پانی جمع ہونے سے آمدورفت متاثر ہوئی ہے اور لوگوں کو ضروری کاموں کے لیے کشتیوں کا استعمال کرنا پڑ رہا ہے۔پٹنہ کے نشیبی علاقوں میں انتظامیہ کی جانب سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے، جبکہ متاثرہ لوگوں تک خوراک، پینے کا صاف پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیا پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سیلاب کا دائرہ مسلسل پھیلنے سے متعدد اضلاع میں دیہی آبادی سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔ کئی گاؤں کا ضلعی اور بلاک ہیڈکوارٹر سے زمینی رابطہ متاثر ہوا ہے۔ کھیتوں میں پانی بھرنے سے فصلوں کو نقصان کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے کشتیوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ انتظامیہ نے حساس علاقوں میں امدادی ٹیموں کو تعینات کر رکھا ہے تاکہ پانی بڑھنے کی صورت میں فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کیا جاسکے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے سیلاب متاثرین کے لیے کمیونٹی کچن، ریلیف کیمپ، طبی کیمپ اور کشتیوں کے ذریعے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف کی ٹیمیں بھی تعینات ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سینکڑوں کشتیاں لوگوں کی آمدورفت، امداد کی ترسیل اور ضرورت پڑنے پر انخلا کے کام میں استعمال کی جا رہی ہیں۔طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے میڈیکل کیمپ اور بوٹ ایمبولینس بھی چلائی جا رہی ہیں تاکہ پانی میں گھرے علاقوں کے مریضوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جاسکے۔حکام کے مطابق گنگا کی سطح کئی مقامات پر تشویشناک بنی ہوئی ہے۔ پٹنہ میں گنگا کے ساتھ پون پون اور دردھا ندیوں نے بھی انتظامیہ کی مشکلات بڑھائی ہیں۔ تاہم تازہ ترین اپ ڈیٹ میں بعض مقامات پر گنگا کے پانی میں معمولی کمی کے آثار بھی سامنے آئے ہیں۔ آبی وسائل کے وزیر وجے کمار چودھری نے آنے والے دنوں میں صورتحال معمول پر آنے کی امید ظاہر کی ہے، تاہم حساس علاقوں میں نگرانی برقرار رکھنے کی بات کہی ہے۔ حکومت کی جانب سے ضلعی انتظامیہ کو پشتوں کی مسلسل نگرانی، کمزور مقامات کی فوری مرمت، متاثرہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے اور خوراک و ادویات کی دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری نے بھی سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے راحت و بچاؤ کاموں کا جائزہ لیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ متاثرین تک امداد پہنچانے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔