جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
ریاست میں ماہی پروری کو فروغ دینے کیلئے جامع منصوبہ بنائیں: سمراٹ
  1. ہوم
  2. بہار
بہار

ریاست میں ماہی پروری کو فروغ دینے کیلئے جامع منصوبہ بنائیں: سمراٹ

Awaz E Bihar•13 اگست، 2026 کو 06:20 PM•136 ویوز•4 منٹ پڑھیں

پٹنہ، 13 اگست:(اے بی این ) بہار میں ماہی پروری کے شعبے کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کے لیے ریاستی حکومت نے ’’ویژن 2030۔ بہار فشریز پریوریٹی پروجیکٹ‘‘ پر کام تیز کر دیا ہے۔ حکومت کا ہدف بہار کو ملک کی سرکردہ اندرونِ ملک ماہی پروری ریاستوں میں شامل کرنا اور مچھلی کی پیداوار کے ساتھ ماہی گیر خاندانوں کی آمدنی، روزگار اور کاروباری مواقع میں نمایاں اضافہ کرنا ہے۔ اس مقصد کے تحت پیداوار سے لے کر پروسیسنگ، ویلیو ایڈیشن اور مارکیٹنگ تک ماہی پروری کی پوری ویلیو چین کو مضبوط بنانے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے جمعرات کو لوک سیوک آواس واقع ’سنکلپ‘ آڈیٹوریم میں ’’ویژن 2030۔ بہار فشریز پریوریٹی پروجیکٹ‘‘ کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ ریاست میں ماہی پروری کے جامع فروغ کے لیے ایک واضح، مرحلہ وار اور عملی ایکشن پلان تیار کرکے اس پر تیزی سے عمل شروع کیا جائے۔
ویژن 2030 کے تحت 8 ترجیحی منصوبوں کے ذریعے ریاست کے مختلف علاقوں میں خصوصی فشریز کلسٹر تیار کرنے کی تجویز ہے۔ ان منصوبوں کے تحت 1,848.75 ہیکٹر کے براہِ راست مداخلتی علاقے اور 9,357 ہیکٹر کے پروجیکٹ زیرِ اثر علاقے کو ترقی دی جائے گی۔ حکومت نے ان منصوبوں کے ذریعے مجموعی طور پر 50,200 میٹرک ٹن مچھلی کی پیداوار حاصل کرنے کا ہدف تجویز کیا ہے۔حکومت کا ماننا ہے کہ خصوصی فشریز کلسٹر قائم ہونے سے مقامی سطح پر مچھلی کی پیداوار، ذخیرہ، پروسیسنگ، پیکجنگ، نقل و حمل اور مارکیٹنگ سے وابستہ سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔ اس طرح ماہی پروری صرف مچھلی کی پیداوار تک محدود نہیں رہے گی بلکہ دیہی علاقوں میں روزگار اور آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ بن سکے گی۔
ماہی پروری کے امکانات اور مقامی آبی وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے سیوان، سارن، مونگیر، متھیلا اور موتیہاری میں مختلف نوعیت کے فشریز کلسٹر تیار کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔سیوان میں ویٹ لینڈ کلسٹر کی مجموعی ترقی، سارن میں میٹھے پانی کے بڑے جھینگے کی پیداوار، مونگیر میں کیج کلچر، متھیلا میں خصوصاً مدھوبنی علاقے میں ویٹ لینڈ پر مبنی ماہی پروری اور موتیہاری میں فش مجموعی کلسٹر کی ترقی کی تجویز ہے۔اس منصوبے کے ذریعے مختلف علاقوں کی قدرتی خصوصیات اور دستیاب آبی وسائل کے مطابق ماہی پروری کے جدید ماڈل کو فروغ دیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاست میں موجود آبی وسائل کا بہتر سے بہتر استعمال کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے جدید ٹیکنالوجی، سائنسی طریقوں اور جدید ماہی پروری تکنیک کو فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مچھلی کی پیداوار میں مسلسل اضافہ کے ساتھ ماہی گیر خاندانوں کی آمدنی میں بھی پائیدار اضافہ یقینی بنایا جائے۔انہوں نے افسران سے کہا کہ ماہی پروری کے شعبے میں کام کرنے والے لوگوں کو جدید تکنیک، تربیت اور ضروری سہولیات فراہم کی جائیں، تاکہ کم وسائل میں زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکے۔
وزیر اعلیٰ نے فشریز کوآپریٹو سوسائٹیز کو مزید مضبوط اور فعال بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ کوآپریٹو اداروں کی مہارت، پیداواری صلاحیت اور آمدنی بڑھانے کے لیے ضروری مدد فراہم کی جائے۔ماہی گیروں کی اسکل ڈویلپمنٹ، تکنیکی صلاحیت میں اضافہ، بہتر انتظام، جدید آلات اور پیداوار میں اضافے کے لیے معاونت فراہم کرنے سے ان کی معاشی حالت مضبوط ہوگی اور مجموعی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔
ان ترجیحی منصوبوں کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کے مقصد سے فشریز اینڈ ایکوا کلچر انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ (FIDF) اور پردھان منتری متسیا سمپدا یوجنا (PMMSY) کے ذریعے مالی مدد حاصل کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔حکومت کی توجہ صرف مچھلی کی پیداوار بڑھانے پر نہیں بلکہ پیداوار کے بعد کی پوری زنجیر کو ترقی دینے پر ہے۔ اس کے تحت پروسیسنگ، ویلیو ایڈیشن، کولڈ چین، مارکیٹنگ اور روزگار سے متعلق سرگرمیوں کو فروغ دینے کی کوشش کی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے کہا کہ بہار میں ماہی پروری کے شعبے میں وسیع امکانات موجود ہیں۔ ان امکانات کو معاشی ترقی میں تبدیل کرنے کے لیے پیداوار سے لے کر پروسیسنگ، ویلیو ایڈیشن اور مارکیٹنگ تک پوری ویلیو چین کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’ویژن 2030‘‘ ماہی پروری کو کسانوں اور ماہی گیروں کی آمدنی بڑھانے، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور بہار کی دیہی معیشت کو مضبوط بنانے کا مؤثر ذریعہ بنائے گا۔
میٹنگ میں ڈیری، ماہی اور مویشی پروری وسائل کے وزیر نند کشور رام، وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری دیپک کمار، چیف سیکریٹری پرتیے امرت، وزیر اعلیٰ کے سیکریٹری سنجے کمار سنگھ، کوآپریٹو محکمہ کے سیکریٹری دھرمیندر سنگھ، ڈیری، ماہی اور مویشی پروری وسائل کے سیکریٹری شرست کپل اشوک، ڈائریکٹر ماہی پروری تشار سنگلا سمیت دیگر سینئر افسران موجود تھے۔

شیئر کریں:

More from بہار

صنعت کاروں کو حکومت بہارہر ممکن  تعاون کرے گی : سمراٹ
بہار

صنعت کاروں کو حکومت بہارہر ممکن تعاون کرے گی : سمراٹ

1 اکتوبر، 2026
94 لاکھ 71 ہزار افراد کی خون کی کمی کی جانچ، 18 لاکھ سے زائد میں انیمیا کی تصدیق
بہار

94 لاکھ 71 ہزار افراد کی خون کی کمی کی جانچ، 18 لاکھ سے زائد میں انیمیا کی تصدیق

29 ستمبر، 2026
اننت سنگھ و نیرج کمار کا تنازع اعلیٰ قیادت تک پہنچا
بہار

اننت سنگھ و نیرج کمار کا تنازع اعلیٰ قیادت تک پہنچا

29 ستمبر، 2026
حکام کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل کیا جائے گا، شہریوں کو ڈیجیٹل کاپیاں ملیں گی: ڈاکٹر دلیپ جیسوال
بہار

حکام کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل کیا جائے گا، شہریوں کو ڈیجیٹل کاپیاں ملیں گی: ڈاکٹر دلیپ جیسوال

29 ستمبر، 2026
بچوں کی مضبوط بنیاد سے ہی مضبوط ہوگا بہار: سمراٹ چودھری
بہار

بچوں کی مضبوط بنیاد سے ہی مضبوط ہوگا بہار: سمراٹ چودھری

29 ستمبر، 2026
17 برسوں سے خدمات انجام دے رہے تعلیم سیوک سڑک پر، گردنی باغ میں سات روزہ دھرنا
بہار

17 برسوں سے خدمات انجام دے رہے تعلیم سیوک سڑک پر، گردنی باغ میں سات روزہ دھرنا

29 ستمبر، 2026