17 اگست سے 4 مزید اقلیتی رہائشی اسکولوں میں گونجے گی علم کی گھنٹی
Awaz E Bihar••132 ویوز•4 منٹ پڑھیں
پٹنہ (اے بی این): اقلیتی طلبہ کو معیاری، جدید اور مسابقتی تعلیم سے جوڑنے کی سمت میں بہار حکومت نے بڑا قدم اٹھایا ہے۔ ریاست کے چار مزید اقلیتی رہائشی اسکولوں میں 17 اگست سے تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز ہوجائے گا۔ جموئی، نالندہ، کیمور اور مظفرپور میں اسکولوں کی عمارتوں کی تعمیر مکمل ہوچکی ہے۔ ان اسکولوں میں طلبہ کو رہائشی سہولت کے ساتھ معیاری تعلیم اور مسابقتی امتحانات کی تیاری کا موقع بھی فراہم کیا جائے گا۔اقلیتی فلاح کے وزیر محمد زماں خان نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا مقصد ریاست کے ہر ضلع میں ایک اقلیتی رہائشی اسکول قائم کرنا ہے۔ فی الحال 24 اضلاع میں ان اسکولوں کی تعمیر کی منظوری دی جاچکی ہے۔ چار نئے اسکولوں میں 17 اگست سے پڑھائی شروع ہونے کے بعد ریاست میں اقلیتی بچوں کے لیے تعلیمی مواقع مزید وسیع ہوں گے۔ محکمہ کے مطابق پورنیہ، مدھوبنی، گیا، جموئی، نالندہ، کیمور، کٹیہار، بیگوسرائے، مغربی چمپارن، سپول، مظفرپور، مدھے پورہ، پٹنہ، سہرسہ، مونگیر، سیوان، مشرقی چمپارن، بھاگلپور، ارریہ، گوپال گنج، روہتاس اور بکسر سمیت 24 اضلاع میں اقلیتی رہائشی اسکولوں کی تعمیر کی منظوری دی گئی ہے۔جموئی، نالندہ، کیمور اور مظفرپور میں تعمیراتی کام مکمل ہونے کے بعد اب یہاں تعلیمی سرگرمیوں کے آغاز کی تیاری مکمل کرلی گئی ہے۔ جموئی اور کیمور میں ابتدائی طور پر کیمپ کے ذریعے تعلیمی سرگرمیاں چلائی جائیں گی۔ اقلیتی رہائشی اسکولوں میں اساتذہ کی کمی دور کرنے کے لیے حکومت نے TRE-4 کے ذریعے 288 اساتذہ کی تقرری کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر نے بتایا کہ اس سلسلے میں بہار پبلک سروس کمیشن کو ریکوزیشن بھیجی جاچکی ہے۔فی الحال 13 اقلیتی رہائشی اسکولوں کے لیے 481 تدریسی اور غیر تدریسی عہدوں کی منظوری حاصل ہے۔ اس کے علاوہ 71ویں بی پی ایس سی امتحان کے ذریعے ایک ڈسٹرکٹ ویلفیئر آفیسر اور 459 بلاک اقلیتی بہبود افسران کی تقرری کے لیے بھی کمیشن کو درخواست بھیجی گئی ہے محکمہ اب رہائشی اسکولوں کو صرف روایتی اسکولی تعلیم تک محدود رکھنے کے بجائے طلبہ کو JEE، NEET، BPSC اور دیگر مسابقتی امتحانات کے لیے بھی تیار کرے گا۔ جلد ہی آن لائن کلاسز اور کوچنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی۔وزیر نے کہا کہ اقلیتی طلبہ کو اعلیٰ تعلیم اور سرکاری ملازمتوں کے مسابقتی امتحانات میں آگے لانے کے لیے کوچنگ پروگرام کو مزید مؤثر بنایا جارہا ہے۔ ریاستی کوچنگ اسکیم کے نتائج بھی حوصلہ افزا رہے ہیں۔ اس سال اسکیم کے تحت تربیت حاصل کرنے والے 20 امیدوار JEE جبکہ 38 امیدوار NEET میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اقلیتی رہائشی اسکولوں کے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات میں بھی تقریباً 90 فیصد طلبہ نے فرسٹ ڈویژن حاصل کیا۔کشن گنج اقلیتی رہائشی اسکول کے پانچ طلبہ نے ضلع کے ٹاپرس میں جگہ بناکر اسکول اور محکمہ کا نام روشن کیا ہے۔ اقلیتی فلاح کے وزیر نے کہا کہ حکومت کا مقصد مدرسہ طلبہ کو بھی جدید تعلیم اور روزگار کی دوڑ سے جوڑنا ہے۔ اسی مقصد کے تحت مدارس کے طلبہ کو ہنرمندی کے فروغ کے پروگراموں سے منسلک کیا جائے گا۔یہ تربیتی پروگرام حکومت ہند کے ادارے نیشنل سمال انڈسٹریز کارپوریشن لمیٹڈ کے تعاون سے منعقد ہوگا۔ اس کے ذریعے طلبہ کو مختلف شعبوں میں عملی تربیت دے کر روزگار اور خود روزگاری کے بہتر مواقع فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ وزیر نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 میں بہار سے 2526 عازمین حج نے سفر کیا، جبکہ مالی سال 2026-27 کے لیے اب تک 3637 درخواستیں موصول ہوچکی ہیں۔ چیف منسٹر انٹرپرینیور اسکیم کے تحت مالی سال 2025-26 میں 1247 مستفیدین کو 100 کروڑ روپے کا قرض فراہم کیا گیا۔ اب تک مجموعی طور پر 3741 مستفیدین کو 270 کروڑ روپے کا قرض دیا جاچکا ہے۔ وزیر نے کہا کہ اقلیتی فلاح کا مقصد صرف اسکولوں کی تعداد بڑھانا نہیں، بلکہ اقلیتی نوجوانوں کو تعلیم، ہنر، مسابقتی امتحانات اور روزگار کے مواقع سے جوڑ کر انہیں ترقی کی مرکزی دھارے میں لانا ہے۔اس موقع پر محکمہ کے سیکریٹری محمد سہیل، اسپیشل سیکریٹری کم ڈائریکٹر ڈاکٹر عامر آفاق احمد فیضی، ایڈیشنل سکریٹری ابرار احمد خان سمیت محکمہ کے دیگر افسران موجود تھے۔