الفاظ اور تقریروں کے ذریعے بار بار اپنا اصلی چہرہ دکھا رہے ہیں گاندھی: گوئل
Awaz E Bihar••18 ویوز•5 منٹ پڑھیں
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے وزیر اعظم نریندر مودی کو غدار کہے جانے پر کانگریس رہنما راہل گاندھی کو آڑے ہاتھوں لیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنے الفاظ اور تقریروں کے ذریعے بار بار اپنی اصل فطرت اور کردارکوظاہرکر رہے ہیں۔ مرکزی وزیر برائے تجارت و صنعت پیوش گوئل نے جمعرات کو بی جے پی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "آج میں آپ کے سامنے ایک بہت ہی اہم سفارتی دورے کو اجاگر کرنے کے لیے حاضر ہوا ہوں، جسے مسٹر مودی نے آج مکمل کیا ہے۔ پانچ دنوں میں پانچ ممالک کے دورے کے دوران جس طرح سے ہندوستان نے اپنے نقوش چھوڑے، جس گرمجوشی کے ساتھ وزیر اعظم کا ان تمام پانچ ممالک میں مختلف پروگراموں کے دوران استقبال کیا گیا، ہندوستانی برادری کی جانب سے انہیں جوعزت و احترام ملا اور ہندوستان کو ملنے والے تین بین الاقوامی اعزازات، جن میں دو ممالک اور فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) کے ذریعے وزیر اعظم کو نوازا گیا، وہ ہر ہندوستانی کے لیے فخر کی بات ہے۔" انہوں نے کہا، "یہ صرف سفارتی اور سیاسی اسٹیج پر کیا گیا ایک بین الاقوامی دورہ ہی نہیں تھا، بلکہ اس نے ہندوستان کے مستقبل کے لیے اہم نتائج پیدا کیے ہیں۔ چاہے وہ ہندوستان کی ترقی کی مستقبل کی حکمتِ عملی سے متعلق ہو، ہندوستان کے اقتصادی سفر سے یا آنے والے دنوں میں ہندوستان کی صلاحیتوں کو وسعت دینے سے، خود انحصاری کو مضبوط کرنے سے یا یہ یقینی بنانے سے کہ عام لوگوں کو ان کی روزمرہ کی زندگی میں ضروری اشیاء آسانی سے دستیاب ہوں، ہر طرح سے یہ دورہ کارآمد ثابت ہوا ہے۔" اس دوران انہوں نے مسٹر گاندھی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک طرف پوری دنیا ہندوستان اور وزیر اعظم کی طرف بہت بھروسے کے ساتھ دیکھتی ہے، وہیں دوسری طرف مسٹر گاندھی اپنے الفاظ اور تقریروں کے ذریعے بار بار اپنی اصل فطرت اور کردار دکھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، "ہندوستان کے عوام انہیں بار بار مسترد کر رہے ہیں اور وہ ایک کے بعد ایک الیکشن ہار رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے جو مایوسی اور ایک طرح کی جھنجھلاہٹ ان میں پیدا ہوئی ہے، وہ ان کے رویے میں صاف جھلکتی ہے۔ وہ جس طرح سے نازیبا الفاظ کا استعمال کرتے ہیں اور وزیر اعظم کے بارے میں توہین آمیز باتیں کرتے ہیں، وہ قابلِ مذمت ہے۔" اس دوران مرکزی وزیر نے کہا کہ جس طرح سے کانگریس پارٹی اور گاندھی خاندان دراندازوں کی حمایت کرتے ہیں، وہ 'غداری‘ ہے۔ انہوں نے سوال کیا، "کیا عالمی سطح پر ترنگے کا وقار بڑھانا 'غداری‘ کہلائے گا، یا بیرونِ ملک جا کر ہندوستان کے ترنگے کی توہین کرنا 'غداری‘ مانا جائے گا؟ انہوں نے سوال کیا کہ کیا دہشت گردی کی کمر توڑنا، دہشت گردی کو منہ توڑ جواب دینا غداری مانا جاتا ہے؟ یا دہشت گردوں کو بریانی کھلانا یا دہشت گردوں کے ساتھ سمجھوتہ کرنا غداری مانا جاتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی جس زبان کا استعمال کرتے ہیں، اسے انگریزی میں 'گالیاں کمزوروں کا ہتھیار ہوتی ہیں' کہا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا، "ملک اب مسٹر گاندھی کی کمزوریوں، گاندھی خاندان اور کانگریس پارٹی کی ناکامیوں اور مسٹر مودی کی قیادت میں دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت نیز عالمی سطح پر ہندوستان کے وقار کو دیکھ رہا ہے۔" انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے 50 سے زیادہ بڑی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز (سی ای او) سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔ ان میں بین الاقوامی سطح کی 'فارچیون 500' کمپنیاں بھی شامل ہیں، جو ان کارپوریشنوں کی قیادت اور انتظام سنبھال رہی ہیں۔ ان کے ساتھ ہندوستان میں مزید سرمایہ کاری، تجارت اور تعلقات کو مضبوط کرنے کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔ اگر ہم صرف ان کمپنیوں کی مارکیٹ ویلیو کا اندازہ لگائیں جن کی نمائندگی ان سی ای اوز نے کی جن کے ساتھ وزیر اعظم نے گفتگو کی، تو ان کی کل مالیت تیس لاکھ کروڑ ڈالر سے بھی زیادہ ہے۔" انہوں نے کہا، "آج پوری دنیا ہندوستان کو ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر دیکھتی ہے۔ آج پوری دنیا ہندوستان کو ایک پسندیدہ عالمی منزل کے طور پر دیکھتی ہے۔ میرا ماننا ہے کہ یہ صرف ایک اتفاق نہیں ہے، بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی ہے۔" مرکزی وزیر نے کہا، "میرا ماننا ہے کہ وزیر اعظم ایسے وقت میں ملک کی قیادت کر رہے ہیں، جب دنیا میں بہت زیادہ غیر یقینی صورتحال ہے۔ مختلف ممالک جنگ کی زد میں آ گئے ہیں۔ ایسی صورتحال میں یورپ اور ہندوستان ایک دوسرے کے دوست اور شراکت دار کی طرح ہیں۔ وہ ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والے ہیں۔ ان میں مسابقت کم اور شراکت داری زیادہ ہے۔" پریس کانفرنس کے دوران بی جے پی کے قومی میڈیا چیف انل بلونی اور شریک میڈیا -چیف ڈاکٹر سنجے میوکھ بھی موجود تھے۔