جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
سیمانچل کے ساتھ سوتیلا سلوک بند کرے حکومت :اخترالایمان
  1. ہوم
  2. بہار
بہار

سیمانچل کے ساتھ سوتیلا سلوک بند کرے حکومت :اخترالایمان

Awaz E Bihar•21 جولائی، 2026 کو 07:44 PM•11 ویوز•4 منٹ پڑھیں

پٹنہ، نمائندہ: بہار اسمبلی کے مانسون اجلاس کے دوسرے دن آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے بہار مقننہ لیڈر اور جوکی ہاٹ سے رکن اسمبلی اخترالایمان نے ریاست میں ندی کٹاؤ، سالانہ سیلاب، ٹوٹے ہوئے پلوں، سیمانچل کی مسلسل نظراندازی اور حکومت کے ترقیاتی دعووں کو لے کر ایوان کے احاطہ میں زبردست احتجاج کیا۔ ہاتھوں میں مختلف مطالبات پر مشتمل پلے کارڈ اٹھائے اخترالایمان نے حکومت سے سوال کیا کہ اگر بہار ترقی کی راہ پر گامزن ہے تو پھر سیمانچل کے عوام آج بھی بنیادی سہولتوں سے کیوں محروم ہیں۔
احتجاج کے دوران انہوں نے "ٹوٹا پل، کیا یہی بہار کی ترقی؟"، "ندی کٹاؤ کا کھیل، وکاس کا ڈھول، کٹاؤ کا مول، سرکار جواب دے"، "سیلاب سے ہر سال تباہی، کب ملے گی رہائی؟"، "کٹاؤ اور ترقی کے معاملے میں بہار حکومت پوری طرح فیل" اور "سیمانچل کے ساتھ سوتیلا سلوک کب تک؟" جیسے نعروں کے ذریعے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔
اخترالایمان نے کہا کہ بہار کے شمال مشرقی اضلاع، خصوصاً کشن گنج، ارریہ، پورنیہ اور کٹیہار ہر سال سیلاب اور ندی کٹاؤ کی تباہ کاریوں کا سامنا کرتے ہیں۔ ہزاروں خاندان بے گھر ہوتے ہیں، سینکڑوں دیہات متاثر ہوتے ہیں، زرعی زمینیں دریاؤں میں سما جاتی ہیں اور عوام کی برسوں کی محنت چند دنوں میں برباد ہو جاتی ہے، مگر حکومت کی جانب سے مستقل نوعیت کا کوئی منصوبہ سامنے نہیں آ سکا۔
انہوں نے کہا کہ ہر سال برسات کے موسم میں حکومت کی جانب سے جائزہ اجلاس، اعلانات اور راحت کاری کے دعوے ضرور کیے جاتے ہیں، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ متاثرہ علاقوں میں نہ مضبوط بند تعمیر کیے گئے، نہ ندی کٹاؤ روکنے کے مؤثر انتظامات ہوئے اور نہ ہی متاثرین کی مستقل بازآبادکاری کو یقینی بنایا گیا۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ سیمانچل کے عوام آج بھی عدم تحفظ اور بے یقینی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
اخترالایمان نے حکومت کے ترقیاتی دعووں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر ریاست واقعی ترقی کر رہی ہے تو پھر ٹوٹے ہوئے پل، خستہ حال سڑکیں، کٹتے ہوئے دریا کے کنارے اور ہر سال سیلاب سے تباہ ہونے والی بستیاں کس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ترقی صرف اعداد و شمار اور اشتہارات سے ثابت نہیں ہوتی بلکہ اس کا اندازہ عوام کی زندگی میں آنے والی بہتری سے لگایا جاتا ہے، اور سیمانچل کے عوام آج بھی اس بہتری سے محروم ہیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ ریاستی حکومت نے ترقیاتی منصوبوں میں سیمانچل کے ساتھ مسلسل امتیازی رویہ اختیار کیا ہے۔ ان کے مطابق ریاست کے دیگر علاقوں میں بنیادی ڈھانچے پر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، جبکہ سیمانچل میں سیلاب، ندی کٹاؤ، سڑک، پل، صحت اور تعلیم جیسے بنیادی مسائل برسوں سے جوں کے توں ہیں۔
اخترالایمان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ندی کٹاؤ کو روکنے کے لیے جامع اور طویل مدتی ماسٹر پلان نافذ کیا جائے، سیمانچل کے سیلاب متاثرہ اضلاع کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا جائے، مضبوط حفاظتی بند اور اسپر تعمیر کیے جائیں، متاثرہ خاندانوں کو فوری اور مناسب معاوضہ دیا جائے، بے گھر افراد کی مستقل بازآبادکاری کی جائے اور اس پورے خطے کی ترقی کے لیے الگ اور مؤثر حکمت عملی اختیار کی جائے۔
اخترالایمان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ندی کٹاؤ کو مستقل بنیادوں پر روکنے کے لیے جامع ماسٹر پلان نافذ کیا جائے، سیمانچل کے سیلاب متاثرہ اضلاع کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا جائے، مضبوط حفاظتی بند اور اسپر تعمیر کیے جائیں، متاثرہ خاندانوں کو فوری اور مناسب معاوضہ دیا جائے، بے گھر افراد کی مستقل بازآبادکاری کو یقینی بنایا جائے اور سیلاب و کٹاؤ سے نمٹنے کے لیے جدید تکنیکی منصوبوں پر عمل درآمد کیا جائے۔ بعد ازاں انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب اور ندی کٹاؤ صرف موسمی مسئلہ نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کی زندگی، روزگار اور مستقبل کا سوال ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک سیمانچل کے عوام کو انصاف نہیں ملتا اور ان کے بنیادی مسائل کا مستقل حل نہیں نکالا جاتا، وہ اسمبلی کے اندر اور باہر اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اگر واقعی "ترقی یافتہ بہار" کا خواب پورا کرنا چاہتی ہے تو اسے صرف اشتہارات اور دعووں سے آگے بڑھ کر زمینی حقائق کا سامنا کرنا ہوگا۔ ترقی اس وقت معتبر ہوگی جب بہار کے آخری شخص، آخری گاؤں اور خاص طور پر سیمانچل کے عوام کو بھی یکساں سہولیات، تحفظ اور انصاف حاصل ہوگا۔
شیئر کریں:

More from بہار

صنعت کاروں کو حکومت بہارہر ممکن  تعاون کرے گی : سمراٹ
بہار

صنعت کاروں کو حکومت بہارہر ممکن تعاون کرے گی : سمراٹ

1 اکتوبر، 2026
94 لاکھ 71 ہزار افراد کی خون کی کمی کی جانچ، 18 لاکھ سے زائد میں انیمیا کی تصدیق
بہار

94 لاکھ 71 ہزار افراد کی خون کی کمی کی جانچ، 18 لاکھ سے زائد میں انیمیا کی تصدیق

29 ستمبر، 2026
اننت سنگھ و نیرج کمار کا تنازع اعلیٰ قیادت تک پہنچا
بہار

اننت سنگھ و نیرج کمار کا تنازع اعلیٰ قیادت تک پہنچا

29 ستمبر، 2026
حکام کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل کیا جائے گا، شہریوں کو ڈیجیٹل کاپیاں ملیں گی: ڈاکٹر دلیپ جیسوال
بہار

حکام کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل کیا جائے گا، شہریوں کو ڈیجیٹل کاپیاں ملیں گی: ڈاکٹر دلیپ جیسوال

29 ستمبر، 2026
بچوں کی مضبوط بنیاد سے ہی مضبوط ہوگا بہار: سمراٹ چودھری
بہار

بچوں کی مضبوط بنیاد سے ہی مضبوط ہوگا بہار: سمراٹ چودھری

29 ستمبر، 2026
17 برسوں سے خدمات انجام دے رہے تعلیم سیوک سڑک پر، گردنی باغ میں سات روزہ دھرنا
بہار

17 برسوں سے خدمات انجام دے رہے تعلیم سیوک سڑک پر، گردنی باغ میں سات روزہ دھرنا

29 ستمبر، 2026