ہلدوانی’ شُدھی کرن‘ تنازعہ میں شدت : کھرگے کا بی جے پی پر ذات پات کی خلیج کو گہرا کرنے کا الزام
Awaz E Bihar••27 ویوز•4 منٹ پڑھیں
کانگریس کے قومی صدر اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھرگے کی ایک عوامی ریلی کے بعد ہلدوانی کے رام لیلا میدان میں کی گئی 'تطهیر (شُدّھی کرن) کی رسم پر جمعرات کے روز سیاسی تنازعہ مزید شدت اختیار کر گیا۔ کانگریس نے بی جے پی پر ذات پات کے تعصب کو فروغ دینے کا الزام لگایا ہے، جبکہ حکمران جماعت نے اس واقعے سے خود کو الگ کر لیا ہے۔ مسٹر کھرگے نے اس رسم کی سخت مذمت کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ان کے جلسے کے بعد عوامی مقام پر 'ہون' کرانے کی کیا ضرورت تھی؟ انہوں نے الزام لگایا کہ اس واقعے نے بی جے پی کی دلت مخالف ذہنیت کو بے نقاب کر دیا ہے۔مسٹر کھرگے نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، "ہم شروع سے ہی کہتے آ رہے ہیں کہ اس ملک میں دلتوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ آخر وہاں 'ہون کرنے کی کیا ضرورت تھی؟"انہوں نے کہا کہ رام لیلا میدان ایک عوامی جگہ ہے جہاں تمام سیاسی جماعتیں باقاعدگی سے میٹنگیں کرتی ہیں، اور ان کے جلسے کے بعد شُدھی کرن کی رسم انجام دینا جمہوری اقدار اور ہندو مذہب کی روح دونوں کے خلاف ہے۔مسٹر کھرگے نے کہا، "ہر پارٹی کے لوگ رام لیلا میدان میں عوامی جلسے کرتے ہیں، لیکن وہاں جو کچھ کیا گیا وہ ہندو مذہب کے خلاف ہے۔ بی جے پی کے لوگ ملک کو تقسیم کرنے اور ذاتوں کے درمیان تصادم پیدا کرنے کا کام کر رہے ہیں۔ بی جے پی کے قول و فعل میں یہی فرق ہے، میں اس کی مذمت کرتا ہوں۔"یہ واقعہ 8 اگست کو ہلدوانی کے رام لیلا میدان میں کھرگے کی جانب سے 2027 کے اتراکھنڈ اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے سلسلے میں منعقدہ ایک ریلی کے بعد پیش آیا۔ رپورٹس کے مطابق، شری رام سینا کے ارکان نے اس جگہ کا شُدّھی کرن یا تطہیر کی رسم انجام دی اور اس اسٹیج کے قریب ہون کیا گیا جس کا استعمال کھرگے کے پروگرام کے لیے کیا گیا تھا، جس پر کانگریس کی طرف سے شدید ردِعمل سامنے آیا۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری (تنظیم) کے سی وینوگوپال نے اس واقعے پر وزیر اعظم نریندر مودی سے معافی کا مطالبہ کیا ہے۔ وینوگوپال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر لکھا، "یہ ایک صدمہ پہنچانے والا واقعہ ہے جو بی جے پی کا دلت مخالف کردار دکھاتا ہے، جس کے لیے پی ایم مودی کو معافی مانگنی چاہیے۔"انہوں نے مسٹر کھرگے کے سیاسی سفر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ایسے رہنما ہیں جنہوں نے بے شمار سماجی رکاوٹوں کو توڑ کر ہندوستانی سیاست میں اعلیٰ ترین مقام حاصل کیا ہے ، اور بی جے پی کا یہ عمل ڈاکٹر امبیڈکر اور ہمارے آئین کی روح کے خلاف ہے۔دوسری طرف، بی جے پی نے ان الزامات کو مسترد کر دیا کہ پارٹی نے اس رسم کی حمایت یا اسکا انتظام کیا تھا۔ راجیہ سبھا میں بی جے پی کے سابق صدر اور قائدِ ایوان جے پی نڈا نے اس واقعے کو افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ پارٹی اس طرح کے اقدامات کی حمایت نہیں کرتی۔مسٹر نڈا نے ایوان کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا، "کھرگے جی نے جو کہا وہ واقعی افسوسناک ہے - نہ صرف کانگریس پارٹی کے لیے بلکہ ہم سب کے لیے۔ اس معاملے کی جانچ کی جائے گی۔"پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے آخری دن مسٹر کھرگے اور مسٹر نڈا کے درمیان ہونے والے اس تبادلے نے ماحول کو گرم کر دیا، جس کے بعد راجیہ سبھا کے چیئرمین کو بھی دخل دینا پڑا اور انہوں نے زور دے کر کہا کہ چھوت چھات کی مذمت ہر کسی کو کرنی چاہیے۔2027 کے اتراکھنڈ اسمبلی انتخابات کے قریب آتے ہی ہلدوانی کا یہ تنازعہ سیاسی طور پر کافی اہم ہو گیا ہے، اور دونوں جماعتیں اس پر اپنے اپنے مواقف کا اظہار کر رہی ہیں۔